خواجہ سراؤں پر مبنی انقلابی ڈرامہ سیریل ’’خدا میرا بھی ہے‘‘


\"mehwish\"’’خدا میرا بھی ہے‘‘ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ناظرین کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی طرف دلائی گئی ہے جس پہ بات کرنا اور عوام میں اس بارے میں آگاہی پیدا کرنا یقیناً بہادری سے کم نہیں۔ کھیل کے مرکزی کرداروں میں شامل ہیں \”ماہ گل\” اور \”زین\” جن کے یہاں ایک خواجہ سرا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ زین اس بچے کو transgenders  (خواجہ سراؤں) کے پاس دے آتے ہیں مگر ماہ گُل اسے واپس لے آتی ہیں اور یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ کیونکہ زین اس بچے کو قبول نہیں کر سکتے اس لئے وہ زین کو چھوڑ کر یہ بچہ پالیں گی۔ اس قسط میں ایک منظر ایسا آتا ہے جس میں زین ایک ٹریفک سگنل پہ رکتے ہیں اور جیسے ہی ان کے پاس ایک خواجہ سرا آتا ہے وہ اس کو خوب مارتے پیٹتے ہیں۔ اس منظر سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ جو لوگ عدم برداشت رکھتے ہیں اور ایک مختلف انسان کو برداشت نہیں کر سکتے وہ دراصل پُر تشدد ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔ خواجہ سرا کو مارنے کے بعد زین رونا شروع کر دیتے ہیں جس سے ایک اور بات سامنے آتی ہے کہ تشدد کرنے والے خود احساسِ کمتری یا ایک جھوٹی احساسِ برتری کا شکار ہوتے ہیں۔

کچھ دن پہلے ہی Trans Action Pak کے نام سے ایک پیج نے transgenders  یا خواجہ سراؤں کے خلاف ہونے والے مظالم کی نشاندہی کی۔ افسوس یہ تھا کہ پولیس اور شہر کا شہر جانتا ہے کہ کون کون سے گینگ اس قسم کے بہیمانہ تشدد میں ملوث ہیں لیکن اس سوچ اور اس طریقہ کار کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی جاتی۔ طرّہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ transgenders  یا خواجہ سراؤں کو انسان سمجھتے ہی نہیں اور ان سے جانوروں سے بھی برا سلوک کرتے ہیں۔

ڈرامے میں سب نے بہت اچھی اداکاری کی ہے اور کہانی کو بہت اچھے انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ آنے والی اقساط میں بھی اس کھیل کے توسط سے عوام کے اندر برداشت اور ہر انسان سے محبت کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔

اس ڈرامے کا مکمل ریویو اور مزید تفصیل اس لنک میں موجود ویڈیو میں دیکھئے۔

Facebook Comments HS

One thought on “خواجہ سراؤں پر مبنی انقلابی ڈرامہ سیریل ’’خدا میرا بھی ہے‘‘

  • 16/12/2016 at 3:04 شام
    Permalink

    v informative. i am watching this drama because emotions are v intense and it is considered taboo topic. so far V little available on the media which talks of rights and vulnerabilities of #transgenders. thanks so much to the writer and director of #khuda mera bhe hay for bringing this taboo topic on the mainstream media.

Comments are closed.