ہم سب، نمبروں کے عہد میں جی رہے ہیں
یہ سنہ 2004-5 کی بات ہے جب پی ٹی سی ایل وی فون کا کنکشن گھر میں لگوایا اور اس کا نمبر یاد کیا اور اس کی کیبل ساتھ لگا کر قریباً 230 k کی سپیڈ کا انٹرنیٹ بھی دستیاب تھا۔ بہت سنا کرتے تھے کہ yahoo پہ آئی ڈی بنا کر پوری دنیا کے لوگوں سے بات کی جا سکتی ہے چیٹ رومز میں جا کر چنانچہ فوری طور پر yahoo پہ آئی ڈی بنائی جس کے لیے ایک عدد پاسورڈ بھی ضروری تھا سو وہ بھی سوچا اور رکھ دیا۔ یہ شروعات تھی کسی نمبر (پاسورڈ) سے نسبت قائم ہونے کی اور وہ نمبرز یاد رکھنا بھی ضروری تھے۔
آٹھویں کلاس میں تھا تو یاد پڑتا ہے کہ رول نمبر جاری کیے گئے ہر سٹوڈنٹ کو چنانچہ ایک اور عدد یا اعداد کو یاد رکھنے کا سیاپا ایڈ ہوا لائف میں۔ نئی کلاس نیا رولنمبر اگلے سال نویں میں گئے، کلاس کا رولنمبر تو یاد تھا ہی سال کی ابتدا سے لیکن سال کے آخر میں جب بورڈ کے حتمی امتحانات کی رولنمبر سلپ ملی تو اس پہ ایک اور نمبر تھا جو کافی لمبا تھا اور خاص ہداہت تھی کہ اس نمبر کو بالکل بھی بھولنا نہیں ہے، یہ اگربھول گئے اورامتحانی جوابی شیٹ پر کچھ اورلکھ دیا تو پورے سال کی محنت اکارت ہو جائے گی۔
او خدایا پھر کیا تھا نصاب کو یاد رکھنے سے زیادہ اس رولنمبر کو یاد رکھنا ضروری ہو گیا۔ جیسے تیسے وہ وقت گزرا پھر دسویں کلاس میں بھی وہی صورتحال ایک مرتبہ پھر سامنے آئی کلاس رولنمبر اور پھر بورڈ کی رولنمبر سلپ کا نمبر۔ رول نمبر لکھتے تھے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے بار بار جوابی کاپی اور اصل رولنمبر سلپ کو ٹیلی کرتے تھے۔ اچھا جناب، وہ وقت بھی گزر ہی گیا دسویں جماعت میں پہنچ جانے کے دوران زندگی میں اور کئی ادوار ایسے گزرے جن میں نمبرز کو یاد کیا گیا یا رکھا گیا۔
خیر 2011 میں میٹرک ہوا۔ اور جو نمبر یا مارکس آئے ان کو بلکہ ان کی percentage کو بھی یاد رکھا گیا۔ بچپن ہی سے طبیعت میں فنون لطیفہ کے جراثیم پائے جاتے تھے جو ابتداء میں نعت و نوحہ تک محدود تھے۔ میٹرک کے بعد قوالی کا شوق پیدا ہوا ابتدا میں تو سماعت کا لیکن آہستہ آہستہ پریکٹیکل کا چسکا پیدا ہوا چنانچہ ہارمونیم خریدا گیا اور پورے گھر میں صبح سے شام تک الٹی سیدھی تانوں اور آڑے ترچھے راگوں کا دور شروع ہوا۔
سب سے پہلے تو سروں کی تعداد یاد کی گئی کہ بھائی سر سات نہیں بارہ ہوتے ہیں جوڑی کے ساتھ۔ یہ بھی یاد کیا گیا کہ کھرج اور پنچم تنہا فقیر ہیں باقی سب ساتھی دار ہیں اور مزے میں ہیں۔ قسمت ایسی تھی کہ سر بھی پنچم پسند تھا چنانچہ تب سے ہم بھی پنچم کہ طرح اکیلے ہو گئے۔ پھر جناب والا ٹھاٹھوں کی تعداد پھر کچھ راگوں کی تعداد۔ اچھے خاصے نمبرز تھے یہ بھی یاد کرنے کے لیے۔ موسیقی والے جانتے ہیں۔ اس دوران غالباً 2013 میں ہم اٹھارہ برس کے ہوئے اور شناختی کارڈ بنوایا گیا۔
13 ہندسوں پر مشتمل ایک لائن تھی حضور جو کم کو یاد رکھنا تھی تمام عمر۔ چلو یہ بھی ٹھیک ہے بلکہ ضروری ہے کہ شناخت کا معاملہ ہے اور ہم فنکاروں کا تو مسئلہ ہی ذات اور شناخت کے گرد چکر کاٹتا رہتا ہے تمام عمر۔ 5 سال اسی میں گزر گئے اور 2015 میں ہم کچھ ایک دو راگ اور کچھ کلام وغیرہ گانے لائق ہو گئے۔ پھر سوچا واپس پڑھائی پر کچھ توجہ دی جائے تو جناب ایف اے میں داخلہ لیا گیا۔ او میرے خدا پہلے دن ہی رولنمبر الاٹ کر دیا گیا چلو کوئی بات نہیں جیسے تیسے کرنا تو تھا وہ معاملہ بھی۔
بورڈ کے پرچے ہوئے اور وہی رولنمبر 4.5 ہندسوں پر مشتمل ہم کو یاد رکھنا پڑا۔ بارہویں جماعت میں گئے اور پھر وہی معاملات ہوئے۔ ان دنوں ایک نیا اضافہ فیس بک کا ہوا جو چہار سو پھیل گیا فیس بک پر اکاوئنٹ بنایا گیا اور اس کا پاسورڈ عزیز جاں رکھا گیا۔ انٹرمیڈیٹ کلیئر ہوا جو مارکس آئے تھے وہ اور ان کے فیصد یاد رکھے گئے۔ اس دوران ایک عدد موبائل فون بھی یس کروایا گیا اور اس میں موجود سم کارڈ کا نمبر یاد کیا گیا۔ بقول اختر عثمان
اک یاد خوش جمال جواز حیات ہے
اک محور خیال ہے یہ بھی اگر نہ ہو
2016 میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا گیا اس دوران Gmail پہ آئی ڈی بنائی گئی اور اس کا پاس ورڈ بھی ذہن کے نہاں خانوں میں دھکیلا گیا۔ یونیورسٹی میں داخلے کے بعد ایک لمبا سا رجسٹریشن نمبر جاری کیا گیا جو یونیورسٹی کارڈ پر درج تھا اور ہم اٹھتے بیٹھتے اس پر سے نظریں گزار لیا کرتے تھے بھئی یونیورسٹی کا معاملہ تھا نا۔ یونیورسٹی کی بس کا نمبر بھی یاد کرنا از حد ضروری تھا ورنہ سڑکوں کی خاک چھاننا پڑتی بقول اقبال اشعر
مدتوں بعد کھلی وسعت صحرا ہم پر
مدتوں بعد ہمیں خاک اڑانی آئی
ابھی تک کافی نمبروں کا اضافہ ہو چکا تھا لائف میں۔ سوچا کرتا تھا ہم سب انسان بھی اعداد ہیں۔ مجموعے میں اکائیاں۔ ایک ایک عدد۔ عدد نہیں تو ہم نہیں۔ گمنام، بے نام۔ شناخت ندارد۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن نمبروں کا یہ سلسلہ ایک لا متناہی سلسلہ۔ آہ۔
کئی ایسی ایپلی کیشنز تھیں مثلاً جیز کیش، او ایل ایکس وغیرہ وغیرہ جن کے کوڈ بھی یاد رکھے گئے۔ 2020 میں ایم ایس میں داخلہ ہوا ایک نیا رولنمبر جاری ہوا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آن لائن پورٹل پر بھی آئی بنائی گئی اور ایک عدد پاسورڈ بھی رکھا گیا کیونکہ یہ وبا کا سال تھا۔ سب کچھ آن لائن ہو گیا ورچوئل ہو گیا۔ ہم سب ورچوئل دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں پر عدد ہی عدد ہوں گے ان اعداد میں کہیں ہم بھی ہوں گے ۔ ہماری شناخت بھی ہوگی اعداد کے لبادے میں۔ ہم سب نمبروں کے عہد میں جی رہے ہیں۔ ہم سب۔


