غزل گائیکی اور آج کا پاکستان

غزل گائیکی کی تاریخ قریبا نصف صدی سے زیادہ کے عرصے پر محیط ہے۔ اس کی جنم بھومی یہی خطہ ہے جو اب بھارت اور پاکستان کہلاتا ہے۔ ہر دو ممالک کے لوگوں نے اس صنف گائیکی کو بہت پسند کیا اور مختلف ادوار میں غزل گائیکوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا جن میں بیگم اختر، استاد امانت علی خاں، نصرت فتح علی خاں، مہدی حسن خاں، استاد غلام علی خاں، ملکۂ ترنم نور جہاں، فریدہ خانم، لتا منگیشکر،

Read more

علم موسیقی اور وارث شاہ ؔ کی ہیر ایک مختصر تحقیقی جائزہ

”ہیر وارث شاہ“ پنجابی زبان کا ایک شاہکار ادبی ورثہ ہے۔ بنیادی طور پہ یہ ایک منظوم داستان یا قصہ ہے جسے سید وارث شاہ نے اس انداز سے تکمیل تک پہنچایا کہ اس سے قبل اور اس کے بعد بھی جن لوگوں نے یہ قصہ لکھا وارث شاہ ان پر بھاری رہا۔ پنجابی ادب میں اگر کسی کو شہرۂ آفاق اور پنجابی زبان کا نمائندہ شاعر تسلیم کیا جاتا ہے تو وہ وارث شاہ ؔہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش

Read more

ڈرامہ، طرب و الم اور مجرا کلچر

بہت عرصہ پہلے جب ڈرامہ کے باب میں ارسطو کی ”بوطیقا“ پڑھی تو ڈرامے کے دو عناصر ”المیہ اور طربیہ“ اور ان کے سماجی اطلاق و عملداری کے متعلق سوچنا شروع کیا۔ دوستو ڈرامہ یونان و روم کے ایوانوں سے ہوتے ہوئے مشرق میں ناٹک و سوانگ کے رنگ رچاتے ہوئے جدیدیت میں داخل ہوتا ہے تو ٹی وی سکرین پر ہمیں مختلف صورتوں میں دکھائی دیتا ہے جن میں ڈرامہ نگار اپنی افتاد طبع کو سماجی مسائل کے تابع

Read more

مایوس مت ہوں

ہو سکتا ہے کہ یہ تحریر یا جو بھی کہیں آپ کو عجیب، بے کار و لا یعنی لگے لیکن کیا کروں جب سے یہ واقعہ سنا اور خبروں میں، سوشل میڈیا پر اس متعلق ویڈیوز دیکھیں تو کچھ عجیب کیفیات کا ورود ہوا۔ لوگ اپنے اپنے تعصبات کی عینک لگا کر اس واقعے کی منظر کشی کر رہے ہیں۔ وہاں جو کچھ بھی ہوا، اس کے پس پردہ جو بھی محرکات تھے ان سب کو یکسر ایک طرف کر

Read more

خبر، میڈیا اور سماجی اخلاقیات

میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ اسلامی ریاست کے تصور میں اسلامی عدالت، اسلامی تعلیمی نظام، اسلامی تہذیب، اسلامی نظام معیشت، اسلامی معاشرتی نظام پر بہت کچھ کہا سنا جاتا ہے۔ چلیے چند ثانیے کے لیے یہ چھوڑ دیتے ہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں ان معاملات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے یا دین سے مذکورہ بالا جملہ معاملات کی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ کیا ان تمام معاملات کا تعلق صرف ایک اسلامی ریاست

Read more

آغا شورش کاشمیری اور ان کا ہفت روزہ چٹان

آغا شورش کاشمیری 14 اگست 1917ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والدین کشمیر سے ہجرت کر کے قیام پذیر ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عبدالکریم تھا لیکن شہرت آغا شورش کاشمیری کے نام سے پائی۔ متوسط گھرانا تھا، سات سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا۔ ابھی یتیمی کا صدمہ کم نہ ہوا تھا کہ والد نظام الدین بھی دار فانی سے کوچ کر گئے۔ والد اور والدہ کی وفات کے بعد دادا جو انارکلی بازار میں ایبک روڈ پر باقرخانی اور کلچے لگاتے تھے، نے آپ کو دیوسماج ہائی سکول لاہور میں حصول تعلیم کے لیے داخل کروا دیا۔

Read more

برصغیر میں اردو صحافت کا آغاز: چند جھلکیاں

ہندوستان میں اردو کی مطبوعہ صحافت کا آغاز اس بحرانی دور میں ہوا جب پورا ملک سماجی اور تہذیبی بدلاؤ سے گزر رہا تھا۔ انگریزوں کا اقتدار مستحکم ہو گیا تھا اور وہ اپنی تہذیب اور روایات کو نافذ کرنے کے درپے تھے۔ اس کشیدہ صورت حال میں اردو اخبارات نے مختلف حصوں میں اپنے بال و پر نکالنے شروع کیے۔ کہیں انہوں نے حکومت سے مقابلہ کیا تو کہیں اس کی ہمنوائی کی۔ اردو کے ان اخبارات کا موضوعاتی

Read more

ہم سب، نمبروں کے عہد میں جی رہے ہیں

یہ سنہ 2004-5 کی بات ہے جب پی ٹی سی ایل وی فون کا کنکشن گھر میں لگوایا اور اس کا نمبر یاد کیا اور اس کی کیبل ساتھ لگا کر قریباً 230 k کی سپیڈ کا انٹرنیٹ بھی دستیاب تھا۔ بہت سنا کرتے تھے کہ yahoo پہ آئی ڈی بنا کر پوری دنیا کے لوگوں سے بات کی جا سکتی ہے چیٹ رومز میں جا کر چنانچہ فوری طور پر yahoo پہ آئی ڈی بنائی جس کے لیے ایک

Read more

تعلیمی نظام، کمرشلائزیشن اور شخصی دانش

یہ ایک الگ بحث ہے کہ آیا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے انفرادی و اجتماعی نفسیات پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن قابل غور صورت احوال یہ ہے کہ شخصی دانش نے بلوغت کے مدارج طے کرتے ہوئے بتدریج ترقی کی ہے۔ سوشل میڈیا اور اینڈرائیڈ اور دیگر پلیٹ فارم نے معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ مہیا کیا ہے اور ساتھ ہی اس معلومات کا بہاؤ بھی بہت تیز ہے۔ اس عرصے میں ماس کمیونیکیشن کے ساتھ ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن میں بھی خاطر خواہ ترقی ہوئی ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام، جو کچی اور پکی سے ہوتا ہوا، بی اے اور ایم اے پر ختم ہوتا تھا، وہ بھی اب قصۂ پارینہ ہوا اور اب یہ نظام پہلے مونٹیسوری پھر پلے گروپ پھر نرسری پھر کے جی اور پھر ون ٹو سے ہوتے ہوئے سولہ، اٹھارہ یا بیس سالہ تعلیم پر مشتمل ہے۔ بلا شبہ یہ نظام اپنے اندر کئی شعبوں کو سموئے ہوئے ہے۔ کئی نئے ڈسپلن متعارف ہوئے ہیں اور مزید نئے شعبے بھی متعارف ہو رہے ہیں۔ سولہ سالہ تعلیم کے بعد یہ مزید ایم فل، پی ایچ ڈی کی سطح پر طلبا و طالبات کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتیوں کو نکھار رہا ہے اور کچھ بہت قابل نو جوان لڑکے لڑکیاں اپنے میدان میں خاطر خواہ قابلیت حاصل کر کے نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیں۔

Read more