قدم بڑھاو ٹرمپ، ہم تمہارے ساتھ ہیں
امریکہ میں چار سال بعد ایک دفعہ پھر صدارتی انتحابات جاری ہیں، دنیا بھر کے ناظرین کی نظریں مسلسل ٹی وی سکرین پر ہیں، سیاسی مبصرین تجزیے تبصرے پیش کر رہے ہیں، امیدواروں اور ان کے حامیوں کے دل مسلسل دھڑک رہے ہیں۔ تحریر کی اشاعت تک انتحابات کے نتائج بھی سامنے آ جائیں گے۔ اور پتا چل جائے گا کہ وائٹ ہاؤس کا اگلا مکین کون ہو گا۔ آیا کہ وہ سابقہ صدر ہو گا یا کوئی کوئی خاتون۔ یہ بحث بہرحال چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اگلے چند گھنٹے میں نتائج تو سب کے سامنے ہی ہوں گے۔
سوچ رہا ہوں اگر امریکی صدارتی انتحابات اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم پاکستان میں چلتی تو کیا ہوتا۔ ہمارے ہاں گلی کوچے اور دیواریں اشتہاروں سے گندی کی جا چکی ہوتیں جن پر اپنے اپنے امیدوار کے حق میں نعرے درج ہوتے۔
کہیں ٹرمپ کی تصویر والے اشتہار کے اوپر لکھا ہوتا عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا، فرش کے سارے خداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں۔ تو کہیں گانے گائے جا رہے ہوتے کہ جتے گا بھئی جتے گا، ساڈا ٹرمپ جتے گا۔
ہم الیکشن میں بھی عوام کے مذہبی جذبات کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں ووٹ کے بدلے جنت کی بشارت ملنا اور حوض کوثر سے جام بھر بھر کے پلائے جانے کی گارنٹی ملنا تو عام سی بات ہے۔ اگر امریکی انتحابات پاکستان میں ہوتے تو ہر امیدوار کے اشتہار پر یہ ضرور لکھا ہوتا ”وتعزمن تشاء، وتذل من تشاء“
مزید نعرے کچھ یوں ہوتے، اب امریکہ ہو گا خوشحال،
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے نوجوانوں میں، نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔ کہیں کہیں ہمیں اس طرح کے اشعار بھی پڑھنے کو مل جاتے، فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے، وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے۔
ہر امیدوار اپنے آپ کو سب سے زیادہ اہل سمجھتا ہے اس لئے ہر کسی کے ساتھ یہ ضرور لکھا ہوتا، ”آپ کے ووٹ کا صحیح حقدار“
ٹرمپ کی مہم کے دوران لگنے والے نعرے ہمارے ہاں کچھ اس طرح کے ہوتے، تمام برادریوں نے ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ آپ کا اپنا بھائی ڈونلڈ ٹرمپ، ڈونلڈٹرمپ کو ووٹ دے کر کامیاب کریں۔ ”اپنے مسائل کے حل کے لئے ڈونلڈ بھائی کو ووٹ دیں“ ، ”تیرا ویر، میرا ویر، ٹرمپ ویر، ٹرمپ ویر“ ۔ امن، جرات، فتح اور بہادری کا نشان، ڈونلڈ ٹرمپ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دو۔ صدر کے حواری انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں نعرے لگاتے ”ٹرمپ، اک واری فیر“
ڈونلڈ ٹرمپ قدم بڑھاو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
ٹرمپ تینوں رب دیاں رکھاں، جمہوریت کے علمبردار، آپ کا اپنا ٹرمپ، آپ کے حقوق کا محافظ۔ اپنی انتخابی تقریروں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ یوں کہا کرتے، ”میں ان کرپٹ سیاست دانوں کو واشنگٹن اور کیلی فورنیا کی سڑ کوں پر گھسیٹوں گا“
کسی امیدوار کی انتخابی مہم کا نعرہ ہوتا کہ ”ہم بدلیں گے امریکہ“ تو کوئی کہتا ”امریکہ آج کے بعد کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا۔“ جوبائیڈن کا نام پاکستان میں جوبائیڈن ملک ہوتا ہے اور اس کے اشتہارات پر نعرے درج ہوتے، نہ بکنے والا، نہ جھکنے والا۔ ہم سیاست عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ ہم نے للکارا ہے وقت کے فرعونوں کو
تیرا بھائی، میرا بھائی، ہم سب کا بھائی، جوبائیڈن بھائی، جوبائیڈن بھائی۔ ہم جوبائیڈن ملک کو موجو چک میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
خاتون صدارتی امیدوار کمیلا کا پاکستانی نام کمیلا رانی ہوتا اور اس کی انتخابی مہم میں یوں نعرے لگائے جاتے۔
امریکہ کو بدلنا ہو گا، کمیلا رانی کولانا ہو گا
ہماری رانی، صرف اور صرف کمیلا رانی
ہمارا نعرہ، صحت تعلیم اور انصاف
آپ کے ووٹ کی صحیح حقدار، کمیلا رانی۔
اصولوں کی سیاست کی علمبردار کمیلا رانی۔
حال ہی میں بعض مبصرین کی جانب سے اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہار کی صورت میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نتائج ماننے سے انکار کر دیں۔ اور اگر یہی ہار کسی امیدوار کو پاکستان میں دیکھنا پڑتی تو نعرے یوں ہوتے، دھاندلی ہو گئی، چار ریاستوں کے حلقے دوبارہ کھولے جائیں، ووٹ کو عزت دو، یہ اسٹیبلشمنٹ کی چال ہے، الیکشن کے نتائج کو ہم نہیں مانتے۔ نامنظور نامنظور، عوامی مینڈیٹ کی چوری نامنظور، ہم الیکشن نتائج کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے، ہم اسٹیبلشمنٹ کی دھاندلی کو نہیں مانتے۔ جینا ہو گا مرنا ہو گا، دھرنا ہو گا دھرنا ہوگا۔
جیتنے کی صورت میں نعرے کچھ یوں ہوتے۔
ہم ڈونلڈٹرمپ کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ آپ کے ووٹوں کا شکریہ، منجانب کمیلا رانی۔ جوبائیڈن ملک کو کامیاب کرنے پر حلقہ کے عوام کا شکریہ۔
امریکی الیکشن صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کو متاثر کرتے ہیں۔ آنے والی نئے صدر کی پالیسیاں کے نتائج سب کو دیکھنا پڑیں گے۔ الیکشن کے نتائج بہرحال جو بھی ہوں، دعا ہے کہ وہ پاکستان کے حق میں بہتر ہوں۔


