جنید جمشید، امجد صابری اور قائم علی شاہ کی بدشگونی


امجد صابری کی شہادت پر اس وقت کے وزیر اعلی سندھ نے 25 جون 2016 کو صوبائی اسمبلی سے اپنے طویل خطاب میں ان کی شہادت کی مذمت کی۔ اس دوران غلطی سے انہوں نے امجد صابری شہید کی بجائے جنید کا نام لے دیا جس پر اس وقت قائم علی شاہ کا بہت مذاق اڑایا گیا تھا۔ بڑے بوڑھے کہہ گئے ہیں کہ سوچ سمجھ کر منہ سے بات نکالنی چاہیے کہ منہ سے نکلی بات سچ نہ ہو جائے۔

آج تقریباً پانچ ماہ بعد ہی جنید جمشید کی ناوقت رحلت کی بری خبر بھی آ گئی ہے۔

https://youtu.be/JVXRdsJLpX0

Facebook Comments HS

One thought on “جنید جمشید، امجد صابری اور قائم علی شاہ کی بدشگونی

  • 08/12/2016 at 9:52 صبح
    Permalink

    قائم علی شاہ کے منہ سے یہ لفظ غلطی سے نکلے تھے عجیب بات ہے کہ یہ آج سچ ثابت ہو گئے جس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ غورطلب ہے ۔ بدشگونی سے زیادہ نادانستہ پیشگوئی نظر آتی ہے ۔ ان کے منہ سے کس کس وقت کس نوع کے لفظ ادا ہوئے تھے ان پر توجہ دینی ہو گی ۔ ‎آپ سب کی زندگی میں ایسی مثالیں موجود ہونگی کہ جب کسی جانے والے کے منہ سے کچھ مخصوص نوعیت کے الفاظ ادا ہوئے جن پر اس وقت تو کوئی توجہ نہیں دی گئی مگر جب وہ سچ مچ ہمیشہ کے لئے بچھڑگیا تو اس کے ان الفاظ کو یاد کیا گیا اور بار بار دوہرایا گیا ۔ اور کبھی کسی کے منہ سے کسی اور کے لئے کچھ نکلا تو وہ بعد میں پورا ہؤا اب ظاہر ہے کہ سائیں قائم علی شاہ کوئی بہت پہنچی ہوئی اور برگزیدہ ہستی تو ہیں نہیں پھر بھی قدرت نے انہیں ان الفاظ کی ادائیگی کے لئے منتخب کیا جو آج کے روز سچ ثابت ہوئے ۔ اس میں ان کا کوئی کمال نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ایسا دانستہ نہیں کہا تھا ۔ اور یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح ابھی کچھ عرصہ پہلے فریال ٹالپر نے ایک تقریر میں اپنی فیملی کے شہیدوں کے نام گنواتے ہوئے جوش خطابت میں اپنے اکلوتے بھتیجے کو بھی شہید کہہ ڈالا جسے سن کر پاس کھڑی شہلا رضا نے دل ہی دل میں اپنا سر پیٹ لیا ۔ ان کے تاثرات سے تو یہی ظاہر ہو رہا تھا ۔ کوئی لمبی چوڑی تمہید باندھے بغیر میری ہر پڑھنے والے سے التجا ہے کہ دعا کریں کہ ادی کے ان نادانستہ الفاظ کو خدا اپنی رحمت سے بےاثر رکھے اور اس طرح کے واقعات سے جو ایک مفروضہ قائم ہو چکا ہے وہ باطل ثابت ہو جائے ۔ خدا پاکستان اور میرے تمام ہموطنوں پر اپنا رحم و کرم فرمائے ۔

Comments are closed.