تقسیم کشمیر سے پہلے تین ماہ کے واقعات 1947:

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

24 اکتوبر 1947 کو ریاست جموں و کشمیر کی آزاد حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ 22 اکتوبر 47 ء کو قبائلی مظفر آباد داخل ہوئے۔ ان تاریخی واقعات کے حوالے سے یہ دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ کشمیر پر قبائلی حملے سے پہلے ریاست جموں و کشمیر میں کیا صورت احوال تھی۔ مسلم کانفرنس نے جولائی 46 کو قرار داد آزاد کشمیر منظور کی جو کشمیری عوام کے مطالبات کی بنیاد و عکاس ہے۔

قرار داد آزاد کشمیر۔ مجلس عاملہ کے اس تاریخی اجلاس کے بعد، جولائی 46ء میں مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل اور ممتاز کارکنوں کی ایک کنونشن چودھری غلام عباس خان کی صدارت میں سری نگر میں ہوئی۔ اس نے مجلس عاملہ کی 8 جون 46 ء والی قرارداد کی تائید کرتے ہوئے ”آزاد کشمیر“ کی تاریخی قرار داد منظور کی۔

”ہر گاہ کہ ہندوستان کے لئے نئے آئین کا ڈھانچا مرتب کرنے کا ڈول ڈالا جا رہا ہے اور برطانوی ہند کے صوبہ جات اور ہندوستانی ریاستوں کو ایک محدود اختیار والی یونین میں منسلک کرنے کے لئے جس آئین ساز اسمبلی کو تشکیل دیا جا رہا ہے اس میں دس کروڑ ریاستی باشندوں کی نمائندگی کے متعلق ذاتی سفارشات بالکل مبہم ہیں اور ریاستی عوام کو شبہ ہے کہ انہیں مطلق العنان شہزادگان کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔ مجلس عاملہ کی رائے میں آئین ساز اسمبلی میں ریاستی عوام کو بھی اسی طرح اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا حق دیا جائے جیسا کہ برطانوی ہند کے عوام کو حاصل ہے۔

بالخصوص جہاں تک ریاست جموں و کشمیر کا تعلق ہے مسلم کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں ریاست کشمیر کی طرف سے جو نمائندے بھیجے جائیں لازمی طور پر کشمیر اسمبلی کے منتخب ارکان کی طرف سے انتخاب کردہ ہونے چاہئیں اور ان کا تناسب و طریق انتخاب اسی طرح ہونا چاہیے جیسا کہ برطانوی ہند کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مجلس عاملہ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ مستقبل قریب میں جب ریاستوں کا ہندوستانی گروپوں میں شامل ہونا مقصود ہو تو کسی گروپ میں شمولیت کا حق صرف ریاستی عوام کو ہونا چاہیے۔

نیز ہر گاہ کہ آمریت اور جمہوریت کا دوش بدوش چل سکنا ممکن نہیں اور مجوزہ آئین ساز اسمبلی جو ہندوستان کے مختلف اجزا کے لئے آئین مرتب کرے گی اس کا انحصار آزاد اور جمہوری اصولوں پر ہو گا اس لئے ضروری ہے کہ ریاست جموں و کشمیر جو آبادی اور وسعت کے لحاظ سے صوبہ سرحد سے بہت بڑی اور سندھ کے برابر ہے، کا آئین بھی انہی اصولوں پر مرتب ہونا چاہیے۔ بنا بریں ضروری ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مطلق العنان اور غیر ذمہ دارانہ نظام حکومت کو فی الفور ختم کر دیا جائے اور عوام کو اپنی پسند کا آئین حکومت بنانے کا پورا پورا اختیار دیا جائے جو اپنے مخصوص حالات کے مطابق آزاد کشمیر کے لئے جس طرز کا آئین حکومت چاہئیں مرتب کریں۔

اس کام کو سر انجام دینے کی خاطر جموں و کشمیر کے لئے ایک آئین ساز اسمبلی کا قیام از بس ضروری ہے۔ مجلس عاملہ مہا راجا کشمیر سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لئے موجودہ الوقت مسلم کانفرنس کی پارلیمانی پارٹی کا اسمبلی سے استعفی۔ 28 ستمبر 1946 ء کو مسلم کانفرنس کی اسمبلی پارٹی نے قانون تحفظ امن و مفاد عامہ کے خلاف بطور احتجاج ایک ساتھ استعفیٰ دے دیا۔

اس موقع پر پارٹی کے لیڈر چودھری حمید اللہ خان مرحوم نے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا:
” میں اور میری پارٹی“ مسودہ قانون تحفظ امن و مفاد عامہ ”سے اظہار جرات کرتے ہیں جسے حکومت نمائندگان عوام کی مخالفت کے باوجود سرکاری ارکان کی اکثریت کے بل بوتے پر اس ایوان سے منظور کرانا چاہتی ہے یہ قانون عوام کے ابتدائی شہری حقوق اور سیاسی آزادی پر براہ راست حملہ ہے جو تھوڑی بہت آزادی مسلمانوں نے اپنا خون دے کر حاصل کی ہے مگر موجودہ وزیر اعظم کی پالیسی اس قدر مسلم کش اور رجعت پسندانہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو عام بغاوت اور جنگ آزادی پھر لڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔ ہم اس اسمبلی سے مستعفی ہوتے ہیں۔ ہم اب اس آٹھ سالہ فرسودہ اسمبلی کی اصل کو پا چکے ہیں۔“

مسلم کانفرنس کا تحریک چلانے کا فیصلہ۔ اسمبلی سے مسلم کانفرنس کی پارلیمانی پارٹی کا استعفیٰ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ مسلم کانفرنس نے اس سال اپنا سالانہ اجلاس مظفر آباد میں کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر وبائی بیماری کی وجہ سے اسے تبدیل کر کے سری نگر ہی میں سالانہ اجلاس 24 اکتوبر 46ء کو منعقد کرنے کا اعلان ہوا۔ مگر حکومت نے اس پر پابندی عائد کی۔ کیوں کہ یہ خیال عام تھا کہ اس میں راست اقدام کا اعلان کیا جائے گا۔

مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ نے اجلاس سے دو دن قبل اپنے ایک جلسے میں عام تحریک شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کیا اور اس کو ابتداء حکومت کی پابندی کو توڑتے ہوئے کیا جانا طے پایا مگر دوسرے دن ہی مجلس عاملہ کا ایک حصہ تحریک چلانے کا مخالف ہو گیا (یہ لوگ وزیر اعظم رام چند کاک سے مل چکے تھے) اس سے مجلس عاملہ اور جماعت کی قیادت کو ایک نازک صورت احوال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تو ٹھیک ہوا کہ مجلس عاملہ کی وہ قرار داد بھی پریس کو نہیں گئی تھی جس میں تحریک چلانے کا اعلان تھا آخر انتہائی مایوسی اور بے بسی کے عالم میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ صرف چودھری غلام عباس خان بحیثیت صدر اور آغا شوکت علی بحیثیت جنرل سیکرٹری اپنے آپ کو انفرادی طور پر گرفتاری کے لئے پیش کریں اور دیگر کارکن باہر رہ کر جماعت کے پروگرام کے مطابق کام کریں۔

چناں چہ 24 اکتوبر کی رات کو مسلم پارک (جامع مسجد) سری نگر میں مسلم کانفرنس کا سالانہ اجلاس چودھری غلام عباس خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اپنی صدارتی تقریر میں چودھری غلام عباس نے حکومت پر تند و تیز الفاظ میں نکتہ چینی کی اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ان کے ساتھ گرفتاری نہ دیں بلکہ باہر رہ کر جماعت کے پروگرام پر عمل کریں۔ اجلاس میں میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ، آغا شوکت علی اور مولوی نورالدین نے بھی تقریریں کیں۔

حکومت نے اسی رات کو چودھری غلام عباس خان آغا شوکت علی، اللہ رکھا ساغر اور مولوی نور الدین کو گرفتار کر کے نظر بند کر دیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ جماعت کے قائدین کا یہ فیصلہ کہاں تک درست تھا۔ اس بارے میں یہ بات دو ٹوک ہے کہ اجتماعی خلاف ورزی کے فیصلہ کو بدل کر انفرادی خلاف ورزی کا فیصلہ جماعت کے وقار کے لئے مضر ثابت ہوا۔ مجلس عامہ میں پھوٹ کے پیش نظر حالات کی نزاکت سے انکار نہیں ہے مگر جو بھی ہو، دور رس سیاسی حالات کا یہی تقاضا تھا کہ یا تو سرے سے ہی کوئی گرفتاری نہ دی جاتی ورنہ ”جماعتی غداروں“ کی پروا کیے بغیر تحریک شروع کی جاتی۔

اس امر سے کوئی بھی انکاری نہیں ہو گا کہ اگر جماعت اس وقت حکومت کے خلاف کوئی تحریک شروع کرتی تو کشمیری مسلمان اسی جوش ولولے اور والہانہ جذبات کے ساتھ اس کا ساتھ دیتے جس طرح انہوں نے 31 ء سے 35 ء تک کی شہرہء آفاق تحریکوں کا ساتھ دیا تھا۔ قائد کی گرفتاری کے بعد بعض نوجوانوں کا بدستور اصرار تھا کہ عام گرفتاری شروع کی جائے

چناں چہ مسلم کانفرنس کے صدر مجلس عمل میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا:
”حکومت نے انتہائی غیر دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے قائد ملت چودھری غلام عباس خان صاحب کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے ساتھ کچھ اور ساتھی قید کر دیے گئے۔ عوام میں سخت اشتعال پیدا ہوا ہے، ریاست کے مختلف مقامات سے مجھے مسلم کانفرنس کے کارکنوں اور عام مسلمانوں کی طرف سے یہ اجازت طلب کی جا رہی ہے کہ انہیں بھی اپنے قائد کے ساتھ گرفتار ہونے کی اجازت دی جائے۔ سری نگر میں بھی مسلمانوں کا یہی اصرار ہے مگر میں انہیں قائد کے حکم کے مطابق اس کی اجازت نہیں دے سکتا ہوں۔ قائد ملت نے گرفتاری سے قبل یہ واضح ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی کارکن گرفتاری نہ دے، اس لئے میں مسلمانان جموں و کشمیر سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ پر امن رہیں اور اپنے لیڈر کے حکم کے مطابق مسلم کانفرنس کے پروگرام پر عمل کریں“ ۔
(روزنامہ ”ہمدرد“ سری نگر)

مسلم کانفرنس نے پروگرام کے مطابق اپنا کام جاری رکھا مگر بد قسمتی سے صدر مجلس عمل میر واعظ محمد یوسف شاہ اور قائم مقام صدر مسلم کانفرنس چودھری حمید اللہ خان مرحوم کے درمیان نا خوش گوار کش مکش شروع ہوئی۔ دونوں نے اپنے لیڈر کی غیر حاضری میں قائم مقام ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس باہمی کشمکش نے جماعت کو کچھ وقت کے لئے دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اس نازک موقع پر جماعت کے وقار کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا۔

ڈوگرہ راج کی آخری اسمبلی۔ 4 جنوری 47 ء کو کشمیر اسمبلی کے لئے انتخابات ہوئے مسلم کانفرنس نے قائم مقام صدر چودھری حمید اللہ خان اور صدر پارلیمنٹری بورڈ کرنل علی احمد شاہ کی سرکردگی میں انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ کچھ امیدواروں کے کاغذات نام زدگی مسترد کر دیے گئے تو بھی مسلم کانفرنس 21 میں سے 16 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ نیشنل کانفرنس نے آخری وقت انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ اگر وہ بائیکاٹ نہ بھی کرتے تو بھی وادی کشمیر کے چند حلقوں کے سوا ان کے امیدواروں کی کامیابی کی امید ہی کہاں ہو سکتی تھی۔ ان حلقوں میں نیشنل کانفرنس والوں نے آزاد امیدوار کھڑے کیے جن میں بیشتر ہار گئے۔

کانگریسی سازش۔ نیشنل کانفرنس کی دار کونسل (جو مجلس عاملہ کی حیثیت میں کام کر رہی تھی) نے غلام محی الدین مہرہ کی صدارت میں وسط اگست میں ایک جلسہ کیا۔ اس میں کل 13 ارکان میں سے آٹھ ارکان نے الحاق پاکستان کے حق میں رائے دی۔ الغرض یہ بات صاف تھی کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی ٹھوس اور غالب اکثریت الحاق پاکستان کی خواہش مند ہے۔ لیکن مہا راجا ہری سنگھ عوام کی خواہشات سے بے نیاز رہ کر کانگریسی لیڈروں کے ساتھ ایک گہری اور عوام دشمن سازش میں مصروف تھے کانگریسی لیڈر بھی ریاست کو بھارت میں شامل کرنے کے لئے بے تاب تھے اور اس مقصد کے لئے سازشوں میں لگے ہوئے تھے۔

3 جون 47 ء کے اعلان سے چند دن قبل ہی کانگرس کے صدر آچاریہ کرپلانی کشمیر آئے اور یہاں نیشنل کانفرنسی کارکنوں ہندو لیڈروں اور مہا راجا ہری سنگھ اور ان کے مشیروں کے ساتھ پراسرار ملاقاتیں کرتے رہے۔ کانگریس کے کمیونسٹ لیڈر بھی ان دنوں بار بار کشمیر آئے۔ اگست 47 کے پہلے ہفتے میں کانگرس کے ”روحانی باپ“ گاندھی جی بھی غالباً زندگی میں پہلی اور آخری بار کشمیر چلے آئے۔ جونہی انہوں نے اپنے دورے کا اعلان کیا تو ریاست کے عوامی نمائندوں نے ان کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ گاندھی جی کانگرسی لیڈروں اور ہری سنگھ کی نا پاک سازش کی آخری منزلیں طے کرانے آ رہے ہیں چناں چہ مسلم کانفرنس کی مجلس عمل کے صدر میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ نے گاندھی جی کی آمد سے چند دن قبل مندرجہ ذیل بیان جاری کیا:
”اگر مہا راجا بہادر نے مسٹر گاندھی کے اثر و رسوخ میں آ کر کشمیر کو ہندو انڈیا میں شامل کیا تو ریاست میں خلل امن کا زبردست اندیشہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ مہا راجا بہادر اس نازک ترین موقع پر تدبر سے کام لیں گے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے مسلمانان کشمیر کے ناراض ہو جانے کا اندیشہ ہو“ ۔
(روزنامہ ہمدرد، سری نگر)

جب ریاست میں گاندھی جی کے دورے کے خلاف ایک طوفان برپا ہوا تو انہوں نے کشمیر جانے سے قبل دہلی میں ایک بیان جاری کیا:
”میں کشمیر اس لئے نہیں جا رہا ہوں کہ مہا راجا بہادر پر کسی قسم کا دباؤ ڈال دوں کہ وہ انڈین یونین میں شامل ہوں۔ اس سوال کا فیصلہ کرنا کہ ریاست کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے یا ہندوستان میں وہاں کے عوام کا کام ہے۔ میں اس میں کوئی دخل نہیں دینا چاہتا۔ نہ میں وہاں نیشنل کانفرنس کے لیڈر شیخ عبد اللہ اور ان کے رفقا کو جیلوں سے رہا کرانے کے لئے جا رہا ہوں“۔
(روزنامہ ”ٹریبیون“ لاہور)

لیکن اس کے ساتھ ہی ٹریبیون اپنے نامہ نگار خصوصی کے حوالہ سے مندرجہ ذیل خبر بھی شائع کی:
”گاندھی جی کا دورہ کشمیر اس مقصد کے لئے ہو رہا ہے کہ مہا راجا صاحب گاندھی جی سے ملاقات کریں گے اور الحاق کے بارے میں ان کا مشورہ حاصل کریں گے“۔
جب گاندھی جی اپنے اس پراسرار مشن کے سلسلہ میں کشمیر آئے تو بارہ مولا اور سری نگر میں مسلم کانفرنس کی طرف سے ان کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے۔ مشتعل عوام نے ان کی کار پر پتھروں کی بارش کی”۔

