شجر کے لیے بڑا خطرہ دیمک ہے یا سنڈیاں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک جنگل میں ایک درخت ہے، جس پر قدرت کی خاص نوازش تھی کہ اس ایک درخت پر کئی اقسام کے پھل اور پھول اکٹھے اگ جاتے تھے۔ اس درخت کے پتے سارا سال سر سبز و شاداب رہتے تھے۔ جنگل کے باقی کئی درخت اس سے حسد کرتے تھے کہ اس پر قدرت کی اس قدر نوازشیں نجانے کیوں ہیں۔ ہمسایہ درختوں نے کئی بار اس درخت کو گرانے اور بیماری لگانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے کیونکہ درخت کا ہر حصہ مضبوط اور طاقتور تھا اور کوئی اتنی آسانی سے اس کو شکست نہیں دے پاتا تھا۔

اس درخت کی جڑوں میں کچھ کیڑے رہتے تھے۔ جو کہ درخت کی جانب سے دیے جانے والی خوراک کو کھاتے تھے اور درخت کی حفاظت کرتے تھے۔ ان کیڑوں اور دیمک کو درخت کی جڑیں کھانے میں بہت مزا آتا تھا لیکن وہ کیڑے اور دیمک درخت سے اتنے تابعدار اور مخلص تھے کہ درخت جتنا کہتا اور جہاں سے کہتا صرف وہاں سے کھاتے۔ ان کا پیٹ بھی بھر جاتا تھا اور درخت کا اتنی دیر میں وہ حصہ دوبارہ سے اگ جاتا تھا۔ درخت پر اگنے والے پھل، پھول، پتے اور ٹہنیاں انتہائی سرسبز اور مضبوط تھیں۔

ایک دن باقی درختوں نے سوچا کہ اس درخت کی حفاظت پر کیڑوں اور دیمک کے دل میں لالچ پیدا کرتے ہیں اور ان کو ورغلاتے ہیں شاید ایسے ان کا کام بن جائے۔ درختوں نے کیڑوں اور دیمک کو بلا کر کہا کہ دیکھو یہ درخت تم سے زیادتی کر رہا ہے، ساری طاقت اس کی جڑوں سے جاتی ہے جو کہ ٹہنیوں سے ہوتی ہوئی پتے، پھل اور پھول کھا جاتے ہیں اور تمہیں صرف ایک چھوٹی سی مقدار میں کھانے کو دیتا ہے۔ حالانکہ تم اہم اور بہترین جگہ پر بیٹھے ہو اور اس درخت کی سب سے اہم جگہ کی حفاظت بھی کرتے ہو۔

تمہارا سب سے زیادہ حق بنتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگرچہ سب کیڑے اور دیمک جانتے تھے کہ ان کی بھوک کے مطابق درخت ان کو کھانے کو دے رہا ہے اور ان کا بہترین گزارا ہو رہا ہے۔ لیکن چند کیڑوں کے سوا سب کے دل میں لالچ آ گیا کہ بات تو سچ ہے۔ دیمک چونکہ پہلے ہی ایسا کیڑا ہے جو کہ پیٹ بھرا بھی ہوتو کھانے اور چاٹنے سے باز نہیں آتا جس پر وہ سب سے زیادہ لالچی ہو گیا۔ اس لالچ کو جب ساتھ والے درختوں نے دیمک کی آنکھوں میں دیکھا تو ساتھ یہ بھی کہا کہ تم درخت کی اجازت کے بغیر اس کی جڑوں کو کھل کر کھاو، اگر کچھ ہوا یا کہیں تمہیں اور زیادہ کھانے کا من کیا تو ہم بھی اپنی اپنی جڑوں سے تمہیں خوراک دے دیا کریں گے۔

جس پر ان کیڑوں اور دیمک میں لالچ اور بڑھ گیا کہ اب تو باہر سے بھی کھانے کو ملے گا اور درخت نے اگر کوئی رکاوٹ بنائی تو باہر سے کھا کر پھر درخت سے بھی نمٹ لیا کریں گئے۔ بس پھر کیا تھا اپنی بھوک اور اوقات سے زیادہ کھانے کا دیمک اور کیڑوں کا ایسا چسکہ لگا کہ وہ اپنے ہی درخت کی جڑوں کو حد سے زیادہ کھانے لگے۔ جب کبھی درخت ہمت کر کے ان کو روکنے کی کوشش کرتا تو باہر والے درخت دیمک کو اپنا ایک حصہ کھانے کو دیتے جس پر وہ مزید طاقتور ہوکے درخت کھانے لگ جاتے۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس دیمک نے وہ چند اچھے کیڑے بھی کھا لیے جو اس کے مخالف تھے اور باقی بچے کیڑوں کو اپنا ماتحت کر لیا۔ اس کے بعد درختوں نے چند سنڈیوں کو کہا کہ اس دیمک سے دوستی کرلو، اور درخت کے اوپر چڑھ جاو طرح طرح کے پھل، پھول اور پتے کھانے کو ملیں گے۔ اب ہوا یہ کہ وہ سنڈیاں اس دیمک اور کیڑوں کی مدد سے درخت کے اوپر والے حصے تک پہنچ گئیں اور آہستہ آہستہ پھلوں، پھولوں اور اس درخت کے پتوں کو چاٹ چاٹ کھانے لگیں۔

ٹہنیاں یہ سب ہوتا دیکھ رہی تھیں لیکن ان کی بچی کھچی خوراک دیمک کی جانب سے چھوڑی جانے والی نالیوں سے اوپر آتی تھی اور دیمک اور سنڈیوں کی دوستی بھی تھی تو ان ٹہنیوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور صرف یہ سوچا کہیں دیمک ان کی خوراک بند نہ کردے اس لیے بس اپنی خوراک کی پرواہ کرو اور جو ہوتا ہے ہونے دو۔ ان ٹہنیوں نے دیمک کی طرح یہ بھی نہ سوچا کہ اگر ایک دن یہ درخت ہی نہ رہا تو نہ دیمک زندہ رہے گی نہ یہ ٹہنیاں، پر ایک طرف لالچ تو دوسری طرف کمزوری اور بے بسی نے دونوں کو گمراہ کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس درخت کی رونقیں ماند پڑنے لگیں اور وہ درخت مرجھانے لگا، کئی پھل گل سڑ کر گر گئے تو کہیں کھائے گئے۔ کئی پتے ٹوٹ کر بکھر گئے تو کچھ سنڈیوں کی نظر ہو گئے۔

اور اب آخرکار اس درخت کی یہ صورتحال ہے کہ زمین سے طاقت اور پانی لینے والی اس کی چند نالیاں بچی ہیں جو کہ دیمک ابھی بھی روز کھا رہی ہے اور سنڈیاں بچ جانے والے پتے، پھل اور پھول کھا رہی ہیں جبکہ ٹہنیاں ہاتھ پر ہاتھ رکھے دیمک کے ڈر سے سہم کر بیٹھی ہیں اور دیمک کے رحم و کرم پر اپنا حصہ کھا رہی ہیں۔ اب اس درخت کے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دیمک اور وہ چند کیڑے آج بھی سمجھ جائیں اور جڑوں کو کھانا چھوڑ دیں اور اوپر گئی سنڈیوں سے دوستی ختم کر کے انہیں درخت کی ٹہنیوں سے اتر جانے کا کہہ دیں اور ٹہنیوں کو اپنی شان واپس بحال کرنے کا موقع دیں۔ درخت پر صرف اسی صورت میں وہ سرسبز پتے، ذائقہ دار پھل اور خوشبودار پھول اگ سکتے ہیں۔ ورنہ ایک دن نہ درخت رہے گا نہ ہی اس کی نعمتیں۔ بس بات ہے وقت کی نزاکت کو سمجھنے کی اور دور اندیش سوچ رکھنے کی۔

آپ لوگوں کو لگ رہا ہو گا کہ اس درخت کا حال تو بالکل پاکستان جیسا ہے اور بیچارے عوام اور قدرتی وسائل کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جیسا کہ پتوں، پھولوں اور پھلوں کے ساتھ ہوا۔

اب بس آپ لوگوں نے یہ سوچنا ہے اس درخت کو تباہ و برباد کرنے میں سب سے زیادہ قصور وار کون ہے؟ دیمک، سنڈیاں یا ٹہنیاں؟ اور اس درخت بچانے کے لیے بھی ہوش کے ناخن دیمک کو لینے چاہئیں، سنڈیوں کو یا ٹہنیوں کو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •