کلچر کے نئے محلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کیا عمدہ کالم لکھا ہے عزیزم یاسر پیرزادہ نے۔ دل باغ باغ ہو گیا ہے۔ میں یہ بات برسوں سے کہتا آیا ہوں، جو شاید میرے عجز بیان کی وجہ سے عام نہ ہو سکی۔ یا شاید اس لئے پذیرائی نہ پا سکی کہ میرا شمار الحمدللہ دقیا نوسی اور رجعت پسند قسم کے لوگوں میں کر لیا گیا ہے۔ الحمدللہ سو بار الحمدللہ! پہلا سوال اٹھایا ہے کہ کل تک اداکاروں کو وہ عزت نہ ملی تھی، جو آج کل اس طبقے کو حاصل ہے۔ مطلب کہ وہ کام تو آج بھی وہی کر رہے ہیں۔

یہ ایک بہت عمدہ سماجی مطالعہ ہے۔ کل گانے والیاں اور اداکارائیں معاشرے میں عزت نہ رکھتی تھیں۔ انگریز نے تو خیر شاعروں اور ادیبوں کو بھی ان فنکاروں کے ساتھ ارباب نشاط میں لکھ رکھا ہے۔ تاہم ہمارے اپنے معاشرے میں اس کا ایک اپنا پس منظر تھا۔ ہمارے معاشرے کے شرفاء اپنے بچوں کو تربیت کے لئے ان گانے والیوں کے کوٹھے پر بھیجتے تھے۔ مگر اس بات سے خوش نہ ہوتے تھے کہ کوئی ان گھرانوں میں شادی کر لے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ سب لوگ فلم، موسیقی ’رقص کی دنیا میں آ تو گئے‘ مگر معاشرے میں ان کا رتبہ وہی کا وہی رہا، حتیٰ کہ ہم نئے دور میں داخل ہو گئے جہاں یہ سب کچھ لبرل آرٹ کا درجہ اختیار کر گیا۔

اب یہ لوگ فنکار کہلانے ’مگر کلچر وہی کا وہی رہا۔ اب اس کی سرپرستی کو اب کہیں نئے عہد کے بورژدا نودولتیے کرتے ہیں۔ اس طبقے کی کوئی جڑیں اپنی زمین میں نہیں، میں اس کلچر کو خاص کا نام دیا کرتا تھا، جس کا میں نے بعد میں ارادہ ترک کر دیا تھا۔ تاہم آج لغات دیکھی تو تسلی ہوئی کہ کلچر کو کلچر کہہ کر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کرتا رہا ہوں۔ آج کل کی جدید اشرافیہ کا یہی کلچر ہے جو کل کے نوابوں کا تھا۔ آپ جو کام بھی شروع کریں گے یہی طبقہ اپنے مخصوص انداز میں اس پر قابض ہو جائے گا، یادش بخیر ہمارے ہاں ایک طویل مدت کے بعد بسنت کا احیا ہوا تھا۔

کارپوریٹ سیکٹر اور اس اشرافیہ نے مل کر اس پر اپنا کلچر مسلط کر دیا۔ پانچ ستارہ ہوٹلوں میں فلور بک ہوتے تھے۔ کہیں پرانی حویلیوں میں محفلیں سجتی تھیں۔ ایک اندازے کے ساتھ جو آج کل کی نام نہاد اشرافیہ کا طرہ امتیاز ہے۔ پرانے کلچر کی جھلکیاں صاف نئے انداز میں رنگ دکھاتی تھیں۔ آخر اس کی بساط لپیٹ دی گئی۔ تو اس کے ڈانڈے اتنی پرانی روایتوں میں تلاش کرتا ہی رہ گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ طبقہ جو کچھ بھی کرے گا۔

اسی رنگ میں رنگے گا۔ دوچار ماہ پہلے ایک گلو کار کا انٹرویو سنا۔ اس نے کہا کہ بھئی میرا اپنا کاروبار ہے۔ اس سے اچھا خاصا کما لیتا ہوں۔ میں نے یہاں توکوئی این جی نہیں بنا رکھی۔ مجھے پہلی بار یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ جو ہر کسی فنکار کے ساتھ کوئی این جی او جڑی ہوئی۔ وہ ان کی نیکی نہیں ذریعہ آمدنی ہے۔ خیر اس بارے میں تو مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ این جی او اور سول سوسائٹی کا دھندہ کس طرح ایک کاروبار ہے اور غارت گر تہذیب بھی۔

یہ تاریخ کے سفر کو پٹڑی سے اتارنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ یہ بحث میں مابعدجدیدیت کے پس منظر میں بہت کر رہا ہوں۔ جب پہلے پہل ہمارے ہاں نازیہ حسن کو اقوام متحدہ نے ایمبیسڈر آف گڈول یا جانے کیا مقرر کیا، تو میں سوچنے لگے اس لڑکی میں کیا گھن ہوں گے۔ پھر معلوم ہوا، اس کام کے لئے عالمی ادارے اسی طبقے سے لوگ چنتے ہیں۔ لڑکی اغوا ہو گئی‘ تعلیم و تربیت کے لئے کوئی فنکار سامنے آ گیا۔ معاشرے میں کوئی اور خرابی پیدا ہوئی۔

کسی اداکارہ نے اپنی خدمات پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب یہ لوگ سیلبرٹی کہلاتے ہیں۔ فلسفی ’ادیب‘ دانشور کا شمار اس کیٹگری میں نہیں ہوتا۔ ایک زمانہ تھا کہ پھبتی کسی جاتی تھی کہ ہم نے اپنا معاشرہ گانے والوں کو سونپ دیا ہے۔ معاف کرنا اب یہی لوگ میری زندگیوں کے مختار ہیں۔ عقل و دانش کی تو چھٹی ہو گئی، یہی نہیں بعض اوقات تو میرے ہیرو بھی مغرب کی عالمی ٹکسٹالوں میں ڈھل کر آتے ہیں ’نام لکھ سکتا ہوں‘ حوالے دے سکتا ہوں مگر چھوڑیے ان کو معاشرے نے عزت دے رکھی ہے۔

میں کتنے عزت داروں کے مقابل لڑوں گا۔ لڑتا لڑتا تھک جاؤں گا۔ یہ طبقہ بہت مضبوط ہو گیا ہے۔ اس تصور کی دھجیاں اڑاتے مجھے کوئی ربیع صدی ہو چکی ہے۔ ایک بار آغا خاں فاؤنڈیشن نے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں اس سی ایس آر پر مذاکرہ کر دیا۔ ان کا ایک ادارہ اس کام کے لئے وقف ہے۔ یہ اس فنڈ کے استعمال کا جواز ہے، جو ہر کارپوریٹ ادارہ نیک کاموں کے لئے مختص کرتا ہے۔ تقریر کرنے کا وقت آیا۔ تو میں نے ایک مضمون کا حوالہ دیا ڈبلیو ڈبیلو آر ڈی کہیں یہ لکھا ہوا تھا، میں اٹھ کر بھاگا کہ ڈکشنری میں دیکھوں یہ کیا لفظ ہے۔

پھر خیال آیا کہ ڈکشنریاں ان کاموں میں مدد نہیں کرتیں۔ مضمون کو ذرا آگے پڑھا تو وضاحت تھی کہ ایسی صورت ہوتی تو ڈبلیو ڈبلیو آر ڈی تو اس موقع پر ریگن کہا کرتا۔ یہی حال ان تمام تصورات کا ہے، جو ہم لفظوں کے ابتدائی حروف لے کر گھڑ لیتے ہیں۔ سی ایس آر بھی ایسا لفظ ہے ایک نہیں ’ہزاروں لفظ زندگی کی بہت سی تلخ سچائیوں کو اس طرح لپیٹے رہتے ہیں۔ سول سوسائٹی‘ این جی او کی ایک پوری دنیا ہے، جو ایک مخصوص انقلاب کا ڈھنکا بجاتی ہیں، اس حوالے سے بھی یاسر نے خوب حوالے دیے، انقلاب ڈھول بجانے والیوں سے آئے گا، میں نے ہمیشہ اس این جی اوکے تصور کو غیر سیاسی اور غیر انقلابی کہا ہے کبھی دوبارہ وضاحت کر دوں گا۔

ایک بات اور یاد آئی کہ علمی و فکری طور پر ہمارا سنہری دور وہ تھا، جو ہمارا غلامی کا دور تھا۔ غالب ’سرسید‘ اقبال ’جوہر‘ سب کب پیدا ہوئے، اس قسم کا مطالبہ دوسری تہذیبوں کا بھی کیا جائے، تو بات سچ نکلتی ہے۔ اگرچہ ہے رسوائی کی۔ ہم نے نام نہاد آزادی کے اس دور میں سب کچھ گنوا دیا ہے۔ یہ کیسے کیسے لوگوں کو عزت و وقار دے رکھا ہے اور کیسی کیسی ذی وقار ہستیوں کو طاق نسیاں میں سجا رکھا ہے۔ اصل زوال یہ ہے، جسے ہم نے بخوشی گلے لگا رکھا ہے۔

بڑے اور قابل احترام ہونے کے معیار ہی بدل گئے۔ اب آپ کو بڑا ہونے کے لئے کچھ بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ اس بندوبست کو ایکٹوازم کہتے ہیں۔ اس میں نام بھی ہے اور کمائی بھی۔ جھوٹی چمک دمک بھی۔ خدا ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ اس کے ساتھ رسوائی کے بھی بہت سامان ہیں۔ نئے محلے آباد کرنے کے بجائے تو وہی اچھے ہیں جو پرانے محلوں کو توقیر دینے کے کام پر مامور ہیں۔ کوئی بات چھپی تو نہیں رکھتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سجاد میر کی دیگر تحریریں