ورکرز کنونشن کی روئیداد


گزشتہ روز ضلع سانگھڑ میں مسلم لیگ نون کی مقامی قیادت کی طرف سے منعقد کیے گئے ورکرز کنونشن سے خطاب کے لیے مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال، محمد زبیر، مفتاح اسماعیل، شاہ محمد شاہ اور کھیل داس کوہستانی تشریف لائے۔ اسٹیج کی نظامت میری ذمہ داری تھی۔ قائدین کے خطاب سے قبل میں نے پشاور کی مسجد میں ہونے والے دہشتگردی کے افسوسناک واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم دشمن کے اس بزدلانہ و مکروہ فعل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ پاک مرحومین کے درجات بلند فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد از جلد صحتیاب فرمائے۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ ہمیں دہشتگردی کے ناسور سے بطور قوم متحد ہو کر لڑنے اور اس پر قابو پانے میں کامیابی عطا فرمائے۔ کوئی بھی سیاسی بات کرنے کی بجائے میں نے ایک اور تشویشناک اور قابل مذمت واقعے پر بھی چند گزارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون نے نبی اکرمﷺ کے بارے بنے گستاخانہ خاکے اور کارٹون شاہراہوں اور بڑی عمارات پر سر عام لگانے کا حکم دیا ہے۔

فرانس اس سے پہلے بھی پردے اور دیگر شعائر اسلام کے حوالے سے اسلام مخالف قانون سازی کے حوالے سے پوری مغربی دنیا پر سبقت رکھتا ہے۔ لیکن فرانس کے موجودہ صدر انتہائی متعصب اور بدبودار ذہنیت کے حامل ہیں اور ان کی قیادت میں اسلام اور مسلمان دشمنی کی تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔ فرانس نے پہلے گستاخانہ خاکوں کو اخبارات میں شائع کیا اور اب ان خاکوں کو سرکاری عمارات پر دکھایا گیا ہے اور یہ مذموم حرکت خود صدر میکرون کی سرپرستی اور آشیرباد سے ہوئی ہے۔

بھائیو اور دوستو حرمت رسول ﷺ کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کوئی کمزور سے کمزور مسلمان بھی اس پر سمجھوتا نہیں کر سکتا۔ ہم اس بات پر بھی مکمل یقین رکھتے ہیں کہ کوئی بھی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک نبی رحمت ﷺ کی محبت اس کے لیے دنیا کی تمام چیزوں سے مقدم نہ ہو جائے۔ فرانس کی اس مذموم حرکت کے بعد دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ ترکی نے فرانس سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، دیگر کئی اسلامی ممالک میں بھی فرانسیسی پراڈکٹس کے بائیکاٹ اور اس کے سفیروں کو بے دخل کرنے کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان بھی فی الفور فرانس سے تمام سفارتی تعلقات منقطع کرے اور سرکاری سطح پر فرانسیسی پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے۔ لیکن یہ اقدامات بھی کافی نہیں ہوں گے پاکستان کو او آئی سی کا اجلاس بلا کر اس حساس ایشو پر امت مسلمہ کا مشترکہ موقف دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ یہ کوشش بھی کی جانی چاہیے کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے تمام مسلم ممالک یک زبان ہو کر دنیا پر واضح کریں کہ اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات دہشتگردی کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے نتیجے میں دنیا کے امن کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار مغربی دنیا ہو گی۔ کیونکہ ایسی حرکتیں کرنے والے شرپسند عناصر عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ مغربی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کریں۔

مرکزی قائدین میں سب سے پہلے کھیل داس کوہستانی نے مختصر خطاب کیا اور ان کے بعد مسلم لیگ نون صوبہ سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ اسٹیج پر آئے۔ سب سے آخری خطاب سابق وزیر داخلہ جناب احسن اقبال صاحب کا تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپوزیشن پر بے بنیاد اور جھوٹے مقدمے قائم کیے جا رہے ہیں لیکن اپوزیشن جماعتیں ملک و قوم کے مفاد کی خاطر ڈھائی سال سے یہ سب برداشت کر رہی تھیں اور مزید کرتی رہتیں مگر اب اس انتقامی نفسیات کے باعث عام آدمی کی زندگی بھی اجیرن ہو چکی ہے۔

حکومت کی تمام توجہ کا محور سیاسی مخالفین ہیں اور عدم توجہی و نالائقی سے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔ آٹا جو بنیادی ضرورت کی چیز ہے آج ستر پچھتر روپے کلو تک جا پہنچا ہے اور غریب آدمی دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔ چینی 120 روپے کلو ہو چکی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہم گندم اور چینی میں خود کفیل ہیں یہ گرانی خود حکومت کی پیدا کردہ ہے۔ حکومت میں موجود چوروں لٹیروں نے مال بنانے کی خاطر ملک میں وافر مقدار میں موجود یہ اشیاء پہلے ایکسپورٹ کیں اور اب انہیں قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے واپس امپورٹ کیا جا رہا ہے۔

ملک میں اس وقت کوئی کاروبار موجود نہیں بازار سنسان پڑے ہیں لوگوں کے روزگار چھن چکے ہیں اور یہ سب اس حکومت کی وجہ سے ہوا ہے جو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دے کر مسلط ہوئی تھی۔ اور اس صورتحال کا اصل سبب بھی ناقص معاشی پالیسیاں یعنی شرح سود میں کیا گیا بے تحاشا اضافہ اور بلا سوچے سمجھے امپورٹس میں کی گئی کمی ہے۔ ذرا سوچیں اس دیہاڑی دار کے بارے میں جو روز کمانے اور روز کھانے والا ہے۔ جس دن اس غریب کی دیہاڑی نہ لگے اس کے لیے بچوں کا پیٹ بھرنا دشوار ہو جاتا ہے۔

دن بھر کی محنت مشقت کے عوض اسے پانچ چھ سو روپے ملتے ہیں اسی سے گھر لوٹتے وقت اپنے گھرانے کی ضرورت کے لیے وہ راشن لے کر جاتا ہے۔ پورا ماہ بلا ناغہ دیہاڑی لگے تو بھی ماہانہ اٹھارہ ہزار بنتے ہیں۔ تصور کریں آج جتنی مہنگائی ہے اٹھارہ ہزار تو مکان کے کرائے اور آٹے سبزی اور دودھ پر خرچ ہو جاتے ہیں تو بجلی گیس کے بل، پرچون کے سامان، بچوں کی تعلیم، کپڑے جوتے اور دوا دارو کی رقم وہ کہاں سے لائے گا؟

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی نا اہلی سے ہونے والی تخریب کاری معاشی میدان تک ہی محدود رہتی پھر بھی غنیمت تھی، لمحہ فکریہ ہے کہ اس کی لپیٹ میں ملکی سلامتی بھی آ چکی ہے۔ انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے اور ہم سے تین جنگیں لڑ چکا ہے، ستر سال میں اسے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔ خصوصی حیثیت کے خاتمے کا مطلب آپ جانتے ہیں؟ یعنی آج سے قبل وادی کشمیر سے باہر کے لوگوں پر وہاں کا ڈومیسائل بنوانے اور جائیداد خریدنے کی پابندی تھی۔

ہماری حکومت کو اپوزیشن سے محاذ آرائی سے فرصت نہیں اور اس کی تمام توانائیاں ملک کے اندر لڑائی میں خرچ ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے شہ پاکر انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنے شہریوں کو وہاں بسانا شروع کر دیا ہے تاکہ کشمیریوں کی اکثریت ختم کر کے اپنا نا جائز قبضہ مستحکم کر سکے۔ اس کے علاوہ بھی خارجہ محاذ پر حکومت کی ناکامیوں کی طویل داستان ہے۔ ہمارا آزمودہ دوست سعودی عرب ہمارے سلیکٹڈ وزیراعظم اور نا لائق وزیرخارجہ کے احمقانہ بیانات سے آج ہم سے ناراض ہے۔

چین جس کی دوستی پر ہمیں فخر تھا ہمارے اور اس کے تعلقات میں آج سرد مہری ہے اور سی پیک پر اس حکومت کی نالائقی کی وجہ سے چین کام بند کر چکا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے دنیا ہمیں مشکوک نظر سے دیکھتی ہے اور کوئی ہمارے ساتھ کاروبار نہیں کرنا چاہتا۔ پارلیمنٹ سے انسانی حقوق کی پامالی پر مبنی قوانین پاس کرانے کے بعد بھی حکومت ملک کو اس گرے لسٹ سے نہیں نکال سکی لہذا ملک کے وسیع تر مفاد میں اس جعلی، نا اہل اور نا لائق حکومت کو رخصت کرنا ضروری ہے اور ہم پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے یہ کر کے رہیں گے۔

Facebook Comments HS