صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ (ن) نے جسٹس فائز عیسی قاضی کے خلاف ریفرنس مسترد ہونے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے بارے غور و خوض شروع کر دیا ہے۔ سابق سپیکر ایاز صادق کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطہ کر کے ان کی رائے لیں تاکہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا جاسکے، مسلم لیگ نون نے جانبداری پر سپیکر کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ غیر جانبدار نہ ہوئے تو پارٹی قائمہ کمیٹیوں کے علاوہ دیگر تمام سرکاری تقریبات، خصوصی کمیٹیوں کے اجلاس اور سپیکر کی دعوت پر کسی مشاورتی اجلاس میں شریک نہیں ہوگی، مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر احتجاج کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھی اپنے اقتدار میں اپوزیشن کو فنڈز نہیں دیے تھے۔ اس لئے ہمارا احتجاج بے سود ہوگا۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر بحث آئی کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہ ہونے پراور نیب کی انتقامی کارروائیوں پر چیف الیکشن کمشنر آفس اور نیب ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاج کیا جائے، کراچی میں مریم نواز کے کمرے کو توڑ کر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملہ کو ہر قسم کے پلیٹ فارم سے اٹھایا جائے، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف، انسانی حقوق میں متعلقہ اداروں کے سربراہوں کو بلا کر واقعہ کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے دباؤ ڈالا جائے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا گیا کہ اگر کراچی واقعہ میں پیپلز پارٹی بے قصور ہے تو پھر سندھ حکومت نے آئی جی کے اغوا کی درخواست کیوں درج نہیں کرائی، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو اس معاملہ پر مدعی بننا چاہیے تھا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز سینٹ اور قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں راجہ ظفرالحق، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں 30 سینیٹرز میں سے 12 جبکہ 50 سے زائد ایم این ایز نے شرکت کی، اجلاس میں ارکان اسمبلی اور سینیٹرز نے کھل کر اظہار خیال کیا، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اسمبلی سپیکر نہیں کوئی اور چلا رہا ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی نہیں چلائی جاتی ہمیں سپیکر کے رویہ پر اجلاس کا روزانہ کی بنیاد پر بائیکاٹ کرنا چاہیے، ہم منتخب نمائندے ہیں جب بات ہی نہیں کر سکتے تو اس ایوان میں بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے میں اجلاس میں آنے سے گریز کرتا ہوں، جس پر سپیکر کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپیکر کو باور کرایا جائے گا کہ وہ جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ازالہ نہ ہونے پر کارروائی نہ چلنے دی جائے، شدید احتجاج اور کورم کی نشاندہی کے ذریعے حکومت کو مفلوج کیا جائے، صرف قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں شرکت کی جائے گی سپیکر کی طرف سے دیگر کسی قسم کی میٹنگ، خصوصی اجلاس، تقریب میں شرکت نہیں کی جائے گی۔

شاہد خاقان نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ مریم نواز کے ساتھ کراچی میں پیش آنے والے واقعہ پر سینیٹ جو کہ فیڈریشن کی علامت ہے نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو کرنا چاہیے تھا جس پر سینیٹر غوث نیازی نے کہا کہ ہم قرار داد پیش کرنا چاہتے تھے لیکن چیئرمین سینٹ نے ہمیں رولز کا حوالہ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ قائد ایوان کی اجازت کے بغیر کوئی قرار داد پیش نہیں کی جا سکتی، اس لیے ہم خاموش ہو گئے لیکن اجلاس کے دوران شدید احتجاج کیا اور ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دی، مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر نے کہا کہ سینٹ کی کمیٹی میں کراچی واقعہ زیر بحث ہے اس معاملہ پر نون لیگ کے سینیٹرز کو ہارڈ لائن لیتے ہوئے معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے سربراہوں کو ہاؤس میں طلب کرنے کی تجویز پیش کرنا چاہیے۔

سینیٹ کمیٹی برائے قانون و انصاف، انسانی حقوق کا اجلاس 28 اکتوبر کو بلایا گیا تھا وہ اچانک ملتوی کر دیا گیا اس معاملہ کی تہہ تک پہنچا جائے، ترقیاتی فنڈز پر احتجاج کی تجویز ساہیوال سے رکن قومی اسمبلی چوہدری اشرف نے پیش کی، فیصل آباد سے علی گوہر بلوچ نے کہا کہ میڈیا اور عوام میں کسی حد تک یہ تاثر ہے کہ پوری مسلم لیگ نون نواز شریف کے بیانیہ پر متفق نہیں ہے اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے نواز، شہباز کے نمائندے سمجھے جانے والے رہنما مشترکہ پریس کانفرنس کریں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے ان کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ پوری مسلم لیگ نون نواز شریف کے بیانیہ پر متحد و متفق ہے۔

گوجرانوالہ سے رکن اسمبلی ڈاکٹر نثار چیمہ نے کہا کہ عمران خان کے خلاف 7 سال سے فارن فنڈنگ کیس کا مقدمہ زیر التواء ہے الیکشن کمیشن فیصلہ نہیں کر رہا، ہمیں چیف الیکشن کمشنر آفس کے سامنے احتجاج کرنا چاہیے، نیب آفس کے سامنے احتجاج اور کیمپ لگانا چاہیے، تاکہ قیادت کے خلاف ذاتی اور انتقامی کارروائیوں کا راستہ روکا جائے۔ راؤ اجمل اور جاوید لطیف نے مریم نواز کے ساتھ کراچی میں پیش آنے والے واقعہ پر شدید احتجاج کی تجویز سامنے آئی، دونوں ایوان سینٹ اور قومی اسمبلی میں تحاریک اور قرار دادیں پیش کرنے پر غور و خوض کیا گیا شیخ روحیل اصغر کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا انہوں نے کئی مرتبہ ہاتھ کھڑا کیا، پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت بارے تحفظات کا اظہار راؤ اجمل نے کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •