مڑ کے دیکھنے کا آسیب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماضی کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا تاحتٰی خود خدا بھی۔ حال بدلا جا سکتا ہے، ایک موڑ ہی تو مڑنا ہوتا ہے۔ یہ البتہ اور بات کہ موڑ مڑنے بارے کون سوچے پھر فیصلہ کر کے اس پر عمل درآمد کرے، ایسا سب سے نہیں ہوتا۔ مستقبل کے بارے میں بھی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے اگرچہ اس سلسلے میں بھی کہا یہی جاتا ہے ”تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ“ ۔

رہی ماضی سے سبق حاصل کرنے کی بات تو شاید عاقل حکومتیں ماضی کے منفی پہلووں کا کسی حد تک جائزہ لینے کے بعد اپنے لائحہ عمل میں تبدیلیاں لاتی ہیں البتہ ماضی کا ہمہ پہلو مطالعہ کرنے کے بعد اخذ کردہ نتائج کے تناظر میں حکمت عملی یقیناً چند عشروں کے بعد کلی اگر نہیں تو جزوی طور پر ضرور بدل دی جاتی ہے اور یہ احسن کام بھی معقول ملک ہی کرتے ہیں جبکہ ہمارے ملک جیسے ملکوں کی قیادت ناضی و مستقبل سے بیک وقت صرف نظر کرتے ہوئے حال کی اس لکیر پر گامزن رہتی ہے جس کا رخ ان کے کاخ کی جانب ہوتا ہے۔

کیا انفرادی اور اجتماعی طور پر ماضی کی جانب مڑ کر دیکھنا آسیب کی مانند ہے یا مجبوری؟ اجتماعی حوالے سے ماضی کی جانب دیکھنے کی بات تو پہلے ہو چکی کہ معقول و مناسب قومیں ماضی سے نتائج اخذ کر کے ملک و قوم کے مستقبل کے بارے میں طے کرتی ہیں، چنانچہ ایسا کرنا نہ تو آسیب کی مانند ہوتا ہے اور نہ مجبوری بلکہ اشد ضروری ہوتا ہے۔ جہاں تک کسی فرد کا تعلق ہے تو ایک خاص عمر تک تو ماضی شاید ہی یاد آتا ہے۔ اگر کبھی آتا بھی ہے تو اچھے لمحات و واقعات کی یاد کے ضمن میں، مکروہ اور ہیبتناک لمحات و واقعات کو یاد آنے سے پہلے ہی جھٹک کر پھینک دیا جاتا ہے۔

مگر ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد جہاں آدمی مستقبل سے بے نیاز ہو جاتا ہے، حال یکسر حال ہوتا ہے، تب وہ اکثر ماضی کی جانب دیکھتا ہے۔ ایسا کرنے میں اس کی طمانیت بھی پوشیدہ ہوتی ہے اور پشیمانی بھی مضمر۔ اس کے پس پشت نہ تو آسیب کا سایہ ہوتا ہے جو انسان کو نخواستہ یاد ماضی پر مجبور کرتا ہو، مجبوری تو کسی بھی صورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک کیفیت محض ہوتی ہے جو ہر اس شخص پر طاری ہوتی ہے جس کا دماغ ماؤف نہ ہو چکا ہو۔

بعض اعمال نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے، نہ درست ہوتے ہیں نہ غلط، وہ بس ہوتے ہیں۔ یاد ماضی بھی ایک ایسا ہی عمل ہے جو کم و بیش سبھی لوگوں کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ بڑی عمر کو پہنچ جانے کے بعد جسے عرف عام میں بڑھاپا کہا جاتا ہے، یاد ماضی کے عمل کے تند و تیز ہو جانے کے اسباب میں کسی شخص کا بوڑھا ہونا کم جبکہ اس کے گرد وعواقب کے افراد کا بڑا ہو جانا زیادہ کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی اولاد، رشتے دار بھتیجے بھانجے وغیرہ اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

نہ اس کو موقع ملتا ہے کہ ان کی زندگیوں میں اپنا اتنا وقت اور علم صرف کرے جو وہ تب کیا کرتا تھا جب ان جتنا تھا اور وہ ان کے اپنے بچوں جتنے۔ ان کو اب اس کے وقت کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس کا علم تکنیکی طور پر ازکار رفتہ خیال کیا جانے لگتا ہے۔ نہ ہی ان کے پاس اپنی مصروفیت، اپنی دلچسپیوں، اپنے بیوی بچوں کو دے کر اتنا وقت بچتا ہے کہ وہ ”بزرگوں“ کو اتنا وقت دے سکیں جتنے کی انہیں توقع ہوتی ہے۔ رہا ان کا علم تو بوڑھے ان کے علم سے بھلا کہاں استفادہ کرتے ہیں اور کریں گے بھی تو کیا، زیادہ سے زیادہ ”فیس بک“ استعمال کرنا سیکھ جائیں گے۔

پھر ماحول میں بھی بہت زیادہ تبدیلیاں آ چکی ہوتی ہیں جو محض مکان سے وابستہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کا تعلق معاشرت اور طرز تعلقات کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ سیاست و معیشت کے پیرائے بھی یا تو تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں یا کم از کم ان کے زاویے مختلف ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ وہ ”نسلی تفاوت“ ہے جو روشی کے ساتھ روشنی کی رفتار کے ساتھ دوڑتے ہوئے بھی روشنی کے برابر نہیں ہونے دیتا۔ پھر اتنی سکت بھی کہاں ہوتی ہے کہ معاملات پر اسی سرعت اور فہم کے ساتھ قابو پا سکے جس طرح اس کے بعد کی نسل یا نسلیں پا رہی ہوتی ہیں۔ یہاں ایک پوشیدہ یاسیت کا عمل شروع ہوتا ہے جو اسے مزید یاد ماضی کی جانب راغب کر دیتا ہے۔

انسان اپنے ماحول اور ثقافت سے دور ہو، چاہے ملک کے اندر کسی زیادہ ہی مختلف جگہ اور علاقے میں یا ملک سے باہر کسی اور تہذیب میں جذب ہونے کی ناکام سعی کے بعد، اوپر سے عمر بھی وہ نہ رہی ہو جو جذب ہونے کی اضافی کوششوں پر مائل کرتی ہو، ایسے میں یاد ماضی ایک عام کیفیت نہیں رہتی بلکہ خصوصی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ انسان بھاگ کر ماضی کے ساتھ ہم آغوش ہو جانا چاہتا ہے مگر ماضی تو کب کا ماضی ہو چکا ہوتا ہے۔ اس شعور کے ہوتے ہوئے بھی وہ جو کہتے ہیں کہ امید کبھی نہیں مرتی انسان کو ایسے ہی لگتا ہے کہ ”وہ سب“ بہت اچھا تھا اور اب تک بہت اچھا ہے۔ اب تک بہت اچھا سمجھنے کی حالت پر البتہ آسیب کا شائبہ ہوتا ہے۔ خدا ہر شخص کو اشتباہ کو حقیقت سمجھ لینے سے محفوظ رکھے، آمین۔ تسلیم کرتا چلوں کہ مضمون کا عنوان ”مڑ کر دیکھنے کا آسیب“ شمعون سلیم کی کہی ایک بات کا ٹکڑا ہے، چنانچہ اس کا شکریہ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •