خوشاب کے بینک مینیجر کا قاتل احمد نواز، نیا قومی ہیرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معزز قوموں میں ہیرو بن نے کے لیے دن رات کی سخت محنت کے بعد ایک عملی نمونہ بن کر دکھانا ہوتا ہے تب جاکر ایک قومی ہیرو کے اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قومی ہیرو بن نے کے لیے ایک بندوق لے کر کسی بھی ایسے شخص کو قتل کر کے جس کی کسی بھی بات سے اختلاف رائے ہو، عشق رسول ﷺ کو اس کا محرک بتانا ہوتا ہے اور اس قتل کرنے کے بعد عاشقان اسلام کی جانب سے اس قاتل شخص کو اپنے کاندھے پر بیٹھا کر ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ واقعہ نا ہی کوئی پہلا ہے اور افسوس کے ساتھ نا ہی کوئی آخری واقعہ ہے۔

صوبہ پنجاب کے شہر خوشاب کی تحصیل قائد آباد میں واقع نیشنل بینک آف پاکستان کے برانچ منیجر ملک عمران حنیف کو احمد نواز نامی سیکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ بینک کے دیگر ملازمین کا کہنا ہے کہ معاملہ گارڈ کو دیر سے آنے پر مینیجر کی جانب سے ڈانٹنے پر شروع ہوا۔ مینیجر کی جانب سے سختی سے پیش آنے پر دونوں میں بحث ہوئی اور اس گارڈ نے مینیجر کو موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

عاشق اسلام گارڈ اس معاملے میں خود کو بچانے کی خاطر مینجر پر توہین مذہب کا رنگ دے دیا اور نعرے لگاتا ”گستاخ رسول کی ایک ہی سزا سر تن سے جدا سر تن جدا“ اور رقص کرتا ہوا اپنے جیسے درجنوں جاہل ہجوم کے ساتھ تھانے پہنچ گیا۔ تھانے میں پولیس اہلکار نے گارڈ احمد نواز قاتل کو پروٹوکول دیتے ہوئے سرکاری خرچے پر چائے پیش کی اور پوچھا گیا کہ آخر آپ نے بینک مینیجر کا قتل کیوں کیا، جس کے جواب پر احمد نواز کا کہنا تھا کہ اس گستاخ نے مجھے کہا تھا کہ تم صرف فرض نماز پڑھا کرو اور سنت وغیرہ پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس بات کی وجہ سے میرے جذبات مجروح ہوئے اور پھر میں ایک عاشق اسلام کی حیثیت سے بینک مینیجر ملک عمران حنیف پر گولیاں چلا دی۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کا آج کل دوسرا نام جدید ریاست مدینہ بھی ہے، جہاں ایسی خوفناک صرتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب تمام مساجد میں ایک گارڈ تعینات کردیے جائیں گے جن کا کام یہ ہوگا کہ اگر کسی مسلمان نے صرف فرض نماز پڑھ کر بھاگنے کی کوشش کی تو اس پر گولیاں چلادی جائیں گی۔

یہ بلاسفیمی کا قانون نہ صرف ریاست مدینہ میں موجود پاکستانی اقلیت بلکہ اکثریت کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے کیونکہ مرحوم بینک مینیجر کا تعلق نا احمدی/قادیانی مذہب سے تھا نا ہی مسیحی یا ہندو برادری سے تھا۔ پاکستان میں اب بہت ضروری ہو چکا ہے کہ مذہبی جنونیت رکھنے والی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پایا جائے جس کے لیے تمام سیاسی و عسکری قیادت کو بالاتر ہو کر سوچنا پڑے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس سے ثابت ہو جائے گا کہ فرانس کے وزیر اعظم جناب ایمانوئیل میکرون درست الزام لگاتے ہیں کہ اسلام کو مان نے والے لوگ امن پر یقین نہیں رکھتے بلک ایسے قاتلوں کو اپنا قومی ہیرو سمجھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •