جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے سے فلائنگ جٹ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقسیم ہند کے وقت کانگریس نے ایک ایسا میدان بھی مارا کہ جس کو اس وقت کے سادہ لوگ سمجھ ہی نہ پائے۔ وہ کارنامہ یہ تھا کہ سکھوں کو مسلمانوں کے بجائے کانگریس کا ساتھ دینے پر ناصرف تیار کیا بلکہ سکھوں کو تقسیم ہند کے خیال کا سب سے بڑا مخالف بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سکھوں اور مسلمانوں کا شدید خون آشام ٹکراؤ ہوا جس میں لاکھوں لوگ جان سے گئے اور صوبہ پنجاب بھی صوبہ بنگال کی طرح تقسیم ہوا۔ حالانکہ سکھ اگر پاکستان کا ساتھ دیتے تو ان کو نہ اپنی وسیع و عریض زمینیں چھوڑنی پڑتیں نہ ہی بابا گرو نانک دیو اور دیگر مقدس ہستیوں کی جنم بھومی۔

اور تو اور صوبہ پنجاب بھی تقسیم نہ ہوتا۔ ہندوستان میں اتنی وسیع آبادی میں سکھ جتنی چھوٹی اقلیت ہیں وہ پاکستان میں کبھی بھی اتنی چھوٹی اقلیت نہ ہوتے۔ غور کیجئے تو اسلام اور سکھ مت میں بہت مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ سکھ بھی توحید کو مانتے ہیں اور بابا گرو نانک دیو جی کی تعلیمات میں حضرت محمد ﷺ کو خدا کا نبی اور قرآن کا خدا کا کلام کہا گیا ہے۔ سکھوں کے مقدس ترین کلام ”ایک ست نام“ کے ترجمے کو غور سے پڑھیے تو کھل جائے گا سکھ مت میں ہندو ازم سے مشابہت زیادہ ہے یا اسلام سے۔

گرو گرنتھ صاحب میں بابا فریدؒ کا کلام بڑی تعداد میں موجود ہے۔ مگر ان سب مشابہتوں کے باوصف بھی سکھوں کو کانگریس کے چالاک رہنماؤں نے اس طرح قابو کیا کہ وہ ہند کا حصے بنے۔ مگر ہند کا سحر اور سارا چارم چار دن میں ہی سکھوں پر کھل گیا۔ ان کو معلوم ہوا کہ وہ محض ایک اقلیت ہیں۔ ایک چھوٹی اقلیت جس کا نمبر مسلمانوں کے بھی بعد آتا ہے اور اب ان کو ہر سماجی دائرے میں یہی رول ادا کرنا ہے۔ یہ احساس محرومی بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچا کہ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے نے جنم لیا۔

جرنیل کو اولاً خود اندرا گاندھی ’اکالی دل‘ کے خلاف استعمال کر رہی تھی مگر جرنیل ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ وہ وفاق ہند کے خلاف ہی بپھر گیا۔ پھر سکھ ہندو تناؤ ہزاروں لوگوں کی جان لینے لگا جو بالآخر آپریشن ”بلیو اسٹار“ پر منتج ہوا جس میں جرنیل سنگھ مع اپنے ساتھیوں کے مارا گیا۔ دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ جرنیل سنگھ تو دمدمی ٹکسال کا ایک سخت گیر سکھ انتہا پسند ہو سکتا ہے مگر اس کے ساتھ آپریشن بلو اسٹار میں مرنے والا میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ تو بھارتی فوج کا اتنا اہم آدمی تھا کہ مکتی باہنی کی تربیت اسی نے کی تھی۔

میجر جنرل جب مرا تو وہ خود بھارتی فوج پر ہی گولیاں چلا رہا تھا۔ بھارتی فوج اس آپریشن میں سکھوں کے سب سے متبرک اور مقدس مقام اکال تخت یعنی گولڈن ٹیمپل کو بھی گولیوں اور ٹینک کے گولوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ اس کے بدلے میں سکھ محافظوں کے ہاتھوں اندرا گاندھی گولیوں سے چھلنی ہوئی اور پھر وہ ہندو سکھ فساد کی آگ لگی کہ ایک ہی دن میں صرف دلی میں آٹھ ہزار سکھوں کو مار دیا گیا۔ پھر فوج نے نہایت بھیانک آپریشن پنجاب میں کیا جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ آج تک سکھ ”Never forget 1984“ کے نعرے، برطانیہ اور دیگر ممالک میں اپنے مظاہروں میں لگاتے ہیں۔

خیر جرنیل سنگھ کی تحریک سے کچھ حاصل ہوا ہو یا نہ ہو مگر اتنا ضرور ہے کہ سکھوں کو علامتی طور پر اب ہند میں ”سپر مین“ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ میدان سیاست میں من موہن سنگھ جیسے کٹھ پتلی وزیر اعظم کے علاوہ بھارتی فلموں میں سکھوں کو بڑی شدت سے ”مین اسٹریم“ کیا جاتا ہے۔ یہ بڑی دلچسپ صورتحال ہے۔ اب کسی بھی فلم میں کوئی بھی سکھ منفی کردار میں نہیں دکھایا جاتا۔ ہر فلم میں بس ایک ہی ’اسٹیریو ٹائپ‘ ہوتا ہے کہ سکھ ایک باغیرت اور عظیم قوم ہے اور ایک سکھ سوا لاکھ کے برابر ہے۔ سکھ اگر گینگسٹر ہو تو بھی اخلاقیات کا مرقع ہے اور یہ شیروں کی قوم ہے۔ ایمانداری، دیانتداری، معصومیت، فرض شناسی، سچائی، الغرض کون سی اچھی صفت ہے جو سکھوں میں نہیں ہے؟ پھر اب تو فلموں میں سکھ سپر ہیروز بھی آ گئے ہیں جو اڑتے ہیں، ظالموں سے لڑتے ہیں، مظلوموں کو ان کے حق دلواتے ہیں۔

ظاہر سی بات ہے کہ کوئی بھی قوم یا کسی بھی مذہب کے ماننے والے سارے کے سارے ہی ایک ہی کردار کے مالک تو ہوتے نہیں۔ جس طرح اصولی طور پر کسی بھی پوری قوم یا کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہر شخص کو شیطان بنا کر پیش کرنا غلط اور غیر اخلاقی ہے، بالکل اسی طرح کسی گروہ کو کلی طور پر فرشتہ بنا دینا بھی ایک غلط ہی رہے گا۔ مگر ظاہر ہے کہ خالصتان کے خواب کو حقیقت نہ بننے دینے کے لئے یہ میٹھی میٹھی باتیں شاید ضروری بھی ہیں۔

مثل مشہور ہے کہ ’گڑ نہ دو تو گڑ جیسی بات ہی کرو‘ ۔ جرنیل سنگھ سے پہلے سکھوں کو ہندوستان میں نہ گڑ ملتا تھا نہ گڑ جیسی بات مگر اب ان کو کم از کم گڑ جیسی بات مل جاتی ہے۔ اب بھارتی میڈیا سکھوں کو ہر دم بتاتا رہتا ہے کہ ’ایک سکھ سوا لاکھ پر بھاری ہوتا ہے‘ اور سردار چاہے فوج میں برگیڈیئر ہو یا واچ مین اس کو صرف ’سردار‘ نہیں کہتے، ’جی‘ ضرور لگاتے ہیں ۔ چلو جرنیل سنگھ بھلے خالصتان نہ بنا سکا ہو مگر اپنی قوم کو ’ سپر سنگھ ‘ اور ’ فلائنگ جٹ ‘ تو بنا گیا۔ سارا ’ بالی وڈ ‘ سکھ قوم کی عظمت کے بیان میں ہر لمحہ مصروف ہے۔ یہ فتح بھی کیا کم ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •