رجب طیب اردوغان: ایک کوسٹ گارڈ کا بیٹا ترکی کا ’جھگڑالو‘ صدر کیسے بنا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

President Erdogan giving four-finger salute, 11 Mar 17

AFP

ایک متوسط گھرانے میں پرورش پانے والے طیب رجب اردوغان وقت کے ساتھ ساتھ سیاست کے ایک بھاری بھرکم پہلوان بن چکے ہیں۔ جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے بعد وہ واحد ایسے رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں جس نے ترکی کی تشیکیل نو کسی بھی دوسرے ترک رہنما کے مقابلے میں سب سے زیادہ کی ہے۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران ترکی کی معیشت تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح تقریباً 12 فیصد ہے اور دو روز قبل ترک کرنسی لیرا کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہوئی ہے۔ دوسری کورونا وائرس کی وبا ترکی کو درپیش معاشی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

جب طیب اردوغان مارچ 2003 میں برسراقتدار آئے تو ایک امریکی ڈالرکے مقابلے میں لیرا کا ریٹ 1.6 تھا، یعنی لگ بھگ ڈیڑھ ترکش لیرے کے عوض ایک امریکی ڈالر۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ لگ بھگ آٹھ ترکش لیروں کے عوض ایک امریکی ڈالر ملتا ہے۔ اقتدار میں اُن کے ابتدائی برسوں میں ترکی کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوا تھا اور کافی ترقی ہوئی تھی۔

عسکری طاقت

گذشتہ چند ماہ کے دوران ترک صدر نے کوشش کی ہے کہ وہ ترکی کی عسکری طاقت کا برملا اظہار علاقائی سطح پر کریں۔ اس صورتحال سے یورپی یونین سمیت ترکی کے نیٹو اتحادی ممالک سب ہی پریشان ہیں۔

ترک فوج لیبیا اور شام میں بلاواسطہ اور ناگورنو قرہباخ تنازع میں بلواسطہ ملوث ہوئی ہے۔ ترک فوج نے آذربائیجان اور آرمینیا تنازع سے چند ہفتے قبل ہی فوجی مشقیں کی تھیں۔

Troops from Azerbaijan and Turkey shaking hands, Aug 2020

Getty Images

ترک نژاد آذربائیجانی شہریوں کے ترکی کے ساتھ قریبی تعلقات اور روابط ہیں اور آذربائیجان کی اہم تیل کی برآمدات کی پائپ لائنیں ترکی سے گزرتی ہیں۔ مگر اس علاقے میں روس کا اثر و رسوخ گذشتہ کئی صدیوں ہے۔

اور اس خطے سمیت لیبیا اور شام میں اردوغان کے عزائم روس کے صدر پوتن کے عزائم سے ٹکراتے نظر آتے ہیں۔

مشرقی بحیرہِ روم میں غیر استعمال شدہ گیس کے ذخائر پر اردوغان کی نظر ہے اور یہ ذخائر ان کے جیو پولیٹیکل ایجنڈہ کا حصہ ہیں۔ یونان اور قبرص کی حکومتوں کو ترکی کی جانب سے قبرص کے متنازع ساحلی علاقے کے قریب گیس ڈھونڈنے کی کوششوں پر غصہ ہے۔ چونکہ یونان اور قبرص یورپی یونین کا حصہ ہیں اسی لیے یورپی یونین نے اپنے ممبر ممالک کے خدشات کی بنا پر ترکی پر شدید تنقید کی ہے۔

دوسری جانب اردوغان نے مغربی ممالک کی جانب سے ترکی پر ڈالے جانے والے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شمالی قبرص میں چند ترک قوم پسند رہنمائوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ شمالی قبرص کی خود ساختہ ’ریپبلک‘ کو دنیا میں صرف ترکی ہی سرکاری سطح پر تسلیم کرتا ہے۔

حال ہی میں اردوغان نے فرانسیسی صدر کی دماغی صحت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں علاج کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ایسا اس لیے کہا کیونکہ فرانس اپنے ملک میں اسلام پسندوں کے اثروروسوخ کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔

صدر اردوغان کی جانب سے اسلام پسندوں اور ان کی تحریکوں، جیسا کہ مصر میں اخوان المسلمین، کی حمایت کرنے کا سلسلہ کافی پرانا ہے۔ جولائی 2020 میں انھوں آیا صوفیہ کو ایک مسجد قرار دے کر بہت سے مسیحی افراد کو ناراض کیا تھا۔

آیا صوفیہ کی ڈیڑھ صدی قدیم عمارت کو ایک کیتھیڈرل کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا مگر سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں اسے ایک مسجد بنا دیا گیا۔ بعدازاں ترکی کے بانی کمال اتاترک نے اسے ایک میوزیم میں تبدیل کر کے ترکی کو ایک سیکولر ملک قرار دینے کی کوشش کی۔

Yes camp celebrations in Istanbul, 16 Apr 17

AFP

برسراقتدار جماعت کو چیلنج

گذشتہ سال طیب اردوغان کی قیادت میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے ملک میں مقامی سطح پر انتخابات تو جیت لیے تھے مگر اُن کی پارٹی کو ملک کے تین اہم شہروں، استبول، انقرہ اور ازمیر، میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔ سنہ نوے کی دہائی میں اردوغان استنبول کے میئر تھے مگر گذشتہ انتخابات میں ان کی جماعت حزب اختلاف کی بڑی جماعت ریپبلیکن پیپلز پارٹی کے ہاتھوں استنبول شہر کے میئرشپ کی سیٹ ہارتے ہارتے بچی۔

1990 کی دہائی میں اردوغان خود استنبول کے میئر تھے اور یہ عہدہ ہارنا ان کے ذاتی ناکامی تھی۔

طیب اردوغان کی پارٹی کے زیادہ تر ووٹر قدامت پسند دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اردوغان کو ابتدائی شہرت استنبول میں ہی حاصل ہوئی تھی، آج اس شہر کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ استنبول اور انقرہ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ہی اے کے پی (اردغان کی پارٹی) نے اپنی ملک گیر کامیابی میں بدلا اور اب ان کی پارٹی ملکی سیاست کی سب سے بڑی کھلاڑی ہے۔

اردوغان صدارت

جون 2018 میں صدر اردوغان کو دوبارہ پانچ برس حکومت کرنے کا موقع ملا۔ موجودہ دور اقتدار میں انھیں مزید صدارتی اختیارات بھی مل گئے ہیں کیونکہ سنہ 2017 میں انھوں نے ایک متنازع ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کر لی تھی اور ملک میں آئینی تبدیلی لائے تھے۔ اس ریفرنڈم میں مقابلہ اتنا سخت تھا کہ آئینی تبدیلی کے حامیوں کی تعداد 51 فیصد جبکہ مخالفین کی 49 فیصد تھی۔

طیب اردوغان کو حاصل صدارتی اختیارات کی فہرست کچھ یوں ہے:

  • وہ براہِ راست بڑے عہدوں پر سرکاری ملازمین تعینات کر سکتے ہیں، بشمول وزرا اور نائب صدور
  • وہ بطور صدر ملک کے قانونی نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں
  • وہ ضرورت پڑنے پر ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر سکتے ہیں

اپنے اختیارات میں اضافے کے ساتھ ہی انھوں نے ریاستی اداروں میں بہت رد و بدل کی اور اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ اس رد و بدل سے پہلے سنہ 2016 میں ان کے خلاف ایک ناکام فوجی بغاوت بھی ہوئی تھی جس میں فوجی جرنیل اُن کی حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکے تھے۔ اس ناکام بغاوت کے ردعمل میں صدر اردوغان نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کروائیں۔

مغربی ممالک میں ان گرفتاریوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے طور پر دیکھا گیا۔

Tank crushing a car as people confront soldiers in Ankara, 16 Jul 16

AFP

سنہ 1960 میں اور اس کے بعد مزید تین مرتبہ ترک فوج نے ملکی سیاسی میں مداخلت کی ہے اور خود کو کمال اتاترک کے سیکولر ترکی کے ضامن کے طور پر پیش کیا ہے۔

مگر اردوغان کی پارٹی اے کے پی نے فوج کے سیاست میں دخل اندازی کے تمام عزائم ملیامیٹ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔

سنہ 2016 میں ہونے والی آخری فوجی ناکام بغاوت میں کم از کم 240 افراد ہلاک ہوئے تھے اور حکام کے مطابق اس وقت اردوغان کی جان کو بھی شدید خطرہ تھا۔ مگر وہ 12 گھنٹے بعد منظرِ عام پر واپس آ چکے تھے اور باغیوں کو ناکام بنا چکے تھے۔

انھوں نے ریاستی ٹی وی پر اپنے حامیوں سے خطاب کیا اور خود کو ملک کا چیف کمانڈر قرار دیا۔ مگر اس سارے واقعہ کا صدر پر دباؤ اس وقت نظر آ رہا تھا جب وہ اپنے ایک قریبی دوست اور اس کے بیٹے کی آخری رسومات کے دوران سرعام رو پڑے۔ انھیں باغیوں نے گولی مار دی تھی۔

صدر اردوغان کے ناقدین انھیں آمریت پسند کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو بھی ان پر تنقید کرتا ہے اسے بری طرح خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ ان کی مخالفت کرنے اور بے عزتی کے الزام میں گرفتار افراد میں جہاں ایک 16 سالہ نوجوان ہے تو وہیں سابق حسینہِ ترکی بھی جنھوں نے صدر کے خلاف ایک نظم لکھی تھی۔

