کورونا میں مبتلا کمار سانو کے لئے عقیدت و عیادت کے ساتھ کچھ لفظی پھول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیک خواہشات اور صحت کی دعا کے ساتھ یہ نثر پارہ 90 ء کی دہائی میں ہماری سماعتوں کو لازوال اور سدا بہار گیتوں سے آشنا کرنے والے ہمارے عہد کے مہان گلوکار کمار سانو صاحب کے لئے جن میں کورونا کی جانچ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔

”سانو دا“ کے گیتوں نے نہ صرف انسانی جذبوں کو عمومی انداز میں اپنا سر، تال اور آہنگ کا روپ سروپ دیا بلکہ ہماری پیڑھی کے عہد جوانی و لڑکپن کو روایتی جمالیاتی اقدار میں رچی بسی کیفیتوں سے سرشار کیا۔

”سانو دا“ کی گائیکی نے ہمیں یہ سکھایا کہ آرٹ صرف حظ لینے، واہ واہ کرنے، موج مستی کرنے، دکھ سکھ کا ساتھی ہونے کا ہی کام نہیں کرتا بلکہ اگر یہ عمومیت اور کلاسیکیت کا امتزاج ہو تو ہر یگ کے انسانوں کے لئے رومانویت و نوسٹیلجیا کا استعارہ بھی بن جاتا ہے۔

”سانو دا“ کے گیت، ان کا آہنگ، ان کی عاجزی اور ان کی اپنے فن کے ساتھ والہانہ وابستگی ان کا ذاتی وصف تو ہے ہی، تاہم یہ سب وہ ان بصارتوں، ان سماعتوں اور ان بصیرتوں کے لئے بھی ترتیب دے رہے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں سے ان سے وابستہ ہیں اور وابستہ رہیں گے۔

”سانو دا“ کے گیت سننا ہمارا حسن سماعت اور ان کو گاتے دیکھنا ہمارا حسن نظر۔ اسی حسن سماعت اور حسن نظر کی آج پہلے سے کہیں بڑھ کر اس انسان اور سماج کو ضرورت ہے۔ ”سانو دا“ موسیقی کا اثاثہ تو ہیں ہی لیکن وہ ہمارا بھی اثاثہ اور مان ہیں۔

ہمارے بچپن، لڑکپن، نوجوانی اور جوانی کے سندر پل ان کے سندر سروں کے سنگ گزرے، لیکن ہماری یہ آشا ہے کہ ان کے سروں کی کوملتا اور مہانتا ہماری آنے والی نسلوں کی سماعتوں میں بھی رس گھولتی رہے اور ان کے نوسٹیلجیا میں ہمکتی رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •