روشن خیالی


ہمارے معاشرے میں جب بھی کوئی روشن خیالی کا تذکرہ کرتا ہے، تو اکثر لوگوں کی ذہن اس خیال پر رک جاتی ہے، کہ یہ روشن خیالی تو لا دینی تصور ہے۔ اس سے ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ لوگوں کو دین سے لا دینیت کی طرف راغب کرتی ہے۔ در اصل روشن خیالی وقت کی رفتار کو پہچاننا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔

اگر ہم ماضی میں دیکھ لے تو ہمارے پیغمبروں نے بھی روشن خیالی کا اظہار اور پرچار کیا ہے۔ ہمیشہ معاشرے کو ایک نئی سوچ سے نواز کر ایک جدید سمت کی طرف لانے کی اپنی بھر پور کوشش کی ہے۔ اس طرح اگر ہم پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں، تو ہمیں واضح آثار ملتے ہیں کہ کس طرح ان لوگوں کا مقدر بدلا۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کی رہنمائی کرنے لگے۔

یورپ کے وہ سال جن کو آج تاریکیوں کی سال کے عنوان سے پکارتے ہیں۔ اس میں ہر نئے آنے والے سوچ اور خیالات کی مخالف ہوتی تھی اور ایسے تمام تر اقدامات کو بادشاہ اور رعایا کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حکمران طبقے نے ہمیشہ نئے خیالات اور نئے فلسفوں کی مخالف کی ہے، کیوں کہ وہ اس سے اپنی اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔ کوئی بھی نئی سوچ فراہم کرتا ہے تو ان کو سزا دی جاتی اور یونہی تصور ہوتا کہ یہ نئی نسل میں بغاوت اور گمراہی کا سبب بن جاتا ہے۔

یورپ میں جب پرنٹنگ پریس نہیں آیا تھا تو عوام اپنی رائے کو زبانی ترسیل کرتے تھے اور جب تمام تر مخالفت کے باوجود پرنٹنگ کا رواج عام ہوا، تو 1664 تک یورپ میں کتابوں کے چھاپنے پر سزائیں ہوا کرتی تھیں، اور ایک پبلشر کو اس بنا پر قتل کر دیا کہ اس نے ایک کتاب شائع کی اور معاشرے کے جذباتی فطرت کے تناظر کی وجہ سے اس میں مصنف کا نام چھپایا گیا۔ اس کتاب میں صرف یہ لکھا تھا کہ اگر حکمران کوئی بھی عوامی فیصلہ سر انجام دیں تو وہ عوام کے لئے جواب دہ ہو گا۔

علم، عام آدمی کے لئے نہیں تھا، مشرقی اطراف پہ صرف برہمن کو علم حاصل کرنے کا حق حاصل تھا۔ بادشاہ اپنے بچوں کو پڑھانے کے لئے اتالیق رکھتے تھے۔ برصغیر میں بہت سے فاتحین اور ہیرو آئے اور علاقے فتح کر کے چلے گئے اور ان کے یہاں ہمیں قلعے، باغات اور مقبرے ملے جو آج تک قائم ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہمیں کوئی سکول، کالج اور جامعات کا تصور بھی نہیں ملا، اس وقت علم حاصل کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں سمجھی گئی۔

ہم گلے اور شکوے کرتے ہیں کہ مسلمان باقی دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں، جب بھی یورپ میں چرچ اور پوپ کو چلینج کیا کہ آپ کو کہاں سے اور کس بنا پر تعینات کیا ہے تو یورپ کی قسمت بدلنے لگی اور یہاں پر نئے خیالات کی باتیں کوئی کریں تو اکثر سوچیں، سر و ساز اور موج و مستی اور لا دینی کی طرف راغب ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں لفظ ”روشن خیالی“ کے سمجھنے میں پیچیدگی تو نہیں، لیکن یہ ذہنوں پر منحصر ہے کہ وہ اس کو کس طرح سمجھتے ہیں۔

Facebook Comments HS