امریکی صدراتی انتخاب 2020 کے تین ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟


ٹرمپ
آخر کار ہم یہاں تک پہنچ گئے ہیں بالکل اُسی طرح جیسے اولمپک میراتھن میں دوڑنے والے ایتھلیٹس سٹیڈیم میں داخل ہوتے ہیں، درد سے چور چور اور تھکے ہوئے جسم کے باوجود وہ آخری 400 میٹر طے کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔

امریکی صدارتی انتحاب 2020 کی مہم ایک غیر معمولی، تھوڑی بہت پریشان کُن، یقینی طور پر ناقابل تصور (کووڈ 19 کی وبا کے دوران) رہی۔ اور اس سب کے بعد آگے کیا ہو گا یہ مجھ پر روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا ہے۔

اب تین ممکنہ پش نظر یعنی نتائج موجود ہیں اور ان میں سے کسی کے بھی کامیاب ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حیرت نہیں ہو گی (دراصل ایک چوتھا امکان بھی ہے لیکن میں فی الحال یہاں اس کا ذکر نہیں کروں گا۔)

ہم نے یہ رپورٹس سامنے آتے دیکھیں کہ موجودہ صدر نے گرین لینڈ کا ایک جزیرہ خریدنے کی کوشش کی تھی اور جب ڈنمارک نے جزیرہ فروخت کرنے سے انکار کر دیا تو ہم نے دیکھا کہ صدر ٹرمپ نے انتقامی کارروائی کے طور پر ڈنمارک کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا۔

پھر یہ پتہ چلا کہ انھوں نے گذشتہ صدارتی انتخاب سے عین قبل ایک فحش فلم کی اداکارہ کو ہرجانہ ادا کیا تھا۔ میں ہیلسنکی میں ان کے ساتھ تھا جہاں اُن کو یہ کہتے سنا کہ وہ اپنے پاس کھڑے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو اپنی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے مقابلے میں زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدارتی انتخاب: فیصلے کا دن آن پہنچا

امریکہ میں ووٹ ڈالنا اتنا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟

امریکی الیکشن کے نتائج آنے میں تاخیر کیوں ہو سکتی ہے؟

اُن سے پوچھ گچھ ہوتے ہوئے دیکھی، ان کا مواخذہ ہوتے دیکھا اور پھر انھیں بری ہوتے بھی دیکھا۔ جب وہ کورونا وائرس کی زد میں آئے تو انھیں ریڈ ہسپتال جانے کے لیے اپنے پاس سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ جب میں نے انھیں بتایا کہ میں بی بی سی سے ہوں تو انھوں نے مجھے ’ایک اور خوبصورت‘ قرار دیا۔

ان سب کے بعد مجھے واقعی احساس ہوا ہے کہ دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور ایسا اکثر ہو سکتا ہوتا ہے۔

تو آئیے ہم تین ممکنہ منظر ناموں کی طرف آتے ہیں۔

بائیڈن

1۔ بائیڈن کی آسان جیت

پہلا امکان یہ ہے کہ انتخابی سروے اور پولز درست ثابت ہو جاتے ہیں اور جو بائیڈن منگل کی رات آسانی سے فتح حاصل کر لیتے ہیں۔

جان لیجیے کہ انتخاب کے سیزن میں رائے شماری کنندہ ہونے کا جوش و خروش کسی سعودی عرب کے ٹی وی میں موسم کی پیش گوئی کرنے جیسا ہوتا ہے کہ ’آج کا دن گرم اور دھوپ والا ہو گا، اور کل کے بارے میں اندازہ ہے کہ کل بھی موسم گرم ہو گا اور دھوپ ہو گی۔‘

چار سال قبل کے برعکس رواں سال کی انتخابی مہم کی اپنی تمام تر ہنگامہ خیزیوں اور تلاطم کے باوجود قومی اور اہم ریاستی انتخابات کے متعلق پولز غیر یقینی طور پر ایک سے رہے ہیں۔ کچھ نہیں ہوا، کچھ نہیں بدلا۔ بائیڈن نے قومی سطح پر بڑی برتری حاصل کی ہے اور فلوریڈا، ایریزونا اور شمالی کیرولائنا جیسے دھوپ والے علاقوں میں معمولی برتری حاصل کی اور اسی طرح کے معمولی فرق سے انھیں شمالی وسطی صنعتی ریاست یعنی وسکونسن، مشی گن اور پنسلوانیا میں بھی برتری حاصل ہے۔

اگر آپ فائیو ٹھرٹی ایٹ بلاگ پر جاتے ہیں، جہاں وہ اہم پولز کی تازہ ترین اوسط شرح برقرار رکھتے ہیں، تو اُن کا کہنا ہے کہ اس سخت مقابلے میں فرق صرف 0.1 فیصد ہے۔

جب ہم پولز یا سروے کے متعلق اطلاع دیتے ہیں تو ہم عام طور پر کہتے ہیں کہ ان میں تین فیصد سے تھوڑا کم یا زیادہ غلطی کا امکان موجود ہے۔ لیکن کئی ہفتوں کے دوران صرف 0.1 کا فرق ناقابل حساب ہے۔ لہذا اگر منگل کی رات کو یہ نتیجہ آتا ہے تو مجھے کوئی حیرت نہیں ہو گی۔

لمبی قطاریں

رواں سال ووٹ ڈالنے کے لیے لمبی قطاریں نظر آ سکتی ہیں

2۔ ٹرمپ کے لیے حیران کُن جیت

یہ دوسرا ممکنہ نتیجہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ سنہ 2016 کی طرح پولز غلط ثابت ہوتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی کامیابی کی کلید یہی ہے کہ پنسلوانیا اور فلوریڈا میں کیا ہوتا ہے۔

کسی کو بھی اس پولز پر یقین نہیں ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جو بائیڈن گرم مرطوب ریاستوں میں تین یا چار پوائنٹ آگے ہیں کیونکہ یہ فلوریڈا کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت مقابلہ ہے۔ اور سنہ 2020 میں ٹرمپ کی کارکردگی لاطینیوں میں سنہ 2016 کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔

اسی طرح پنسلوانیا میں ریاست کے مغربی علاقوں میں سفید فام کارکن طبقے کے ووٹر صدر ٹرمپ کو آگے لا سکتے ہیں۔

کورونا کی وجہ سے محدود سرگرمی والی اس انتخابی مہم میں میں فلوریڈا، اوہایو، ٹینیسی، پنسلوانیا، شمالی کیرولائنا، جارجیا اور ورجینیا کا دورہ کر چکا ہوں۔ اور جہاں بھی آپ جاتے ہیں وہاں آپ کو ٹرمپ کے حامی ملتے ہیں جو نہ صرف 45 ویں صدر کو پسند کرتے ہیں بلکہ اُن سے محبت کرتے ہیں۔

اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کا حساب کتاب یہ ہے کہ جس طرح سنہ 2016 میں انھوں نے بہت سارے ایسے لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکالا تھا جو عموماً باہر نہیں نکلتے اور یہی وجہ تھی کہ وہ انتخابی پولز کرنے والوں کی نظروں سے بھی اوجھل رہے اس سال بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

ووٹرز

اس کے علاوہ میں ان جلسوں کے بارے میں بھی چند باتیں کہنا چاہتا ہوں جو صدر ٹرمپ کر رہے تھے۔

ڈیموکریٹس نے وبائی امراض کے دوران معاشرتی فاصلہ برقرار نہ رکھنے اور ہزاروں افراد کو اکٹھا کرنے کے لیے ان پر غیر ذمہ دار ہونے کے الزمات کے ڈھیر لگا دیے۔ میں اس مباحثے میں نہیں پڑنا چاہتا۔ لیکن آپ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ ایسا کرنے میں اُن کا سمجھداری سے لگایا گیا حساب کتاب شامل ہے۔

ان پروگرامز میں شرکت کرنے کے لیے آپ کو آن لائن سائن کرنا تھا اور اس کے بعد یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آپ انتخابی رجسٹر پر ہیں یا نہیں اس کے لیے اعدادوشمار کی جانچ کا ایک پیچیدہ عمل تھا، اور اگر آپ نہیں ہیں تو وہ آپ کو اس میں شرکت کے لیے سائن کر لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد نے ووٹ ڈالنے کے لیے اندراج کیا ہے اور اس کانٹے کے مقابلے میں ووٹ ڈالنے کے عمل میں اس رکاوٹ کو دور کرنے سے بہت فرق پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کی فتح پر مجھے ایک اور وجہ سے حیرت نہیں ہو گی کہ جو بائیڈن بمشکل متاثر کُن مہم چلانے والی شخصیت ہیں۔

بڑھاپے کا عمل ہر ایک لیے ظالمانہ ہوتا ہے لیکن صدر ٹرمپ ڈیموکریٹ امیدوار بائیڈن سے کہیں زیادہ متحرک اور فعال نظر آتے ہیں حالانکہ ان کی عمروں میں صرف تین سال کا ہی فرق ہے۔ ایسا نہیں ہے اوباما کے سنہ 2008 کے ‘ہوپ’ کے نعرے کو بائیڈن نہیں اپنا سکتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر صرف ’نوپ‘ لگتا ہے کیونکہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں۔

لیکن سنہ 2020 میں ’نوپ‘ یعنی انکار بہت طاقتور ہے۔

یہاں ایک ’منفی طرف داری‘ کا طوفان برپا ہے اور اس سے ایسا لگتا ہے کہ اس انتخاب میں یہ ایک فیصلہ کُن عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ لوگ بائیڈن کو چاہتے ہیں بلکہ وہ اس شور مچانے والی صدارت سے پریشان ہیں جس میں امریکہ اس شدید طور پر منقسم ہوا ہے۔

3۔ بائیڈن کے لیے حیران کن طور پر یک طرفہ جیت

یہ تیسرا امکان ہے۔ اور یہ دوسرے ہی طرح ہے۔ یہاں بھی پولز اور سروے غلط ثابت ہوتے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ پولز الٹی سمت میں غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اور امکان یہ ہے کہ بائیڈن نہ صرف فتحیاب ہوتے ہیں بلکہ بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اور یہ رونالڈ ریگن کی جمی کارٹر پر سنہ 1980 کی طرح کی فتح کی طرح طوفان خیز ہو گا۔ یا پھر جارج ایچ ڈبلیو بش کی سنہ 1988 میں مائیکل ڈوکاکس پر فتح کی طرح۔

صدر نے انتخابی مہم کے آخری ہفتے میں کورونا وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھا ہے، جس میں ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور روزانہ ایک ہزار سے زیادہ اموات درج ہوئی ہیں۔ انھوں نے مارچ کے بعد سے سٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا بدترین ہفتہ بھی دیکھا ہے۔ یہ معاشی صحت کو جانچنے کا ایک بیرومیٹر ہے جس کی صدر سب سے زیادہ پرواہ کرتے ہیں۔

جو بائیڈن

سنہ 2016 کے برعکس جب ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس امریکی عوام کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ وہ دیوار بنانا چاہتے تھے، وہ مسلمانوں کو ملک سے باہر رکھنا چاہتے تھے، وہ تجارتی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرنا چاہتے تھے، وہ مینوفیکچرنگ صنعت کی احیا چاہتے تھے، لیکن سنہ 2020 میں دوسری مدت کے لیے ان کا ایجنڈا کیا ہو گا وہ اس کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔

لہذا اگر ’آندھی‘ چلتی ہے تو بائیڈن نہ صرف ان ریاستوں میں کامیابی حاصل کریں گے جن کا میں نے پہلے منظرنامے کے تحت ذکر کیا ہے بلکہ وہ ٹیکسس (ٹیکساس!)، اوہایو، آئیووا، جارجیا اور ممکنہ طور جنوبی کیرولینا بھی اڑا لے جائيں گے۔

اور ایک غیر متوقع چوتھا نتیجہ بھی ہے۔۔۔ کیونکہ یہ سنہ 2020 ہے۔ صدارتی امیدوار کو جیت کے لیے 270 الیکٹورل کالج یعنی جماعت انتخاب کنندگان کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے، مگر اگر دونوں کو برابر یعنی 269، 269 ووٹ ملتے ہیں تو۔۔۔ اور اس طرح آپ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد ایک ایسی صورتحال میں پھنس جاتے ہو جہاں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور امریکہ بُری طرح منقسم ہو جاتا ہے۔

ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ اور میرا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔

لیکن کیا یہ ناممکن ہے؟

اسے رہنے دو، یہ سنہ 2020 ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26020 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp