چہرے نہیں نظام بدلو!


حزب اختلاف کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت جنوری تک رہے گی بعض تجزیہ نگار بھی یہی کہتے ہیں مگر حکومت کا اس کے بر عکس کہنا ہے۔ اس سے مستقبل کا سیاسی منظر نامہ غیر واضح نظر آتا ہے فرض کیا اگر یہ حکومت چلی جاتی ہے اور کوئی دوسری آجاتی ہے تو کیا وہ در پیش مسائل کا خاتمہ کر سکے گی جواب ہو گا نہیں کیونکہ جب تک اس نظام جس نے اب تک لوگوں کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیا غربت میں اضافہ کیا بے روزگاری کو ختم کرنے میں ناکام رہا اور کمزوروں کو انصاف فراہم نہیں کر سکا سے جان نہیں چھڑائی جاتی کسی کے آنے اور کسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ڈیڑھ دو برس کے بعد حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر مسائل کا پر نالہ وہیں کا وہیں رہا وجہ اس کی یہی نظام ہے جس میں ہم عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیتے ہیں اور اپنی معیشت کا پہیہ رواں رکھتے ہیں یہ ادارے شرائط بھی دیتے ہیں جن پر من وعن عمل کرنا لازمی ہوتا ہے اور یہ شرائط کبھی بھی عوام دوست نہیں ہوتیں لہذا مسائل کم نہیں ہوتے بڑھتے ہیں جنہیں حل کرنے کے لئے مزید قرضہ لینا پڑتا ہے پھر ہمارے ارباب اختیار جو کمیشن لینے کو اپنا حق سمجھتے ہیں کی بنا پربھی مشکلات کم نہیں ہوتیں اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے لہذا آج صورت حال گمبھیر ہو چکی ہے موجودہ حکومت اڑھائی برس گزرنے پر بھی اس گمبھیرتا میں کوئی کمی نہیں لا سکی بیچ میں وبا آ گئی جس نے صورت حال کو اور پیچیدہ کر دیاہے عوام ہیں کہ حکومت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی مخالف سیاسی جماعتوں نے شورمچانا شروع کر دیا ہے کہ وہ گھر جائے وہ نا اہل ہے جبکہ سب سے بڑی خرابی اس نظام میں ہے جو انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا مگر حزب اختلاف حکومت کے خلاف جلسے کر رہی ہے اور اسے مستعفی ہونے کا کہہ رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر عوام بارے سوچتیں مگر ایسا نہیں ہوا اگرچہ عوام کی بات کی جا رہی ہے مگر وہ محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا ہے لہذا عوام پسے جا رہے ہیں ان کی کوئی نہیں سن رہا اب وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ ان سب کو اقتدار سے پیار ہے ان کی تکالیف کا انہیں کوئی احساس نہیں۔

بہرحال حزب اختلاف کا سارا زور اس بات پر ہے کہ عمران خان اقتدار چھوڑ دیں اور نئے انتخابات کرائے جائیں اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جب اس میں شامل جماعتیں اقتدار میں تھیں تو کیا مسائل ختم ہو گئے تھے ایسا نہیں ہو سکا تھا اب اگر وہ اقتدار میں آتی ہیں تو کیا وہ سب ٹھیک کر دیں گی اور اس نظام کو بدل دیں گی نہیں ایساوہ کچھ نہیں کر سکیں گی کیونکہ وہ ”سٹیٹس کو“ کی حامی جماعتیں ہیں انہیں کسی قسم کی کوئی تبدیلی وارے میں نہیں جبکہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں ایک نیا سیاسی و سماجی ڈھانچہ دیکھنے کے خواہشمند ہیں مگر انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ اس حکومت سے نجات پا لیتے ہیں تو وہ خوشحال ہو جائیں گے لہذا وہ احتجاج کی راہ پر آئیں۔

معذرت کے ساتھ حزب اختلاف کے اپنے مفادات ہیں جن میں سرفہرست احتساب ہے وہ اطمینان رکھے کہ احتسابی عمل سے اسے کچھ نہیں ہو گا اگر وہ پوتر ہے۔ جاوید خیالوی تو کہتا ہے کہ احتساب کا شکنجہ محض دکھاوا ہے عوام کو نفسیاتی طور سے مطمئن کرنا ہے کہ وہ یہ نہ کہیں کہ قانون بڑوں کو پوچھتا نہیں اگر یہ بات درست نہیں تو اب تک مطلوبہ نتائج کیوں برآمد نہیں ہو سکے؟

بہر کیف آخری تجزیے کے مطابق حکومت اپنی مدت پوری کرے گی حزب اختلاف اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو ساتھ ملائے رکھنے کے لئے متحرک ہوئی ہے۔ ادھر قیاس کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ میں بے چینی شدید ہو گئی ہے کیونکہ اس میں بعض اراکین اسمبلی نواز شریف کے بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے۔ جے یو آئی (ف) میں بھی ہلچل مچ گئی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی پی پی حکومت سے کوئی ڈھیل لینے کی خواہشمند ہے یوں گیارہ جماعتی اتحاد اپنی اہمیت و افادیت کھونے کے قریب تر پہنچ چکا ہے حتمی طور سے آنے والے دنوں میں سیاسی منظر واضح ہو جائے گا فی الحال تو تمام جماعتوں کے سربراہان یہی کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ وہ حکومت کو چلتا کریں گے مگر ایسا نہیں ہونے والا۔ بات سوچنے کی ہے کہ کیا پھر دوبارہ وہی لوگ واپس اقتدار میں آ جائیں گے کہ جن کی وجہ سے تلخیاں پیدا ہوئیں اور بڑھیں۔

ویسے یہاں کی سیاست کے رنگ نرالے ہیں لہذا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ نون کل تک ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین الفاظ میں بیان بازی کرتی رہی ہیں آج آپس میں باہم شیر وشکر دکھائی دیتی ہیں عمران خان کو ہٹانے کے لئےمگر یہ بھی ہے کہ انہیں سیاست اپنی اپنی ہی کرنی ہے لہذا ہر جماعت چاہے گی کہ عوام زیادہ سے زیادہ اس کے ساتھ ہوں مگر اس طرح نہیں وہ ان کے پیچھے بھاگیں گے جس طرح کا یہ طرز عمل اختیار کر رہی ہیں عوام پریشان ضرور ہیں مگر وہ بیوقوف بننے کو تیار نہیں۔

خیر آنے والے دن بڑے ہنگامہ خیز ہوں گے کہ عمران خان نے بھی جلسوں کے انعقاد کا عندیہ دے دیا ہے اور یہ چیز حیران کن ہوگی کہ مہنگائی کے مارے ہوئے لوگ ایک بار پھر ان کے سامنے موجود ہوں گے کیونکہ وہ ان سے خفا تو ہیں مگر ان کا ساتھ چھوڑنے کے لئے آمادہ نہیں حزب اختلاف کی تقریروں سے بھی وہ بد گماں ہیں اس کے کچھ اپنے لوگ بھی فاصلے پر جا کھڑے ہوئے ہیں لہذا اب وہ سڑکوں پر نہیں آنا چاہتے انہیں یقین ہو گیا ہے کہ حزب اختلاف ان کے لئے نہیں اپنے لئے واویلا کر رہی ہے۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں یہ بازی گر دھوکا کھلا

Facebook Comments HS