یہ ایک الگ بحث ہے کہ آیا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے انفرادی و اجتماعی نفسیات پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن قابل غور صورت احوال یہ ہے کہ شخصی دانش نے بلوغت کے مدارج طے کرتے ہوئے بتدریج ترقی کی ہے۔ سوشل میڈیا اور اینڈرائیڈ اور دیگر پلیٹ فارم نے معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ مہیا کیا ہے اور ساتھ ہی اس معلومات کا بہاؤ بھی بہت تیز ہے۔ اس عرصے میں ماس کمیونیکیشن کے ساتھ ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن میں بھی خاطر خواہ ترقی ہوئی ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام، جو کچی اور پکی سے ہوتا ہوا، بی اے اور ایم اے پر ختم ہوتا تھا، وہ بھی اب قصۂ پارینہ ہوا اور اب یہ نظام پہلے مونٹیسوری پھر پلے گروپ پھر نرسری پھر کے جی اور پھر ون ٹو سے ہوتے ہوئے سولہ، اٹھارہ یا بیس سالہ تعلیم پر مشتمل ہے۔ بلا شبہ یہ نظام اپنے اندر کئی شعبوں کو سموئے ہوئے ہے۔ کئی نئے ڈسپلن متعارف ہوئے ہیں اور مزید نئے شعبے بھی متعارف ہو رہے ہیں۔ سولہ سالہ تعلیم کے بعد یہ مزید ایم فل، پی ایچ ڈی کی سطح پر طلبا و طالبات کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتیوں کو نکھار رہا ہے اور کچھ بہت قابل نو جوان لڑکے لڑکیاں اپنے میدان میں خاطر خواہ قابلیت حاصل کر کے نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیں۔
Read more