Freedom of speech demonstration in Istanbul, 9 Apr 17

AFP

ناقدین کو خاموش کر دینا

طیب اردوغان ملکی سطح پر اقتدار میں سنہ 2003 سے موجود ہیں۔ وہ 11 سال ملک کے وزیراعظم رہے اور اس کے بعد اگست 2014 میں وہ ملک کے پہلے براہِ راست منتخب ہونے والے صدر بنے۔ کہنے کو یہ صرف ایک علامتی عہدہ تھا۔

ان کی جانب سے اپنے ناقدین پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے مغربی ممالک کافی پریشان رہے اور یورپی یونین کے ترکی کے ساتھ تعلقات بھی سرد مہری کا شکار رہے۔

بغات کی ناکام کوشش کے بعد سے اب تک پچاس ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن میں فوجی، صحافی، وکلا، پولیس اہلکار، کرد سیاستدان سبھی شامل ہیں۔ فوجی بغاوت میں ساتھ دینے کے الزام میں حکام نے ڈیڑھ لاکھ سرکاری ملازمین کو نوکری سے بھی فارغ کیا تھا۔


اقتدار کا سفر

فروری 1954 میں طیب اردوغان ایک کوسٹ گارڈ کے گھر پیدا ہوئے۔ جب وہ 13 سال کے تھے تو ان کے والد نے استنبول منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کے بچوں کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔

نوجوانی میں طیب اردوغان نے پیسے کمانے کے لیے جوس اور ڈبل روٹی بھی بیچی۔ انھوں نے اسلامک سکول سے تعلیم حاصل کی اور استنبول کی مامارا یونیورسٹی سے مینیجمنٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے پیشہ وارانہ فٹبال بھی کھیلی۔

Recep Tayyip Erdogan (June 2015)

EPA

1970-1980 کے دوران وہ اسلام پسند سیاسی حلقوں میں رہنے لگے۔

1994-1998 کے دوران وہ استنبول کے میئر بنے اور یہ عہدہ ان کے پاس اس وقت تک رہا جب تک ترکی کی فوج نے ان کی اس وقت کی سیاسی جماعت ولفریئر پارٹی پر پابندی نہیں لگا دی۔

1999 میں ایک قوم پسند نظم پڑھنے پر انھیں چار ماہ کے جیل بھی جانا پڑا۔ اس نظم میں لکھا تھا کہ مسجدیں ہمارے مورچے ہیں، اُن کے گنبد ہمارے ہیلمٹ، ان کے مینار ہماری بندوقیں اور ایمان والے ہمارے فوجی ہیں۔

اگست 2001 میں انھوں نے عبداللہ گل کے ساتھ مل کر اسلام پسند جماعت ’اے کے پی‘ کی بنیاد رکھی۔

2002-2003 میں اے کے پی نے قومی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اردوغان پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے۔

جون 2013 میں ایک پارک پر عمارت بنانے کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں پر اردوغان نے سکیورٹی فورسز کو دھاوا بول دینے کا آرڈر دیا۔

دسمبر 2013 میں ان کی حکومت کے خلاف بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آیا اور ان کی کابینہ کے تین وزرا کے بیٹے گرفتار کیے گئے۔ اردوغان نے مخالفین کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

اگست 2014 میں وہ پہلے براہِ راست منتخب صدر بنے۔

جولائی 2016 میں انھوں نے اپنی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔

اپریل 2017 میں انھوں نے صدارتی اختیارات میں اضافے کا ملک گیر ریفرینڈم جیت لیا۔


اسلامی اقدار

صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی نظام لاگو نہیں کرنا چاہتے اور ترکی کو سکیولر ریاست ہی رہنے دینا چاہتے ہیں مگر ان کے خیال میں ترک شہریوں کو اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کرنے کی مزید اجازت ہونی چاہیے۔

ان کے کچھ حامی انھیں سلطنتِ عثمانیہ کے تناظر میں ’سلطان‘ کے لقب سے پکارتے ہیں۔

Turkish President Tayyip Erdogan flanked by his wife Emine Erdogan (03 June 2016)

Reuters

اکتوبر 2013 میں انھوں نے ترکی میں ریاستی دفاتر میں حجاب پر پابندی اٹھا دی تاہم فوج، عدالتوں اور پولیس میں یہ پابندی قائم رہی۔

اس کے بعد انھوں نے غیر شادی افراد میں جنسی تعلقات کو بھی جرم قرار دینے کی کوشش کی مگر وہ قانون سازی کرنے میں ناکام رہی۔

طیب اردوغان کے چار بچے ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی مسلمان فیملی کو خاندانی منصوبہ بندی کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ انھوں نے مئی 2016 میں کہا تھا کہ ہم اپنی نسلیں بڑھائیں گے۔

انھوں نے عورتوں کے خقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین پر تنقید بھی کی ہے اور وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ نہیں کیا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16692 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp