پی ڈی ایم جلسہ: رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو ایک بار پھر کوئٹہ ایئرپورٹ سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے 25 اکتوبر کو ہونے والے جلسے میں شرکت کی غرض سے کوئٹہ پہنچنے پر رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو ایئرپورٹ سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے گفتگو میں محسن داوڑ نے بتایا کہ جب وہ دو پہر دو بجکر 40 منٹ پر کوئٹہ پہنچے تو شہر کی ضلعی انتظامیہ نے انھیں اطلاع دی کہ ان کی شہر میں داخلے پر پابندی ہے۔

‘ضلعی انتظامیہ نے جب مجھے یہ بتایا تو میں نے انھیں کہا کہ پچھلی دفعہ بھی میں یہاں آیا تھا تو بلوچستان حکومت کے ترجمان نے مجھے بتایا تھا کہ چونکہ یہاں دھماکہ ہوا ہے اس لیے آپ باہر نہیں جا سکتے۔ تو اب کیا مسئلہ ہے، اب پورے پاکستان کی سیاسی قیادت یہاں آ رہی ہے تو ایک محسن داوڑ سے کیا مسئلہ ہے؟’

واضح رہے کہ اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کا جلسہ اتوار کو کوئٹہ میں ہو رہا ہے جس کے لیے محسن داوڑ کوئٹہ پہنچے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز بھی اتوار کے جلسے سے خطاب کرنے کے لیے کوئٹہ پہنچ چکی ہیں۔ انھوں نے شہر میں کارکنان سے خطاب بھی کیا اور کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو بھی کی۔

جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اس وقت انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جہاں سے وہ کوئٹہ میں ہونے والے 25 اکتوبر کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ کو بلوچستان سے بے دخل کر دیا گیا

حکومت نے محسن داوڑ اور علی وزیر کو کابل جانے کی اجازت دے دی

خڑقمر واقعہ: محسن داوڑ، علی وزیر کے خلاف درج مقدمہ حکومتی استدعا پر خارج

کوئٹہ ائیرپورٹ پر روکے جانے پر رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ بے بس ہی تھی کیونکہ ان کو جو ’اوپر سے آرڈر آتے ہیں وہ اسی پر عمل کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’حکومت بھی نہیں، جو اصل حکومت ہے، اور جو ریاست کے اوپر ریاست ہے یہ ان کا ہی فیصلہ ہے۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ بھی بے بس ہیں اور پوری بیوروکریسی بھی بے بس ہے۔’

محسن داوڑ کو ائیر پورٹ پر روکے جانے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کے اراکین محسن داوڑ کی حمایت میں کوئٹہ ائیرپورٹ کے باہر جمع ہو گئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق محسن داوڑ کو اس سے پہلے بھی نقص امن کے خدشے (ایم پی او) کے تحت ایئرپورٹ پر روکا جا چکا ہے تاہم اس بار وزیر اعظم عمران خان کی مداخلت پر انھیں باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

کوئٹہ میں اپوزیشن کو جلسہ نہ کرنے کا کہا گیا

پی ڈی ایم کی جانب سے پہلے جب یہ اعلان کیا گیا کہ سات اکتوبر کو پہلا جلسہ عام کوئٹہ میں ہو گا تو بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ان جماعتوں کو عوام کی حمایت حاصل نہیں اس لیے انھوں نے سب سے پہلے کوئٹہ کا انتخاب کیا۔

تاہم جب بعد میں پی ڈی ایم نے جلسوں کی شیڈول میں تبدیلی کی اور کوئٹہ کے جلسہ عام کو گوجرانوالہ اور کراچی کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا تو سکیورٹی خدشات کا جواز پیش کر کے بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کے جلسہ عام کو ملتوی اور منسوخ کرنے کی درخواست کی۔

کوئٹہ کے جلسہ عام کو ملتوی یا منسوخ کرنے کے لیے جواز

بلوچستان حکومت نے اس مقصد کے لیے پہلے افغانستان سے متصل قمر دین کاریز سے بارودی مواد کی برآمدگی اور اس کے بعد نیکٹا کی جانب سے کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کی ممکنہ کارروائی کے خطرے کو جواز کے طور پر پیش کیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (نیکٹا) نے کوئٹہ اور پشاور میں آنے والے دنوں میں دہشت گردی کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مکران کے علاقے میں رونما ہونے والے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے دشمن ملک میں بد امنی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ غیر سنجیدہ اپوزیشن ان تھریٹس کو کس طرح لیتی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے بیان کے علاوہ حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ایک پریس کانفرنس کی اور انھوں نے جلسہ عام کو ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان اور وزرا کی جانب سے ماضی میں جو پریس کانفرنسز کی گئیں ان میں ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں جلسہ عام کی ناکامی کے خوف سے دو مرتبہ اس کی تاریخ تبدیل کی۔

جب پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے بلوچستان حکومت کی ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی تو حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ان سے کوئٹہ میں جلسہ عام کو ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ نیکٹا نے کوئٹہ اور پشاور کے حوالے سے تھریٹ الرٹس جاری کیے ہیں جنھیں پی ڈی ایم کی قیادت کو سنجیدہ لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے بھی پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں جلسے کی تاریخ میں متعدد بار تبدیلیاں کی ہیں اس لیے اب انھیں بلوچستان کے عوام کی خوشحالی کے لیے کوئٹہ کے جلسہ عام کو ملتوی کرنا چاہیے۔

کوئٹہ میں جلسہ عام سے دو روز قبل چار شدت پسندوں کو مستونگ کے علاقے میں ہلاک کرنے کا واقعہ

کوئٹہ میں جلسہ عام سے دوروز قبل سی ٹی ڈی کے حکام کی جانب سے ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں چار شدت پسندوں کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ٹی ڈی حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ چاروں کا تعلق ایک مذہبی شدت پسند تنظیم سے تھا۔ تاہم ابھی تک آزاد ذرائع سے ان افراد کی کسی مقابلے میں ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس واقعے کے تناظر میں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے بھی پی ڈی ایم کی قیادت کو جلسہ عام منسوخ کرنے کی تجویز دی۔

پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے رہنماﺅں کا موقف

پختونخواملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا جلسہ عام شیڈول کے مطابق کوئٹہ میں بھرپور انداز سے منعقد ہونے جارہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تھریٹ الرٹس کے نام سے حکومت کی جانب سے کوئٹہ میں جلسہ عام کو ناکام بنانے کے لیے ایک پروپیگینڈا شروع کیا گیا ہے۔

عثمان کاکڑ نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ حکومت پی ڈی ایم سے خائف ہے اس لیے ان کے نزدیک حکومتی دعوؤں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ کے جلسہ عام میں لوگوں کی بھرپور انداز سے شرکت ہو گی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی اختر حسین لانگو نے کہا کہ بلوچستان کی عوام باشعور ہے اور جلسہ عام کو ناکام بنانے کی کوششوں سے آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی شرکت بہت زیادہ ہو گی اور لوگوں کے لیے جلسہ گاہ کم پڑ جائی گی۔

پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر علی مدد جتک نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تھریٹ الرٹس جاری کر کے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے اور عوام اس طرح کی کوششوں سے کسی طرح بھی مرعوب نہیں ہوں گے ۔

خیال رہے کہ جمعیت علما اسلام کے علاوہ بلوچستان سے جو جماعتیں پی ڈی ایم کا حصہ ہیں ان میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی شامل ہیں۔ اگرچہ عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے لیکن وہ بھی پی ڈی ایم میں شامل ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تمام جماعتیں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سٹریٹ پاور رکھتی ہیں جس کے باعث کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے پاور شو کے کامیابی کے امکانات زیادہ قوی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16587 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp