ایاز صادق کا انڈین پائلٹ ابھینندن سے متعلق بیان: انڈین اور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین میں ’گھمسان کی جنگ‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان
BBC
’ابھینندن کی تو بات ہی نہ کریں۔ مجھے یاد ہے شاہ محمود قریشی صاحب بھی اس میٹنگ میں تھے، جس میں وزیرِ اعظم نے آنے سے انکار کر دیا اور فوج کے سربراہ تشریف لائے۔ پیر کانپ رہے تھے، ماتھے پر پسینہ تھا، اور ہم سے شاہ محمود صاحب نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے، اب اس (ابھینندن) کو واپس جانے دیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو رات نو بجے ہندوستان پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے۔ ہندوستان نے کوئی حملہ نہیں کرنا تھا، صرف گھٹنے ٹیک کر ابھینندن کو واپس بھیجنا تھا۔‘

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی اس بظاہر معمول کی تقریر میں سے لیے گئے یہ الفاظ پاکستان اور انڈیا دونوں ہی جانب موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔

گذشتہ روز قومی اسمبلی میں کی گئی اس تقریر کا پاکستان کے سوشل میڈیا پر فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا، تاہم جیسے ہی ٹوئٹر پر موجود انڈین تجزیہ نگاروں اور انڈین میڈیا کی جانب سے اس بیان کی ’اہمیت‘ پر روشنی ڈالی گئی تو پاکستان میں بھی صارفین غصے سے لال پیلے ہونے لگے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ابھینندن کا طیارہ گرنے کے بعد کیا ہوا تھا؟

ابھینندن کی ڈرامائی گرفتاری کی کہانی

بالاکوٹ فضائی حملہ: وہ سوال جن کے جواب نہیں مل سکے

انڈین پائلٹ ابھینندن کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا

یاد رہے کہ 27 فروری 2019 کو پاکستانی علاقے بالاکوٹ کے گاؤں جابہ پر انڈین طیاروں کی بمباری کے ایک دن بعد لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے ہوڑاں میں پاکستان کی فضائیہ نے انڈین جیٹ گرا کر فائٹر پائلٹ وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

تاہم تحویل میں لیے جانے کے 60 گھنٹے بعد ہی انھیں انڈین حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

ایک جانب تو انڈیا میں صارفین اور تجزیہ نگار ان الفاظ کے ذریعے فروری 2019 میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی کشیدگی میں اپنی فتح کا اعلان کر رہے تھے، تو دوسری جانب پاکستانی صارفین رکنِ قومی اسمبلی کو ’غدار‘ اور طرح طرح کے القابات سے نوازتے ہوئے اُن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

سینیٹ کے آج ہونے والے اجلاس میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔

سوشل میڈیا دیکھ کر بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تقریباً 20 ماہ قبل ہونے والی اس کشیدگی کی پاکستانی اور انڈین عوام کے لیے آج بھی ویسی ہی اہمیت ہے جیسی دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے کسی کرکٹ میچ کی ہوتی ہے۔

فرق شاید صرف اتنا ہے کہ اس حوالے سے دونوں ہی کا یہ خیال ہے کہ فتح ان کے حصے میں آئی تھی۔

انڈیا میں میڈیا اور اکثر صارفین یہ تبصرہ بھی کرتے دکھائی دیے کہ ایاز صادق کے یہ الفاظ کہ ’پیر کانپ رہے تھے، پسینہ ماتھے پر تھا‘ دراصل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کے لیے استعمال کیے گئے تھے تاہم تقریر غور سے سننے پر علم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے لیے استعمال ہوئے۔

اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہی عزت کو تار تار کرنا؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر ابھینندن کا ٹرینڈ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کبھی ان کی انڈین فضائیہ کی جانب سے سامنے آنے والی کسی خبر پر تبصرے ہوتے رہے ہیں تو کبھی پاکستان میں چائے کی پیالی کو ’بہت اعلیٰ‘ کہنے پر بات ہوئی ہے۔

تاہم یہ تمام تبصرے کبھی طنز اور کبھی مذاق کے طور پر کیے جاتے تھے لیکن آج اکثر صارفین خاصے غصے میں دکھائی دیے۔

’ایک صارف نے لکھا کہ ایاز صادق کے بیان نے میرا دل توڑ دیا۔ میں اس وقت رو رہی ہوں، اتنی بے عزتی، اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی عزت تار تار کرنے جیسا ہے۔‘

مان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’انڈیا کی ایاز صادق کے بیان پر خوشی انتہائی پریشان کُن ہے۔ شاہ محمود قریشی کو اس کا جواب دینا ہو گا کیونکہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’ن لیگ عمران خان کی نفرت میں اتنا نیچے گر چکی ہے کہ اب اسے ملک کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ہمارے خفیہ اداروں کو چاہیے کے وہ اس ملک مخالف نظریے کے خلاف بات کریں۔‘

اکثر صارفین نے ایاز صادق اور ان کی جماعت کو بھی ’غدار‘ قرار دیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بات کی۔

بابر حیات نامی ایک صارف نے لکھا: ‘بیچارے انڈین صارفین ایاز صادق کے بیان پر خوشیاں منا رہے ہیں لیکن اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ وہ حزبِ اختلاف میں ہیں اور انھوں نے ایسا اپنی بدعنوانی کو چھپانے کے لیے کر رہے ہیں۔’

ملک اچکزئی نامی ایک صارف نے ایاز صادق کا دفاع کیا اور کہا کہ بطور رکنِ پارلیمان انھیں ابھینندن سے متعلق صورتحال کی وضاحت کرنے کا پورا حق ہے۔

ابھینندن کی رہائی سے متعلق ‘سچ’ سامنے آ گیا

اُدھر انڈیا میں ایاز صادق کے اس بیان کو ’دھماکہ خیز‘ انکشاف کہہ کر دکھایا گیا اور کہا گیا کہ وزیرِ خارجہ کو ابھینندن کی رہائی کے لیے سیاسی رہنماؤں کے سامنے گڑگڑانا پڑا۔

انڈین میڈیا کی جانب سے اسے ابھینندن کی رہائی سے متعلق حقائق کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔

اکثر صارفین نے راہل گاندھی کو ٹیگ کیا اور ان کی جانب سے نریندر مودی پر اس واقعے سے متعلق کی جانے والی تنقید پر جواب مانگا۔

اکثر انڈین صارفین نے پاکستانی رہنماؤں کے لیے ’ڈرپوک‘ کا لفظ بھی استعمال کیا اور اس کشیدگی میں اپنی فتح کے بارے میں بات بھی کی۔

ایک انڈین صارف نے لکھا کہ ابھینندن سے متعلق یہ بیان اب پاکستان کی پارلیمان میں دیا گیا ہے اور اب یہ ریکارڈ پر موجود ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا مداح تو نہیں ہوں، لیکن میرے نزدیک بھی ابھینندن کو رہا کرنا ہی صحیح فیصلہ تھا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16691 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp