ایک ہم، ایک نصیحت اور ایک کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی خو بصورت اور فائدے مند شے کو بگاڑنے اور اپنے لئے عذاب بنانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ ہمارے ہاتھ اسلام آیا ہم نے اسے بدنام کر دیا۔ جمہوریت نام کی چڑیا اپنی دلکش حسن اور آزادی کی نوید لے کر آئی ہم نے اسے اپنا دشمن بنا دیا۔ بہت سارے نت نئے علوم آئے ان کو ہم نے گھاس نہیں ڈالی۔ پیسہ آیا فضول میں اڑا دیا۔ اور سب سے افضل شے عقل جس کی حفاظت اور استعمال ہم سے نہیں ہوا اور پھر وقت کو دیکھ لیں جس کی قدر نہیں۔ نیز ہمارے پاس بہت سارے موقعے مزید آئیں گے جن کو ہم یوں ہی گنواتے اور ضائع کرتے رہیں گے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان سب باتوں کا ہم پہ ذرا فرق نہیں پڑنے والا۔

ہمیں آزادی، ترقی اور خوشحالی سے کوئی شغف نہیں اور کسی نے سکھایا بھی تو نہیں کسی اپنے کو دیکھا بھی تو نہیں۔ اسی طرح کی حقیقتوں سے سامنا سوچنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اور آج کل کی دنیا بہت سوں کو اپنے بارے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتا پر سوچنے کا کہتا ضرور ہے۔ یہ ایک بھیانک سا ڈراؤنا سا سچ ہے اور بندہ اپنی حالت دیکھ کے چیخ اٹھتا ہے۔

زندگی نے تو کوئی کمی نہیں کی وہ سب مواقع دینے میں جو مجھے میری آزادی اور خوشی دلا سکتے تھے مگر افسوس میں اب بھی تکلیف میں ہوں۔ خاموشی سے سہے جا رہا ہوں۔ ذلالت جھیل رہا ہوں۔ کوئی بھی کام ٹھیک سے چل نہیں رہا۔ وقت نکلتا جا رہا ہے اور زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ کسی ایک کام میں دل نہیں لگتا۔ اجی دل کیا لگے گا ڈھنگ سے کوئی کام کر بھی نہیں لیتا۔

پتہ نہیں کہاں کون گڑبڑ کر رہا ہے میری زیست میں۔ بظاہر تو ٹھیک ہی ہوں پر وہ کون سی قوت کیسی رکاوٹ ہے جو نظر نہیں آتی پر مجھ سے دست گریباں ہے۔ یہ میں ہوں کہ کوئی اور۔ یا میں بذات خود ایک وہم ہوں۔

ایک بات میں نے نوٹ کی ہے اپنے علاقے کے لوگوں سے مل ملاپ کے دوران۔ حال ماضی اور مستقبل کے حوالے سے ان کے ملے جلے تاثرات ہیں۔ مختصراً یہ کہ اپنے لوگ جو ہیں وہ دور اندیش کبھی نہیں رہے ہیں، ترقی پسند بھی نہیں ہیں، تبدیلی کو جلدی قبول کرنا بھی نہیں آتا جیسے کہ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کی وجوہات ان کی تاریخ اور ان کے الگ تھلگ سے سر زمین میں پیوستہ ہیں۔ بہت ساری مثالیں ملتی ہیں۔ ایک بندہ ہے جس کے پاس بہت ساری زمینیں ہیں پر بندہ غریبی میں پس رہا ہے۔

گھر پہ فاقے ہیں مگراس کو اپنے زمیں سے فائدہ لینا کیسے نہیں آیا۔ اس کی غلطی بھی نہیں باب دادا نے شجرکاری نہیں کی ہوگی تو زمیں خالی رہ گیا۔ اب جا کے وہ بے چارہ پودے لگا رہا ہے کھیتوں میں کام کر رہا ہے اور اسے چین نہیں سکون نہیں۔ بجائے اس کے کہ اس زمین سے اپنے لئے آسانی حاصل کرنے کے وہ عذاب میں پھنس گیا ہے۔ کوئی تدبیر بتا دے تو اس کو ماننے کو تیار نہیں۔

اسی لئے تعلیم کی اہمیت کا پتہ لگ جاتا ہے۔ یہ چیز آپ کو جدید تقاضوں کو مد نظر رکھنے اور وقت کے ساتھ اپنے کام کاج کے طریقوں کو بھی تبدیل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہوئے آپ کی تکلیف میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

ہماری سوچ کو دیکھیں اور پڑھیں تو ایسا لگے گا ہم جیسے انسان کہیں بھی نہیں۔ جو چیز ہمارے لئے فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے اسے ہم جان بوجھ کے اپنے سے پرے دھکیل دیتے ہیں۔ چھوڑو جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا والی ذہن ہے۔ محنت کرتے ہیں تو وہ بھی ادھوری اور بے دلی والی۔ نتائج کا ہمیں غرض ہی کہاں۔ مصیبت کو گلے لگانا ہمارا بہت پرانا مشغلہ رہا ہے۔ ہم بہادر ہیں اور کسی بھی مصیبت کا سامنا کرنے کو ہمارا سخت جان جسم ہے نا۔

اپنے جسم کی پرواہ کرنا، اس کی حفاظت کرنا تو دور کی بات اس کی صفائی دھلائی کے لئے بھی بدبو کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ سوچنے اور اپنے کام کو آسان کرنا ہو تو سب سے بہتر انداز اور بہتر راستہ ذہن مہیا کرتا ہے مگر یہاں ذہن کام بگڑنے کے بعد استعمال میں لائی جاتی ہے جس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے جسمانی مشقت بڑھا دی جاتی ہے۔

خیر چھوڑیے آئیں ایک کہانی سنتے ہیں :

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ اس کا کسی ویران جگے سے گزر ہوا۔ راستے میں اسے ایک جانور کا پلید دکھائی دیا۔ اپنے تجسس کی وجہ سے اسے قریب جا کے دیکھنے لگا۔ کیا دیکھتا ہے کہ بہت سارے کیڑے اسے کھانے لگے ہیں۔ تھوڑی دیر سوچا اور پھر ان کیڑوں کے مستقبل کا خیال آیا تو اس کو بڑی کوفت ہوئی۔ خیال یہ آیا کہ وہ کیڑے کچھ دیر بعد اس گند کو چٹ کر دیں گے اور پھر بھوک سے مر جائیں گے کیوں کہ وہاں کوئی اور ذرائع موجود نہیں تھے۔

اس نے ان سے کہا میں تمہیں ایک ایسی جگے لے جاؤں گا جہاں آپ کو کھانے کی فکر نہیں ہوگی میرے ساتھ آ جاؤ۔ کیڑوں کو اپنے کھانے کی فکر لگی ہوئی تھی۔ بزرگ کی بات نہیں مانی گئی۔ بزرگ نے بہت سمجھایا مگر اس کی نصیحتوں پہ عمل نہ ہوسکا۔ جب اس کو کاٹنے اور مارنے کی دھمکی ملی تو وہ مایوس ہو کے وہاں سے چل دیے۔ بزرگ بھی آسانی سے ماننے پہ تیار نہیں تھا۔ قریب ہی ایک پتھر سے لگ کے بیٹھ گیا۔ تھکان کی وجہ سے آنکھ لگی اور اگلی صبح ہی آنکھ کھلی۔ اٹھتے ہی کیڑوں کی خبر لینے وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ کچھ کیڑے مر چکے ہیں اور ان کی لاشوں یا پرندوں کو خبر ہو چکی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بشیر احمد، غذر کی دیگر تحریریں