آخرکب تک؟
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر کہیں نہ تو آواز بلند کی گئی اور نہ سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا میں اس کا ذکر کیا گیا۔ میں جس مسلے کی بات یہاں کر رہی ہوں وہ ہے پی آئی اے کے ادارے سے منسلک افراد کی تنخواہوں میں کٹوتی جی ہاں اس سے قبل بھی بہت سی چیزیں دیکھنے میں آئیں کہ کس طرح پاکستان کی واحد سرکاری فضائی کمپنی کے ساتھ کس طرح کا ناروا سلوک رواں رکھا گیا۔ کس طرح جہاز کریش کی ذمے داری پائلٹ پر ڈالی گئی کس طرح اس بات کو وجہ بنا کر پائلٹس کے لائسنس جعلی قرار دیے گئے وہ بھی ایک ایسی جگہ جہاں پوری دنیا کی نظر ہوتی ہے۔
اس قسم کے تمام قوانین پارلیمنٹ میں مرتب کیے گئے اور یہی نہیں لائسنس جعلی ہونے کا راگ الاپتے ہوئے بہت سے پی آئی اے پائلٹس کو بے روزگار کر دیا گیا۔ ابھی تک پی آئی اے کسی طور اپنے خسارے پورے نہیں کر سکی کیونکہ چند روز قبل ایک ایسا بم پائلٹس اور ملازمین پر گرایا گیا جس پر آواز اٹھانے پر یہ تک کہہ دیا نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ بیچارے مجبور پی آئی اے ملازمین احتجاج کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے کہ کہیں جو پہلے پائلٹس یا ملازمین کے ساتھ ہوا کہیں ہمارے ساتھ بھی نہ ہو جائے کہیں ہم اس تھوڑی تنخواہوں سے بھی نہ چلے جائیں بس یہ سوچتے ہوئے بیچارے ملازمین نے اپنی آوازیں دبا لیں مگر یہ تو سچ ہے جب چنگاری گرتی ہے تو آگ لپکتی ہی ہے حکومت چاہے جتنا چھپا لے کہیں نہ کہیں سے حقیقت عیاں ہو ہی جاتی ہے۔
یہ حال صرف پاکستان کی واحد سرکاری فضائی کمپنی کے ساتھ نہیں ہو رہا آج کل جس معاملے کی جانب نظر اٹھائی جائے وہی کچھ نہ کچھ گڑ بڑھ نظر آتی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا گورنمنٹ ملازمین سکون میں ہیں اب تو گورنمنٹ ملازمین بھی مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل میں گرفتار ہیں حکومت کا جب جس کو نکالنے کا دل کرتا ہے اچھی خاصی چلتی چلاتی نوکری سے بھی نکال باہر کرتے ہیں۔ اب تو سرکاری ملازمین بھی ڈر ڈر کر جیتے ہیں کہ نہ جانے کب کیا اعلان کر دیا جائے اور ہمیں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے۔
پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کے اقدامات پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہے ہیں۔ دور کی کیا بات کریں حالات تو اب ایسے ہیں کہ حکومت میں کسی بہت بڑی پوسٹ پر بیٹھا وزیر بھی یہ نہیں جانتا کہ وہ کب تک اپنی وزارت پر قائم رہے گا۔ کیونکہ جب ہمارے وزیراعظم کسی سے ذرا سا ناراض ہوئے تو اسے اٹھا باہر کیا خیر یہ تو سچ ہے بہت سے وزیر اپنی وزارتوں پر بیٹھے اچھی خاصی کرپشن کر رہے ہیں۔ اس طرح کوئی نہیں جانتا وہ کب تک ہے اور کب نکال دیا جائے گا۔
یہی نہیں جس طرح مہنگائی نے معیشت کی دھجیاں اڑائی ہیں اب تو کوئی بھی شخص بے فکر نہیں کیونکہ سب کے اپنے مسائل ہیں جو کسی صورت حل ہوتے نظر نہیں آرہے۔ حکومت اپنے مسائل حل کرنے کے لئے گورنمنٹ ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کر رہی ہے یعنی حکمران خود مہنگائی کے ہاتھوں ستائے جا رہے ہیں تبھی تو انہیں کسی اور کے منہ سے نوالہ چھیننے تک کا احساس نہیں ہو رہا۔ اس تمام صورتحال میں عوام بیچاری ایسا کیا کرے کے مسائل کا کوئی حل نکل سکے۔
حکومت سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ اب انہیں خود سمجھ نہیں آ رہی کے اتنے مسائل جو پیدا کر دیے گئے ہیں ان پر کیسے قابو پائے۔ مگر اس سب کا حل یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ گورنمنٹ ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کر کے مسلے کا حل تلاش کیا جائے کیونکہ اس وقت سب اپنے اپنے مسائل میں گرفتار ہیں اللہ اس قوم کا حامیوں ناصر ہو اور ہمیں اس مشکل وقت سے نکالے آمین