ان کی سری نگر آمد پر صدر مسلم کانفرنس پارلیمنٹری بورڈ میجر سید علی احمد شاہ اسمبلی میں مسلم کانفرنسی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر خواجہ غلام احمد جیولر اور پارٹی کے چیف وہپ سردار محمد ابراہیم نے مندرجہ ذیل مشترکہ بیان جاری کیا:
”ہمیں ڈر ہے کہ کہیں مہا راجا بہادر پر انڈین ڈومینین کے ساتھ شامل ہونے کے لئے دباؤ نہ ڈالا جائے، اس لئے ہم مسلمانان کشمیر کی طرف سے یہ صاف ظاہر کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان ڈومینین کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسٹر گاندھی اپنے وعدے کی بنا پر اس بد نصیب ریاست کی سیاست میں دخل نہ دیں۔ اگر انہوں نے ریاست کی سیاست میں دخل دیا تو حالات بگڑ جائیں گے“۔
(روزنامہ ہمدرد، سری نگر)

گاندھی جی نے آتے ہی 3 اگست کو مجاہد منزل میں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں سے خطاب کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ مہا راجا صاحب کے خلاف نہ بولیں۔ اسی دن انہوں نے وزیر اعظم کشمیر پنڈت رام چند کاک سے دوبار ملاقات کی۔ مہا راجا ہری سنگھ کے گرو جی سے بھی ملے اور خود مہا راجا ہری سنگھ سے بھی طویل ملاقات کی۔ اس کے بعد واپس چلے گئے ان کی واپسی کے ایک ہفتے بعد ہی وزیر اعظم کاک کو سبک دوش کر کے ایک ڈوگرہ جرنیل جنگ سنگھ کو وزیر اعظم کشمیر مقرر کیا گیا۔

کاک کے متعلق یہ افواہ تھی کہ وہ ریاست کو خود مختار رکھنے کے حق میں تھے۔ 15 اگست 47ء کو قیام پاکستان پر ریاست جموں و کشمیر میں جگہ جگہ مسلمانوں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم پاکستان منایا۔ سری نگر کی جامع مسجد میں میر واعظ کشمیر کی صدارت میں ایک لاکھ اسلامیان کشمیر کا احتجاج ہوا۔ جس میں الحاق پاکستان کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔

27 اگست کو مسلم کانفرنس کے قائم مقام صدر چودھری حمید اللہ خان اور صدر مجلس عمل میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ کا ایک مشترکہ بیان جاری ہوا، جس میں انہوں نے کہا:
”ہم مہا راجا بہادر کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس نے انڈین یونین میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو ریاست کے تمام مسلمان اس کی مزاحمت کریں گے۔ ریاست کے مسلمانوں کی رائے یہ ہے کہ کشمیر پاکستان میں شامل ہو کیوں کہ جغرافیائی تسلسل اور تمدن و اشتراک عمل اس کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اگر اکثریت کے جذبات و احساسات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو مسلمان ہر نازک صورت احوال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں“۔
(روزنامہ ”ہمدرد“ سری نگر)

ریاست میں کشمیری مسلمانوں کو دبانے کی پالیسی۔ 27 اگست 47 ء کو ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ باقاعدہ ”جوں کا توں معاہدہ“ ہوا۔ ہندوستان نے اس قسم کا معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی ایک فریب کارانہ چال تھی۔ 30 اگست 47 ء کو مسلم کانفرنس کی طرف سے وزیر اعظم کشمیر کو ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں مندرجہ ذیل مطالبات پیش کیے گئے:
( 1 ) ۔ کشمیر فوراً پاکستان میں شمولیت کا اعلان کرے۔
( 2 ) ریاست کے جدید آئین کے لئے ایک آئین ساز اسمبلی قائم کی جائے۔
( 3 ) ۔ ریاست میں فوری طور پر ذمہ دار نظام حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔
( 4 ) ۔ کشمیر پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں شمولیت کا اعلان کرے۔
( 5 ) ۔ شہری آزادی کو بحال کیا جائے اور مسلم کانفرنس کے صدر چودھری غلام عباس خان اور ان کے ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔
( 6 ) ۔ پونچھ کے حالات پر خاص توجہ دی جائے۔

قیام پاکستان کے دن ہی پونچھ میں پاکستان کے حق میں جلسے اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ اس سے پہلے ہی وہاں عدم ادائیگی محصولات کی تحریک جاری تھی۔ ڈوگرہ حکومت نے اہل پونچھ کو زبردستی دبانے کی کوشش کی۔ چناں چہ 26 اگست 47 ء کو باغ کے ایک جلسہ عام پر فوج نے فائرنگ کی جس سے متعدد مسلمان شہید ہو گئے۔ مسلم کانفرنسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد قید کردی گئی۔ (ان میں سے کانفرنس کے ایک مخلص کارکن اور باغ مسلم کانفرنس کے جنرل سیکرٹری سید خادم حسین شاہ مرحوم کو ڈوگرہ ظالموں نے جیل ہی میں شہید کر دیا۔ اس مجاہد کے لبوں پر آخری دم تک پاکستان زندہ باد کے الفاظ رہے) مسلم کانفرنس نے 5 ستمبر 47 ء کو یوم پونچھ منایا۔ قائم مقام صدر مسلم کانفرنس نے ایک بیان میں اس قتل عام کی شدید مذمت کی اور کہا:
”قتل عام کا مقصد الحاق پاکستان کی تحریک کو ختم کرنا ہے“۔

19 ستمبر 47 ء کو مسلم کانفرنس نے پھر ایک بار ”یوم پاکستان“ منایا اور ہر جگہ عام جلسے کر کے الحاق پاکستان کا مطالبہ کیا گیا۔ ستمبر کے پہلے ہفتے ہی میں نیشنل کانفرنس کے صدر شیخ محمد عبد اللہ کو بھدرواہ جیل سے بادامی باغ چھاؤنی لایا گیا۔ اس دوران میں کانفرنس کے دو جلاوطن لیڈر بخشی غلام محمد اور غلام محمد صادق پر سے پابندی ختم کی گئی۔ وہ جلاوطنی کے دوران میں کانگرسی لیڈروں سے ساز باز کر آئے تھے اور شیخ محمد عبد اللہ کے ساتھ پراسرار ملاقاتیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔

اچانک 29 ستمبر 47 ء کو شیخ محمد عبد اللہ اپنی میعاد قید مکمل کرنے سے پونے دو سال پہلے ہی رہا کر دیے گئے۔ 7 اکتوبر 47 ء تک ”کشمیر چھوڑ دو“ تحریک کے تمام قیدی رہا کیے جا چکے تھے لیکن مسلم کانفرنس کے صدر چودھری غلام عباس خان اور ان کے ساتھی بدستور نظر بند رکھے گئے۔ شیخ صاحب کی رہائی سے تین دن قبل 26 ستمبر کو مسلم کانفرنس کے قائم مقام صدر چودھری حمید اللہ خان مرحوم کا داخلہ بھی ریاست میں بند کر دیا گیا، وہ لاہور آئے تھے۔

دوسرے دن کشمیر اسمبلی کا اجلاس ہوا تو مسلم کانفرنس اسمبلی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر خواجہ غلام احمد جیولر نے چودھری حمید اللہ خان کے ریاست میں داخلہ پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا اور بطور احتجاج تمام پارٹی اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی مسلم کانفرنسی کارکنوں کی جلاوطنی نظر بندی اور زبان بندی کا سلسلہ شروع ہوا۔

jammu-massacre-november-1947

اس سے قبل ہی جنگ سنگھ کی جگہ ایک کٹر ہندو مہر چند مہاجن کو ریاست کا وزیر اعظم مقرر کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مسلم کانفرنس کو کچلنے کا اعلان کر دیا۔ البتہ الحاق کے بارے میں یہ بتایا کہ اس کا فیصلہ کرتے وقت عوام کی مرضی کا خیال رکھا جائے گا۔ لیکن یہ کہنے کی باتیں تھیں۔ مسٹر مہاجن تو آئے ہی اس لئے تھے کہ ہری سنگھ اور کانگرس کی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ اس کے ساتھ ہی کٹھوعہ روڈ کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔

یہ سڑک کشمیر کو بھارت سے ملانے والا واحد راستہ ہے۔ یہ بھی لارڈ ماونٹ بیٹن اور ریڈ کلف کی سازش اور بد دیانتی سے ضلع گورداس پور کی وجہ سے بھارت کو ملا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ گورداس پور کا بھارت کو ملنا کشمیری عوام کے خلاف سازش کی ایک اہم کڑی تھی۔ 15 اکتوبر کو وزیر اعظم کشمیر نے حکومت پاکستان کے نام ایک تار روانہ کیا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ ریاست کی ضروریات زندگی کی سپلائی میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ دوسرے دن ہی وزیر اعظم پاکستان خان لیاقت علی خان نے اس کے جواب میں ایک تار حکومت کشمیر کو بھیجا جس میں تمام الزامات کی پر زور تردید کر دی گئی اور ساتھ ہی کشمیری مسلمانوں کو دبانے کی پالیسی پر اظہار تشویش کیا گیا۔

آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا قیام۔ 24 اکتوبر 47 ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی صدارت میں باقاعدہ حکومت ”آزاد جموں و کشمیر حکومت“ کے نام سے قائم کی گئی چناں چہ اس دن پلندری سے حسب ذیل اعلان جاری ہوا:
”ہنگامی حکومت نے جسے عوام نے کچھ ہفتے قبل نا قابل برداشت ڈوگرہ مظالم کے خاتمہ اور عوام کے آزادانہ اقتدار کے حصول کے لئے بنایا تھا، اب ریاست کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور بقیہ حصے کو ڈوگرہ ظلم کے تسلط سے آزاد کرانے کی امید کیے ہوئے ہے۔ ان حالات کے پیش نظر حکومت کی تشکیل نو عمل میں لائی گئی ہے اور صدر دفاتر کو پلندری منتقل کر کے مسٹر ابراہیم بیرسٹر کو عارضی حکومت کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ نئی حکومت ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کی متحدہ آواز کی ترجمان ہے کہ عوام کو ظالم اور غاصب ڈوگرہ خاندان سے نجات دلائی جا سکے۔

آزادی کی یہ تحریک جس نے اس عبوری حکومت کو جنم دیا ہے 1929 ء سے جاری ہے۔ اس تحریک میں جموں و کشمیر کے ہزاروں لوگوں نے جیل کاٹے اور جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ بہر حال عوام کی متفق آواز کی جیت ہوئی ہے اور حکمران کی متشدد فوج ہار گئی ہے۔ حکمران اپنے وزیر اعظم کے ساتھ کشمیر سے بھاگ چلا ہے اور شاید عن قریب جموں سے بھی بھاگ نکلے گا۔ عارضی حکومت جو ریاست کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے ہی ہے ایک فرقہ وارانہ حکومت نہیں ہے۔

اس حکومت کی عارضی کابینہ میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی شامل ہوں گے۔ حکومت کا مقصد سر دست ریاست میں نظم و نسق کی بحالی ہے تا کہ عوام اپنی آزادانہ رائے سے ایک جمہوری آئین ساز اسمبلی ا ور ایک نمائندہ حکومت چن لیں۔ عارضی حکومت اپنے ہمسایہ مملکت ہائے ہندوستان اور پاکستان کے لئے بہترین جذبات دوستی و خیر سگالی رکھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ ہر دو مملکتیں کشمیری عوام کی فطری آرزوئے آزادی کے ساتھ پوری پوری ہم دردی کریں گی۔

عارضی حکومت ریاست کی جغرافیائی سالمیت اور سیاسی انفرادیت برقرار رکھنے کی متمنی ہے۔ پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ ریاست کے الحاق کا سوال یہاں کے عوام کی آزادانہ رائے شماری سے طے کیا جائے گا۔ غیر ملکی مبصرین و مشاہدین کو دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ عوام کی آزادانہ رائے سے مسئلہ بخیر و خوبی طے ہو گیا”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •