امریکی انتخابات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جمہوری ممالک میں پرامن انتقال اقتدار انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آزادانہ اور شفاف انتخابات جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے ضروری ہیں۔ جمہوری ممالک میں عوام کو اپنے حق رائے دہی کے ذریعے منتخب نمائندوں کا انتخاب اور حکومت بنانے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ 1787 میں امریکی آئین کی منظوری کے بعد امریکی عوام اپنے منتخب نمائندوں، سینٹ اور ایوان نمائندگان کے ارکان کا انتخاب وقفہ وقفہ سے کرتے آئے ہیں۔ امریکہ میں ہمیشہ انتخابات کے ذریعے ہی حکومت کی تبدیلی ہوئی ہے اور پرامن انتقال اقتدار ہوا ہے۔

امریکہ ایک وفاقی جمہوریہ ہے اور امریکہ کی پارلیمان کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ ایوان بالا سینٹ میں تمام چھوٹی بڑی امریکی ریاستوں کو برابر کی نمائندگی دی گئی ہے۔ امریکی سینیٹ سو ارکان پر مشتمل ہے۔ اور ہر دوسرے سال 33 ارکان کا انتخاب 6 سالہ مدت کے لئے امریکی عوام کرتے ہیں۔ چھوٹی بڑی تمام امریکی ریاستوں کو سینیٹ کے دو ارکان منتخب کرنے کا حق ہے اور ریاست کے عوام براہ راست انتخابات سے سینٹر کا چناؤ کرتے ہیں جو امریکی سینیٹ میں اس ریاست کا منتخب نمائندہ تصور ہوتا ہے

ماضی میں امریکی سینیٹ کے ارکان کا انتخاب ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے ذریعے ہوتا تھا مگر ستارہویں آئینی ترمیم کے بعد سینیٹر کا انتخاب عوام کے براہ راست ووٹوں سے ہونا شروع ہوا۔

سینیٹ کے امیدوار کی اہلیت
( 1 ) عرصہ 9 سال سے امریکہ میں رہائش پذیر امریکی شہری ہو
( 2 ) عمر 30 سال ہو
( 3 ) جس ریاست سے انتخاب لڑنا اس ریاست کاشہری ہو۔

امریکی ایوان نمائندگان 435 ارکان پر مشتمل ہے جن کا انتخاب ہر دو سال کے بعد ہوتا ہے امریکی ایوان نمائندگان میں تمام ریاستوں کو آبادی کے تناسب کے حساب سے نمائندگی ملتی ہے اور ہر دس سالہ مردم شماری کے بعد آبادی میں کمی بیشی سے ریاستوں کے ارکان کا تناسب ان کی آبادی کے حساب سے بدل جاتا ہے ۔

امریکی عوام ہر دوسرے سال ایوان نمائندگان کے ارکان کا چناؤ براہ راست انتخابات کے ذریعے کرتے ہیں۔ کیلیفورنیا جیسی بڑی ریاست کے شہری ایوان نمائندگان کے 53 ارکان کا انتخاب کرتے ہے جبکہ الاسکا جیسی چھوٹی ریاست صرف ایک رکن کا انتخاب کرتی ہے۔ امریکی آئین ساز نے سوچا کہ ایوان نمائندگان کے ارکان کا تعلق اور رابطہ عوام سے بکثرت رہے اس لئے ان کی مدت مختصر دو سالہ مدت کے لیے ہوتی ہے کہ وہ عوام سے رابطے میں رہیں

ایوان نمائندگان کے امیدوار کی اہلیت ہے
سات سال سے امریکہ میں رہائش پذیر امریکی شہری ہو
25 سال عمر اور جس ریاست سے الیکشن لڑ رہا ہے اس کا شہری ہونا لازمی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان کی تعداد سینٹ کے ارکان کی تعداد سے کافی زیادہ ہے اس لیے ہر ریاست کو مختلف ڈسٹرکٹ میں تقسیم کر کے آبادی کے حساب سے نمائندگان کا چناؤ ہوتا ہے۔ اور ایوان نمائندگان کا رکن اپنی اپنی ڈسٹرکٹ کا منتخب نمائندہ تصور ہوتا ہے۔

امریکی کانگریس کے دونوں ایوان طاقت اور اختیارات میں تقریباً برابر ہیں۔ ایوان نمائندگان کے ارکان کی تعداد زیادہ ہونے اور انتخاب ہر دو سال کے بعد ہونے کی وجہ سے ایوان نمائندگان کو عوامی رائے کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

امریکی سیاسی نظام مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ میں طاقت و اختیارات میں علیحدگی پر مبنی ہے اور ریاست کا ہر ستون آئین میں دی گئی حدود میں کام کرتا ہے اور دوسرے ستون کے کام میں مداخلت سے اجتناب کرتا ہے۔

امریکی حکومت کا سربراہ صدر مملکت ہوتا ہے جو عوام کے ووٹوں سے عرصہ چار سال کے لئے منتخب ہوتا ہے۔ 1789 میں جارج واشنگٹن امریکہ کا پہلا صدر منتخب ہوا تو اس وقت صرف چھ فیصد امریکی عوام کو ووٹ کا حق تھا اور تیرہ ابتدائی ریاستوں کے زمیندار اکیس سالہ مرد ووٹ ڈال سکتے تھے۔ مگر اب امریکی آئین 18 سال سے زائد ہر امریکی شہری کو وفاقی ریاستی اور علاقائی عہدے داران اور کانگریس و ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کا انتخاب کا حق دیتا ہے۔

امریکی صدر و نائب صدر کا انتخاب ہر چار سال بعد نومبر کی پہلی سوموار کے اگلے دن منگل کو منعقد ہوتا ہے۔ امریکی آئین کے تحت صدر اور نائب صدر کی اہلیت، میعاد، اور طریقہ انتخاب طے شدہ ہے۔ ہر پیدائشی امریکی شہری جس کی عمر پینتیس سال ہو اور وہ چودہ سال سے امریکہ میں رہائش پذیر ہو امریکی صدارتی الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔ جارج واشنگٹن نے جب تیسری مدت کی صدارت کے لئے معذرت کی تو یہ سمجھا گیا کہ دو دفعہ سے زائد صدر بننے پر پابندی روایت بن گئی۔

مگر جب صدر روز ویلٹ دوسری جنگ عظیم کے ہنگامہ خیز دور میں چوتھی مدت کے عہدہ صدارت کے دوران انتقال کر گئے تو امریکی قانون سازوں کو یہ سوچنا پڑا کہ دو بار سے زائد مدت کی عہدہ صدارت پر قانونی پابندی ہونی چاہیے اور امریکی آئین میں بائیسویں ترمیم منظور ہوئی جس کے تحت امریکی صدر پر تیسری مدت کے لیے صدارت پر پابندی لگا دی گئی۔

ہر چار سال بعد امریکی صدر اور نائب صدر کا انتخاب ہوتا ہے انتخابی عمل کئی مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے امریکی عوام صدر اور نائب صدر کے انتخاب میں ووٹ ڈالتے ہیں مگر ووٹوں کی اکثریت صدر اور نائب صدر کی جیت اور ناکامی طے نہیں کرتی کیونکہ امریکی صدر کا انتخاب بذریعہ الیکٹورل کالج کے ہوتا ہے الیکٹورل کالج سے مراد نظام ہے جس میں امریکی عوام انتخابات کے ذریعے الیکٹورل کالج کے ایسے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں جو امریکی صدر کو منتخب کرتے ہیں۔ الیکٹورل کالج کے ارکان کی کل تعداد 538 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ہر ریاست کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں موجود اس ریاست کے نمائندگان و سینیٹر کے برابر نمائندگی ملتی ہے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے عوام بھی تین الیکٹورل کالج کے ارکان منتخب کرتے ہیں۔

جس صدارتی امیدوار کو الیکٹورل کالج کے 270 ووٹ مل جائیں وہ امریکی صدر منتخب ہو جاتا ہے ہر ریاست میں عوام امریکی صدر اور نائب صدر کو ووٹ ڈالتے ہیں اور ہر ریاست میں جس امیدوار کو زیادہ ووٹ ملے اس ریاست کے تمام الیکٹورل کالج ووٹ جیتنے والے امیدوار کو مل جاتے ہیں اور اس امیدوار کے حامی الیکٹر منتخب ہو جاتے ہیں

تمام امریکی ریاستوں ماسوائے نبراسکا اور مین میں ووٹوں کی اکثریت سے جیتنے والے امیدوار کو ریاست کے کل الیکٹورل کالج ووٹ مل جاتے ہیں۔

گیارہ امریکی ریاستوں البامہ، آرکنساس، جارجیا، لوزیانا، مسیسپی، نارتھ کیرولینا، ساؤتھ کیرولینا، اوکلوہامہ، ساؤتھ ڈکوٹا، ٹیکساس اور ورمونٹ میں اگر کسی امیدوار کو حتمی اکثریت نہ ملے تو دوبارہ انتخاب سے حتمی اکثریت کا تعین کیا جاتا ہے ۔ اور دوبارہ ووٹنگ میں جیتنے والا امیدوار ریاست کے الیکٹورل ووٹ لے جاتا ہے

امریکی آئین سازوں نے صدر اور نائب صدر کے انتخاب کے عمل کو اس طرح واضح کیا کہ ہر ریاست کے عوام کو صدارتی انتخاب میں شرکت اور اہمیت ملے اور ہر امیدوار کو تمام ریاستوں میں اپنی انتخابی مہم چلانا پڑے۔ اس لئے امیدوار تمام ریاستوں میں مہم چلاتے ہیں کہ کامیابی ملے۔

امریکی سیاسی نظام دو جماعتی نظام ہے اور ڈیموکریٹ اور ریپبلکن جماعتوں کے امیدوار ہی صدر منتخب ہوتے آئے ہیں ان دونوں پارٹیوں کے علاوہ دوسری جماعتوں اور آزاد امیدوار بھی صدارتی الیکشن میں حصہ تو ضرور لیتے ہیں مگر ان کی جیت غیریقینی ہوتی ہے کیونکہ امریکی الیکشن کا نظام کئی مرحلوں اور تمام ریاستوں میں پھیلا ہوتا ہے جس میں ان دونوں جماعتوں کے علاوہ کسی امیدوار کے لیے حمایت حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے اور نہ ہی اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ اتنی طویل انتخابی مہم چلا سکے۔ اس لئے ایسے امیدوار کی ہار یقینی ہوتی ہے۔

امریکی امریکی صدارتی انتخاب کا عمل فروری کے مہینے سے شروع ہوتا ہے اور انتخابی عمل پرائمری الیکشن، کا کس، قومی کنونشن، حتمی نامزدگی، انتخابی مہم، ارلی ووٹنگ، پوسٹل پولنگ، الیکشن ڈے ووٹنگ اور الیکٹورل کالج کے ارکان کی ووٹنگ جیسے کئی مراحل سے ہو کر مکمل ہوتا ہے۔

سیاسی جماعتیں ریاستی سطح پر پرائمری الیکشن کا انعقاد کرتی ہیں جہاں سیاسی جماعتیں اپنے ارکان میں سے صدارتی امیدوار کے لیے ابتدائی نامزدگیاں کرتی ہیں ہیں۔ پرائمری الیکشن دو طرح کے ہوتے ہیں اوپن پرائمری جس میں تمام ووٹر ووٹ ڈال سکتے ہیں جبکہ کلوز پرائمری میں صرف پارٹی کے حامی ووٹر ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

پرائمری الیکشن کے ساتھ ساتھ جماعتی سطح پر کاکس کا انعقاد بھی ہوتا ہے کاکس سے مراد ہر ریاست میں پارٹی کے فعال اور سرگرم پارٹی ارکان کاکس میں شرکت کر کے بحث مباحثہ اور تقاریر کرتے ہیں جہاں تمام امیدواروں کو اپنے خیالات اور مختلف موضوعات پر اپنا موقف دینا ہوتا ہے جس سے پارٹی ارکان کو امیدواروں کی صلاحیت اور قابلیت کو جانچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ پرائمری الیکشن و کاکس کے بعد نامزدگی کی دوڑ میں صرف چند امیدوار ہی رہ جاتے ہیں جو موسم گرما میں ہونے والے قومی کنونشن میں شرکت کرتے ہیں جہاں تمام ریاستوں سے پارٹی نمائندے بلائے جاتے ہیں جو قومی کنونشن میں امیدواروں کی تقاریر اور مباحثے دیکھ کر حتمی امیدوار کا اعلان و توثیق کرتے ہیں۔

پارٹی سطح پر صدارتی امیدوار کی نامزدگی ملتے ہی صدارتی امیدوار اپنے نائب صدر امیدوار کا اعلان کرتا ہے اور صدارتی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہو جاتا ہے۔

صدارتی نامزد امیدواران جلسے، ریلیوں اور مختلف فورم میں شرکت کرتے ہیں۔

صدارتی امیدوار مباحثوں میں شریک ہو کر موجودہ درپیش سیاسی و معاشی مسائل پر اپنی آراء دیتے ہیں جس سے عوام کو اپنی رائے بنانے میں آسانی ہوتی ہے کہ کون سا امیدوار امریکی قیادت کے لیے زیادہ بہتر ہے۔

کئی ریاستوں میں قبل از الیکشن عوام ووٹنگ کا حق استعمال کر کے اپنا ووٹ کاسٹ کرلیتے ہیں پوسٹل بیلٹ کے ذریعے بھی امریکی شہری اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں مگر ان ووٹوں کو الیکشن ڈے پولنگ مکمل ہونے کے بعد باقی ووٹوں کے ساتھ گنتی کیا جاتا ہے۔

ریاستی اور وفاقی انتخابی ادارے الیکشن کے عمل کی نگرانی کرتے ہیں اور امریکی انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی بھی کرتے ہیں انتخابی مہم پر خرچ ہونے والی رقوم کی سخت نگرانی ہوتی ہے اور صدارتی امیدواران کو اپنے انتخابی مالی امور کی وضاحت دینا ہوتی ہے کہ انتخابی فنڈ کن لوگوں نے دیے ہیں اور ان رقوم کو کن مقاصد اور جگہوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔

وفاقی و ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں ووٹروں کی رہنمائی کے لئے مہم چلاتی ہے اور ووٹر رجسٹریشن پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر ریاستوں میں الیکشن ڈے سے ایک ماہ قبل تک ووٹ کا اندراج کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ چند ریاستوں میں الیکشن ڈے پر بھی ووٹ رجسٹر کر کے کاسٹ کیا جاسکتا ہے۔

عوام اپنی شناختی دستاویزات، یوٹیلٹی بلز، بینک اسٹیٹمنٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات پر ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں ہر ریاست میں ووٹ رجسٹر کرنے اور کاسٹ کرنے کا اپنا نظام ہے۔

اگست سے نومبر تک طوفانی مہم کے بعد نومبر کی پہلی سوموار سے اگلے دن منگل کو پولنگ ڈے ہوتا ہے جب تمام امریکی ریاستوں میں بیک وقت انتخابی عمل شروع ہوتا ہے اور امریکی عوام حق رائے دہی استعمال کر کے صدرو نائب صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔

صدارتی انتخاب پاپولر ووٹ سے نہیں ہوتا بلکہ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ووٹوں کی اکثریت لے کر بھی امیدوار صدارتی انتخاب ہار جائے کیونکہ الیکٹورل کالج کے مطلوبہ ووٹ نہ مل سکے۔ جان کوئنسی، جارج بش جونیئر اور ڈونلڈ ٹرمپ ایسے امریکی صدور ہے جن کو پاپولر ووٹ میں مخالف امیدوار سے ہزیمت اٹھانا پڑی مگر الیکٹورل کالج میں کامیابی نے ان کو انتخابی فتح دلائی۔

ہر ریاست میں جیتنے والا صدارتی امیدوار اس ریاست کے تمام الیکٹورل ووٹ جیت جاتا ہے۔ ریاستی حکومتیں الیکٹورل کالج کے الیکٹرز کو سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے اور 14 دسمبر کو الیکٹورل کالج کے ارکان اپنی اپنی ریاست میں صدارتی امیدوار کو ووٹ ڈالتے ہیں اور تمام الیکٹورل کالج کے ووٹ سینیٹ میں 23 دسمبر تک پہنچ جانے ضروری ہے۔

جنوری میں ہونے والی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹورل کالج کے ووٹ کی حتمی گنتی مکمل ہوتی ہے اور جو امیدوار الیکٹورل کالج کے ووٹ کی اکثریت لے لیتا ہے اس امیدوار کو سرکاری طور پر منتخب امریکی صدر و نائب صدر تسلیم کر لیا جاتا ہے جو 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیتا ہے اور اس طرح دنیا کے سب سے طاقتور عہدے کا انتخاب مکمل ہو جاتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •