فورٹ منرو سے: یادیں اور باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر پاک و ہند میں یہ ایک سحر انگیز سر زمین ہے۔ جس کی قدامت ترکی کے پرانے شہر برسا سے بھی قدیم ہے۔ یہ ہندؤمت کا مرکز رہا ہے راجہ ہرنا کشپ کے دور میں اس کا نام سورج پور تھا تب یہ شہر بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ پرہلاد کے زمانے میں مندروں کی وجہ سے یہ شہر بڑا مشہور تھا۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب ”رگ وید“ میں اس جگہ کا نام ہے۔ البیرونی نے پہلی بار اس شہر کے لئے ”مولتانہ“ کا نام استعمال کیا ہے یہی نام آج تک ملتان کی شکل میں موجود ہے۔

یہاں پڑنے والی گرمی دنیا بھر میں لذیز اور خوش ذائقہ آموں کی فراہمی کا سبب بنتی ہے۔ مری سے سات سو کلو میٹر دور ہونے کی وجہ سے یہاں کے باسی گرمیوں میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے مگر یہاں رہنے والوں کی اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ یہاں تھوڑے فاصلے پر ایک نہایت پر فضا مقام موجود ہے جو اپنے قدرتی حسن، دلکشی اور نظاروں میں دنیا بھر کے کسی بھی پر فضا مقام سے کم نہیں ہے اس تاریخی مقام کا نام فورٹ منرو ہے جو ملکی تاریخ میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔

فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں شامل ہے۔ ڈی جی خان 1982 ء تک ملتان ڈویژن کا حصہ تھا یکم جولائی 1982 ء اس میں چار اضلاع مظفر گڑھ، لیہ، راجن پور اور ڈی جی خان کو شامل کر کے الگ ڈویژن کا درجہ دیا گیا۔ سردار غازی خان ہوت بلوچ نے 1480 ء میں یہ علاقہ آباد کیاجس کے نام کی نسبت سے یہ ڈیرہ غازی خان کہلاتا ہے جبکہ رحیم یار خان، دریا خان، اسمعیل خان اس کے بھائی تھے جن کے ناموں کی بدولت یہ شہر آباد ہیں۔ ان کی ایک بہن تھی جس کا نام بانو تھا جس کے نام کی نسبت سے بنوں شہر آباد ہے۔

اس کی دو تحصیلں ہیں ایک ڈی جی خان دوسری تونسہ شریف ہے۔ جس میں وسیع جنگلات پائے جاتے ہیں۔ تونسہ بیراج آب پاشی کا ایک بڑا منصوبہ ہے جودریائے سندھ پر واقع ہے یہ پاکستان کا پندرہواں اور دریائے سندھ کا چوتھا بیراج ہے۔ فورٹ منرو جانے کے لئے ڈی جی خان سے لورالائی جانے والی سڑک پہ سفر کیا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں جانب تا حد نگاہ زمین خالی اور ہریالی ہے دور سے درخت بہت بھلے لگتے ہیں۔ اونٹ اور بھیڑ بکریاں چراتے چرواہے مخصوص پگڑی باندھے اپنے اپنے مال مویشیوں کے ساتھ بیٹھے اور چل رہے ہیں۔

عام شہریوں کی زندگی کیسی ہے اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے مگر ایک ائرپورٹ نظر آتا ہے جو صدر پاکستان رہنے والے فاروق لغاری کو اپنے گاؤں تک لانے اور لے جانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ جس کا عام شہریوں کا کیا فائدہ ہوا ہوگا چند دن یہاں گزار کے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہاں مشہور قصبہ سخی سرور آتا ہے جو برصغیر پاک و ہند میں صوفی سلسلے کے ایک بزرگ ہیں۔ جن کا اصل نام سید احمد جبکہ لقب سخی سرور تھا۔ ان کی شادی حاکم ملتان گھنو خان کی بیٹی سے ہوئی تھی انہوں نے شیخ عبدالقادر جیلانی اور شیخ شہاب الدین سہروردی سے فیض حاصل کیا تھا آپ کا مزار شاہ کوٹ کوہ سلیمان میں واقع ہے۔

شیخ شہاب الدین سہروردی کو صلاح الدین ایوبی نے الحاد کے جرم میں پھانسی دے دی تھی۔ یہاں خشک اور سلیٹی مائل پہاڑوں کی تراش خراش اس قدر جاذب نظر ہے کہ دیکھنے والے کا قدرت پہ ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے اندر خوبصورتی کے سمندر سموئے ہوئے ہے پہاڑوں کے درمیان گزرتے ہوئے ندی نالے جنہیں رودہیاں کہا جاتا ہے اپنی طغیانیوں کی وجہ سے بڑے مشہور ہیں۔ بارش اور سیلاب کے دنوں میں گزرنے والا پانی اس قدر تیز ہوتا ہے کہ سامنے آنے والی ہر شے کو بہا لے جاتا ہے۔

ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ہم پانی محفوظ کرنے کی بجائے ضائع کر رہے ہیں۔ اس سے ذرا آگے تا حد نگاہ لوہے کی باڑ سے زمین کے ایک ٹکڑے کو محفوظ کیا گیا ہے جو پاک فوج کے کنٹرول میں ہے قدرت نے اس علاقے کو معدنیات کی دولت سے نوازا ہے جس پہ کام ہونا ابھی باقی ہے۔ یہ راستہ یہاں سفر کرنے والے سیاحوں کو ہمیشہ اپنی یاد دلاتا رہتا ہے۔ پہاڑوں کے گرد بل کھاتی اور چڑھتی چڑھاتی سڑک ایک دلفریب منظر پیش کرتی ہے جب آپ تاریخ کے اس پل پر ہوتے ہیں جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پل ہے۔

یہ پل حکومت جاپان کے تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچا ہے سٹیل سے بنا یہ پل ایک شاہکار ہے جو راجی گھاٹ سے بواٹہ تک بنایا گیا ہے۔ مورخہ 3 مئی 2008 ء کا دن اس علاقے اور پاکستان کے لئے ایک تاریخ ساز دن تھا جس دن اس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ جام جہاں نما (کمپیوٹر) کے مطابق یہ پل ایشاء کا دوسرا بڑا پل ہے جو سٹیل سے بنا ہے جس پہ 1.2 بلین سے زائد کی لاگت آئی ہے۔ پل بننے سے دشوار گزار راستے آسان ہوئے ہیں۔ حکومت جاپان کے تعاون سے بنے اس پل کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ یا خدا تیرا شکر ہے کہ یہ پل بی آر ٹی والوں نے نہیں بنایا سڑک پر رینگتے اور گھوں گھوں کی آوازیں نکالتے ٹرک دور سے کھلونا محسوس ہوتے ہیں۔

جب کوئی ٹرک ہارن بجاتا ہے تو دیر تک آوازپہاڑوں میں گونجتی ہے جو کانوں کو بھلی لگتی ہے۔ اس شاہکار سے گزرتے ہوئے انسانی عقل پہ رشک آتا ہے جہاں ایسے موڑ بھی آتے ہیں جہاں سے گزرتے ہوئے نئے آنے والے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ جب آپ سٹیل کا یہ پل کراس کر جاتے ہیں تو فورٹ منرو کا پر فضا مقام آپ کو خوش آمدید کہتا ہے جس کا نام ڈیرہ جات کمشنر کرنل منرو کے نام سے فورٹ منرو رکھا گیا تھا۔ ایک راستہ سیدھا لورالائی بلوچستان جبکہ دوسرا اوپر پہاڑوں کی جانب جاتا ہے۔

جہاں سے اس سارے علاقے کا نظارہ نہایت مسحور کن ہے نیچے ایک چھوٹی سی مارکیٹ ہے جس کی دکانیں کچی اور اور بند ہیں جبکہ ایک قطار میں ہوٹل موجود ہیں نیچے ہوٹل سستے اور اوپر مہنگے ہیں۔ جب اترائی سے چڑھائی کی جانب سفر کریں تو ایک چھوٹی سی جھیل کا سامنا ہے اس جھیل کا نام ڈپٹی کمشنر مسٹر ڈیمز کے نام پر ڈیمز جھیل رکھا گیا ہے کہتے ہیں کہ اترائی پہ رہنے والوں کو ہمیشہ انچائی پہ رہنے والوں کی ضرورت رہتی ہے۔ ساڑھے چھ ہزار فٹ کی بلندی سے یہاں کا نظارہ ایک لمحے کے لئے انسان کو کسی اور جہان میں لے جاتا ہے چاروں طرف پہاڑوں میں گھری یہ وادی خوبصورت ہی نہیں بلکہ بہت ہی خوبصورت ہے جسے ہم نے بد صورت بنا رکھا ہے صفائی ستھرائی کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہے۔

جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ کوئی شے بھی نقشے کے مطابق نہیں ہے جس کا جہاں دل چاہا عمارت بنالی ہوٹل، بنگلے، عمارتیں، مارکیٹ کوئی بھی نقشے کے مطابق نہیں ہے۔ یہ سب دیکھ کے اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ مری اور یہاں کا واضح فرق کیوں ہے مری بنانے والوں نے آج کے دن تک اس ملک میں تباہی اور بربادی کے جتنے بھی فیصلے ہیں وہیں بیٹھ کے سرانجام دیے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ وہاں جانے سے پہلے پنڈی اور اسلام آباد سے ہو کے جانا پڑتا ہے اور یہاں ابھی تک ایسا کوئی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا ہے چہ جائیکہ زمین کے ایک بہت بڑے ٹکڑے پہ باڑ لگا دی گئی ہے جو مستقبل میں دیکھنے کو ملے گا زمین کا یہ ٹکڑا اس خطے پہ کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔

یہ علاقہ ملکی اور عالمی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہو سکتا ہے اگر ہم تھوڑی توجہ سے یہاں کام کا آغاز کر دیں پہاڑوں پر درخت لگائے جائیں۔ یوتھ ہاسٹل بنائے جائیں۔ پی ٹی ڈی سی کو اللے تللے کاموں سے فرصت ہو تو یہاں کا دورہ کریں۔ حکومت پاکستان کو ان پہاڑوں میں جدید ترین تقاضوں کے مطابق چیئر لفٹ لگانی چاہیے بچوں کے لئے بھر پور تفریح کا سامان مہیا کیا جائے۔ یہاں حکومت پاکستان کو عالمی سطح کی ایک یونیورسٹی بناناچاہیے حالانکہ ہمیں علم سے شروع دن سے ہی بیر ہے لیکن جدید دنیا میں جینا ہے تو اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ یہ علاقہ پنجاب اور بلوچستان کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔

اس تفریحی مقام پر توجہ ہی نہیں بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ علاقہ بھی ترقی اور خوشحالی کی جانب سفر شروع کر سکے یہاں اکیسویں صدی میں بھی بیس بیس گھنٹے بجلی بند ہوتی ہے جس میں وقت کی پابندی ایسی کہ آپ عش عش کر اٹھیں انفرسٹرکچر کا وہی حال ہے جو ہماری وزارت خارجہ کا حال ہے۔ حالانکہ ہر دور میں اس خطہ زمین سے وڈیرے، جاگیر دار، تمن دار، سردار، وزارتوں مشارتوں میں اعلی سے اعلی عہدوں پر فائز رہے ہیں مگر اس علاقے کے شب و روز سے یہ اندازہ کرنا بہت آسان ہے کہ انہیں اپنے خطے، زمین عام سماج کی ترقی و خوشحالی سے کتنا لگاؤ ہے۔

یہاں ان کے بنگلے اور بڑی عالیشان رہائشیں ہیں جو سردیوں میں نوکروں کے حوالے جبکہ گرمیوں میں ان کی بڑی بڑی گاڑیوں کے لئے بڑے بڑے گیٹ کھلتے ہیں دوسری طرف عام شہریوں کے لئے یہاں خوشگوار موسم کے علاوہ کوئی اور سہولت نہیں ہے جس کی ریاست ذمے دار ہے۔ ہم شہریوں کے لئے سیر تفریح کے مواقع مہیا کرنا ریاست کی بنیادی ذمے داریوں میں سے ایک ذمے داری ہے۔ ایک قابل ذکر چیز یہاں کا پیالہ ہے پہاڑوں سے پانی بوندوں کی شکل میں ایک پتھر پہ گرتا ہے سالہا سال کے تسلسل نے اسے پیالے کی شکل دے دی ہے پہاڑوں میں موجود یہ پیالہ سیاحوں کے لئے کسی عجوبے سے کم نہیں ہے۔

اکتوبر کا مہینہ ہے جس کا آخری عشرہ اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے ہمارا یہاں سے وآپسی کا ارادہ ہے صبح سویرے سڑک کنارے چائے اور پراٹھے سے کیا گیا ناشتہ سدا یاد رہے گا جب سامنے گزرتے ٹرک سیب، سبزیاں اور کوئلہ لئے گزر رہے تھے ہم فورٹ منرو سے نکل رہے تھے سورج ابھی سو رہا تھا۔ یہاں سردی ہی نہیں نہیں بلکہ اچھی خاصی سردی ہے اور ہمارے پاس ماسوائے اپنی گاڑی کے ہیٹر کے اور کوئی گر م شے نہیں تھی سو اسی لئے وآپسی کا سفر شروع کیا گیا ہے۔

اکتوبر کا مہینہ اور سال 1993 ء ہے جب تہذیبوں کے امین شیوا کے مکین شیر زمان نے اپنی بائیسکل پہ سفر کا آغاز کیا تھا۔ پشاور سے اٹک، اٹک سے پنڈی، پنڈی سے جہلم، جہلم سے لاہور، لاہور سے ملتان، ملتان سے ڈی جی خان، ڈی جی خان سے فورٹ منرو، فورٹ منرو سے رکنی، رکنی سے مختر، مختر سے لورالائی، لورالائی سے زیارت، زیارت سے کوئٹہ تک 1500 کلومیٹر کا سفر 17 دن میں مکمل کر کے تاریخ کے پنوں میں اپنا نام درج کروایا تھا۔ تب یہ سڑک ایک ٹیڑھی میڑھی لکیر جیسی تھی جس پہ آج دنیا کا جدید ترین پل مکمل ہے جس پہ ہم سفر کر رہے ہیں اور میں یادوں کو یاد کر کے سوچ رہا تھا کہ ہمارے لوگوں میں بلا کا اعتماد ہے موقع ملے تو شاندار نتائج دیتے ہیں مگر ہماری ریاست اپنے لوگوں پہ اعتماد کرنے سے کیوں قاصر ہے یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •