ٹروتھ کمیشن: لیکن ٹروتھ کو تسلیم کون کرے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک شخص مجلس میں بیان کر رہا تھا کہ میں نے اور میرے ایک قریبی دوست نے بیس سال قبل یہ تہیہ کیا کہ ایک دوسرے کے متعلق جو کچھ سوچتے ہیں وہ سچ سچ کہہ دیں گے اور ایک دوسرے سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ ایک سننے والے نے کہا کہ “اس کے بعد کیا ہوا؟”۔ ان صاحب نے جواب دیا کہ ” بیس سال سے ہماری بول چال بند ہے”۔ کچھ عرصہ سے ایک اور مطالبہ سننے کو مل رہا ہے۔ اور وہ یہ کہ پاکستان میں ایک “ٹروتھ کمیشن ” قائم کرنا چاہیے جو کہ ہمارے قومی المیوں پر تحقیق کر کے سچائی قوم کے سامنے پیش کرے اور ان بنیادوں پر باہمی مفاہمت کی راہ ہموار کی جائے۔

کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو نا فرمانی کی وجہ سے چالیس سال کے لئے ارض موعود میں داخل ہونے سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اور اس دوران وہ بیابانوں میں بھٹکتے رہے تھے۔ اور ہم ہیں کہ تہتر سال اپنے ہی وطن میں بھٹک بھٹک کر منزل تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ منزل تو نہیں ملی لیکن جستجو کا سفر ختم نہیں ہوا اور یہ سفر ختم ہونا بھی نہیں چاہیے۔

جہاں تک ” ٹروتھ کمیشن ” کا تعلق ہے تو یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ بے شک ایسا کمیشن قائم ہونا چاہیے۔ اور ہو سکتا ہے کہ ہم ایسے چند مخلص ممبران ڈھونڈنے میں بھی کامیاب ہو جائیں جو کہ دیانتداری سے تحقیق کر کے قوم کے سامنے حقائق پیش کر دیں۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟

کیا پہلے کبھی قومی المیوں پر کمیشن قائم نہیں ہوئے؟ میں ایسے دو تحقیقاتی کمیشنوں کی مثال پیش کرتا ہوں جنہوں نے پاکستان کی تاریخ کے دو اہم مرحلوں پر تحقیقات کر کے رپورٹیں مرتب کیں۔ سب سے اہم مثال تو حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ ہے۔ اس کمیشن نے سانحہ مشرقی پاکستان پر تحقیق کر کے جامع رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کو اتنا خفیہ رکھا گیا کہ ممبران پارلیمنٹ کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہوئی کہ اس رپورٹ میں کیا نتائج پیش کئے گئے اور اس رپورٹ کی کیا سفارشات تھیں؟

اس رپورٹ میں جن جرنیلوں پر کھلی عدالت میں مقدمات چلانے کی سفارش کی گئی تھی ان میں سے کسی ایک پر بھی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ بلکہ ان میں سے ایک جرنیل جنرل گل حسن صاحب کو تو فوج کا سربراہ بھی بنا دیا گیا تھا۔ جب یہ رپورٹ حکومت کو ملی تو انہیں افراتفری میں سبکدوش کیا گیا۔

اس رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ فوج کو سیاست اور سول انتظامیہ سے بالکل علیحدہ رکھا جائے اور اس رپورٹ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ مقصد صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ہماری قوم میں سیاسی بلوغت پیدا ہو اور ملک میں سیاسی ادارے مستحکم ہوں اور یہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ کیا ہم نے اس سفارش پر عمل کیا؟

اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹوں اور سول سروس میں داخل ہونے والے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اس انداز میں کرنی چاہیے کہ ان میں آئین اور سیاسی جمہوری اداروں کا احترام پیدا ہو۔ کیا ہم نے اس مقصد کے حصول کے لئے کوئی سنجیدہ کوششیں کیں؟

اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنرل یحییٰ خان صاحب نے اپنے دور اقتدار میں خود، ان کے چیف آف سٹاف اور ایڈجوٹنٹ جنرل نے سول انتظامیہ سے مل کر وسیع زرعی اراضی اپنے نام کرا لی اور نچلی سطح کے افسران نے بھی یہی کام شروع کر دیا۔ اور خاص طور پر میجر جنرل خداداد خان صاحب تو اپنےعسکری فرائض ادا کرنے کی بجائے ان زمینوں کو آبا د کرنے کی زیادہ فکر کر رہے تھے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ زمینوں کے اس حصول پر تحقیقات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ آئندہ کوئی اپنی پوزیشن کا فائدہ اُٹھا کر اس طرح زمینوں پر قبضہ نہ کرے۔ کیا پاکستان میں کوئی کوشش کی گئی کہ آئندہ کوئی بھی خواہ وہ فوجی افسر ہو یا سیاستدان ہو یا سول افسر ہو اس طرح زمینوں کو الاٹ نہ کرائے؟

[حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ناشر سنگ میل ص288،355،352]

حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کو خفیہ رکھا گیا۔ یہاں تک کہ اس سانحہ کے سب سے بڑے مجرم جنرل نیازی صاحب نے پگڑی پہن کر جمعت العلمائے پاکستان کے جلسوں میں بطور ہیرو شرکت شروع کر دی۔ اور دھڑلے سے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ اس رپورٹ کو شائع کر دو۔

1953 میں پنجاب میں احمدیوں کے خلاف فسادات شروع ہوئے اور 6 مارچ کو اس انتہا کو پہنچے کہ لاہور میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ ان فسادات پر تحقیقاتی عدالت قائم کی گئی اور اس تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ شائع بھی ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ صاحب کی حکومت خود ان فسادات کی اس طرح سرپرستی کر رہی تھی کہ تعلیم بالغاں کے فنڈ سے بھاری رقوم نکال کر ان اخبارات کو دے رہی تھی جو کہ ان فسادات کو ہوا دینے کے لئے مضامین لکھ رہے تھے۔ ان اخبارات میں زمیندار، آفاق ، مغربی پاکستان اور احسان شامل تھے۔

[رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953ص83،84]

کیا پاکستان کے حکومتی اداروں یا خود صحافتی دنیا نے اس سے کوئی سبق حاصل کیا؟ یا امداد غیبی کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ بعض اخبارات نے ٹروتھ کمیشن کے حق میں بھی لکھا ہے لیکن اگر اس ٹروتھ کمیشن میں کئی اخبارات اور چینلز کے بارے میں اس قسم کے شواہد سامنے آئے تو کیا ان شواہد کو کشادہ دلی سے قبول کیا جائے گا؟ یا ان نتائج کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق صاحب نے ٹروتھ کمیشن کے قیام کی حمایت میں بیان دیا ہے۔ یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ 1953 کے فسادات پر بننے والی تحقیقاتی عدالت نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جماعت اسلامی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ مجلس عمل کے اس اجلاس میں شامل تھی جس میں خواجہ ناظم الدین صاحب کی حکومت کو ڈائریکٹ ایکشن کی دھمکی دی تھی۔ لیکن تحقیقات پر یہ بات سامنے آئی کہ اس اجلاس میں جماعت اسلامی کا نمائندہ شامل تھا۔ اور اس نمائندے نے اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

[رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953ص263تا 266]

کیا ان شواہد کے سامنے آنے پر کوئی سبق حاصل کیا گیا۔ اس رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ اس مسئلہ کو سیاسی مصالح سے الگ ہو کر محض قانون اور انتظام کا مسئلہ قرار دیا جاتا تو تو صرف ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سپرٹنڈنٹ پولیس ان کے تدارک کے لئے کافی تھے لیکن جان بوجھ کر حالات کو خراب ہونے دیا گیا یہاں تک کہ لاہور میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ تاریخ پاکستان میں بار بار دہرائی گئی۔ اور امن عامہ اور دہشت گردی کو خود پروان چڑھنے دیا گیا یہاں تک کہ ہزاروں پاکستانیوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کرنا پڑا۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کمیشن پہلے بھی بنے ہیں اور کئی مرتبہ انہوں نے بہت محنت سے رپورٹیں بھی مرتب کی ہیں لیکن کیا ہم نے ان سے کوئی فائدہ اُٹھایا؟ یا انہیں محض ” طاق نسیاں” پر سجا کر فراموش کر دیا۔ جب تک ہم حقائق کو تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں پیدا کرتے، محض نئے کمیشنوں اور نئی رپورٹوں سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •