باکو جس کی شریانوں میں بہادری کا لہو دوڑتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی پرسوں پرلے روز اہل باکو بے تاب ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے آرمینیا کی جارحیت کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ۔ مظاہرین کے پس منظر گلابی رنگ کا ایک مینار سر اٹھائے کھڑا تھا، اس دیس میں مزاحمت کی سب سے بڑی علامت۔ یہ علامت کیا ہے؟ ایک معمہ ہے۔

کوئی دائیں جانب سے دیکھتا ہے اور کوئی بائیں طرف سے،ایک طرف سے دیکھنے والے اسے چھ(6سمجھتے ہیں اور دوسری طرف سے دیکھنے والے نو(9)لیکن فی الاصل یہ ہے کیا، یہ فیصلہ آج تک ہونہیں سکا۔بدھ مت کے ماننے والوں کی مانیں جو اسے بوٹا(Buta)یعنی روشنی اور اس کی شکل کو آنسو یعنی عرق ندامت قرار دیتے ہیں۔ ایک نظر میں نے اس پر ڈالی پھر کنی کاٹ کر پچھلی طرف جانکلا۔وہ ایک متبسم بوڑھا تھا جو سیاحوں سے خوش خلقی کے ساتھ پیش آتا، جوش و خروش کے ساتھ انھیں چیزیں دکھاتا اور پھر رعایت کرتے کرتے گاہک کی مرضی کے نرخوں پر اپنا مال فروخت کردیتا۔

اس شہر میں ننگے سر نکلنا گویا مصیبت کو دعوت دینا ہے ، تیز ہوا کے زور سے فقط بال نہیں اڑتے بلکہ ہوش ہی اڑ جاتے ہیں۔اس بزرگ کے ٹھیئے پر بہت سی دیگر چیزوں کے علاوہ وہ ٹوپیاں بھی موجود تھیں جنھیں تصویروں میں ہم نے آنجہانی برزنیف کے سر پر دیکھ رکھا ہے۔ پھولی ہوئی، بالوں بھری اور سارے سر کو کانوں تک ڈھک لینے والی۔لگتا تھا کہ یہ ٹوپی لومڑی کی کھال کی نہیں تو ریچھ کی کھال سے تو ضرور بنی ہوگی لیکن جب میں نے اسے ہاتھوں میں لے کر دیکھا توحیرت ہوئی۔یہ لمبے گھنے ریشوں کے کپڑے والی انتہائی نرم و ملائم ٹوپی تھی  جسے سر پر اوڑھ کر نرم گرم لحاف کی گود میںسماجانے جیسا احساس ہوتا۔ٹوپی میں نے سر پر جمائی تو طاہرحسن نے ایک زور دار قہقہہ لگا کر کیمرے کو حرکت دی اورکہا :

’’ نکولائی فاروق عادلوف‘‘۔

تھوڑا سا بھاؤ تاؤ کر کے یہ ٹوپی میں نے خرید لی اور ساتھیوں کی ٹھنڈی میٹھی باتوں کے باوجود اپنے سر کو سکون دیا پھر اس بابے کو مخاطب کیا کہ مہربانم ! اس مینار کے راز سے آپ نہیں تو کون واقف ہوگا؟مایا نے یہ سوال اس تک منتقل کیا تو اُس کی باچھیں کِھل گئیں۔ پھر اس نے آواز لگائی:

’’علی خان‘‘۔

اِچری شہر کی ایک گول سی دیوار شق ہوئی ،پہلے اس میں سے ایک سرخ پکوڑاسی ناک برآمد ہوئی اس کے بعدسالم علی خان اچھلتا ہوا سامنے آگیا۔نٹ کھٹ چلبلا علی خان مسلسل لہرا رہا تھا، جھوم رہا تھا، اس کے پاؤں یوں اٹھتے تھے جیسے کسی الہڑ رقاص کے پیر قابو سے نکل جاتے ہیں۔بابے نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا، مسکرایا پھر اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے کہا، یہاں بیٹھو ، مجھے مہمانوں سے بات کرنی ہے۔ بابا اپنے ٹھیئے سے اٹھا ، میرا ہاتھ تھاما اور اسی دیوار کی طرف لے چلا جس سے علی خان برآمد ہوا تھا۔فی الاصل وہ کوئی دیوار نہ تھی،ایک چھوٹا سا کمرہ تھا ۔سیکڑوں ہزاروںبرس پرانی عمارتیںاور ان کے دروازے خوب ہوتے ہیں۔ ہوتے تو وہ بھی عام دروازوں اور عام عمارتوں جیسے لیکن ان میں خواہ مخواہ ایک عظمت اور سخاوت سی پیدا ہوجاتی ہے ،زائر صاحبِ ذوق ہو تو اُسے وہ اپنی خوشبو کا تحفہ بھی پیش کرتے ہیں ،قربت تھوڑی مزید بڑھ جائے تو باتیں بھی کرتے ہیںاور اپنے عہد اور اپنے عہد کے لوگوں کے بارے میں بھی بہت کچھ بتا دیتے ہیں۔

دیوار کے ساتھ لگے ہوئے اس کمرے کی تقریباً ساری ہی چھت گنبد کی ہے جسے دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے اِس بیضوی کرے کی یادداشت میں اُن تمام نفوس کے چہرے محفوظ ہیں جنھوں نے اس چھت کے نیچے سانس لی، تندو تیز جھکڑوں سے بچنے کے لیے پناہ لی۔جوں ہی میں نے اس کمرے میں قدم رکھا،اس کی دیواروں نے ساری کہانی کہہ سنائی۔کمرے کے عین درمیان میں پہنچ کر میزبان بیٹھنے کے لیے جگہ بنانے لگے تو میں نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ لکڑی اور لوہے کے ملاپ سے وجود میں آنے والے مضبوط دروازے نے گواہی دی کہ گزشتہ نامعلوم صدیوں کے دوران یہاں گھڑ سوار دستوں کے سالار نے نقشے بچھا کر جنگوں کی حکمت عملی تیار کی ،حملہ آوروں کے دانت کھٹے کرنے کی منصوبہ بندی اور جنگوں کے دوران بہت سے زخمیوں کو علاج کی غرض سے یہاں لاکر مرہم پٹی کی گئی ہوگی اور وقت آخر کسی بہادر نے اپنی جان آفریں کے سپرد کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو یاد کیا ہوگا۔یہ راز و نیاز ابھی جاری تھا کہ بابے نے مجھے مخاطب کیا :

’’افندم!

اس بار اس کے لہجے میں حلاوت اور مٹھاس تھی، وہ بزرگانہ سختی نہیں تھی جو اولاد کو حکم دیتے وقت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔اس نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا بیٹے افندم! یہ جگہ آذربائیجانی نوادر کا ایک روایتی شوروم بھی تھا جسے دیکھنے والا خواہ مخواہ ماضی میں جا پہنچتا ہے۔

بیٹھنے کے لیے پیش کی جانے والی کرسیاں بھی اسی منظر کا حصہ محسوس ہوئیں۔کرسی کی پشت قالین نما تھی جس کی گہری عنابی زمین پر سنہری نقش و نگار کے بیچ ایک  عظیم الشان بوڑھا کچھ پڑھتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔نہاد یعنی میزبان نے میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے بتایا، شروانیہ، شروانیہ۔اس کا اشارہ اس سرزمین کے صدیوں پرانے حکمران خاندان اور اس کی رعایت سے معروف آرٹ کی طرف تھا۔شروانیہ جاہ وجلال کی وارث کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس باتونی بڈھے کو یہاں آنے کا مقصد یاد دلایا تو وہ مسکرایا اور کہا:

’’گوزلیمک(Gozlemek)‘‘ یعنی انتظار۔

اِس دوران اُس نے کسی کو بلا کر چائے کا کہا، اطمینان سے بیٹھا پھر سامنے مینار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :

’’یہ، گِز گلاسی(Qyz Qalasy) ،جس کی بلندیوں سے سنہرے بالوں والی جلوہ دکھاتی ہے؟‘‘

اُس نے میڈن ٹاور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

میں حیران اس کی طرف دیکھتا رہا۔نہاد نے قند کی طشتری میری طرف بڑھائی دوسرے ہاتھ سے ایک ڈلی اپنے منہ میں ڈالی ،اطمینان سے ایک چسکی چائے کی لی پھر کہاکہ یہ پرستان ہے۔یہاں قدم قدم پرکہانیاں جنم لیتی ہیں ، تم کون سی کہانی سنو گے؟

’’مجھے تو اِس مینار سے مطلب ہے جسے تم گِز گلاسی کہتے ہو‘‘۔

’’ یہ مینار نہیں ایک چیستان ہے جس کا تعلق جی داری، بہادری اور ایثار کی ایسی داستان سے ہے، یہ ایک ایسی داستان ہے جس کرداروں کی یاد اس دیس کے باسیوں کے جسم میں لہو بن کر دوڑتی ہے۔باتونی بڈھے نے داستان کا آغاز کیا۔  (جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •