کورونا، این سی اوسی اور مذاکرات


جب پوری دنیا میں کوویڈ 19 بری طرح پھیل رہا تھا بلکہ پھیل چکا تھا اس وقت پاکستان میں نہ صرف کرکٹ میچز اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری تھے بلکہ بسیں، عام سواریاں، مساجد، سنیما ہال، شاپنگ مال اور مارکیٹیں سب کی سب انسانوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں اور گوادر سے لے کر خیبر تک کروڑوں افراد کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ ”کورونا“ نامی کوئی جرثومہ جنم لے چکا ہے جس نے پوری دنیا کے کاروبار زندگی کا پہیہ جام کر دیا ہے، ملیں، کارخانے، دفاتر، بسیں، ٹرینیں، ہوائی جہاز غرض ہر قسم کی حرکات و سکنات نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بند کی جا چکی ہیں اور انسانوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا ہے، با الفاظ دیگر کوویڈ 19 نے پوری دنیا میں کرفیو لگا دیا ہے اور کسی کو گھر سے باہر جھانک لینے تک کی آزادی نہیں۔ ایک جانب پوری دنیا کا مار خوف یہ عالم اور پاکستان میں نہ دن کی کوئی پہچان تھی اور نہ رات کی، ہر جانب پورا پاکستان جاگ رہا تھا۔

ریڈیو، ٹی وی اخبارات کے ذریعے نشر ہونے والی خبریں عوام کے لئے نہ صرف توجہ کا مرکز تھیں بلکہ دنیا بھر میں کورونا کی سر گرمیاں کافی حد تک دلوں کو دہلا بھی رہیں تھیں۔ پہلے پہل تو بین الاقوامی پروازیں بند ہوئیں، پھر ملک سے بیرون ممالک پروازیں روکی گئیں، کر کٹ بے شک جاری رہی لیکن اسٹیڈیم تماش بینوں کے لئے بند کر دیے گئے، رفتہ رفتہ ہر قسم کی اندرون شہر اور شہر سے شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ بند ہوئی۔ اسکول کالج کے ساتھ ساتھ ہر قسم کاروبار زندگی بند کر دیا گیا حتیٰ کہ ہر چھوٹے، بڑے، عورتوں اور مردوں کا گلیوں تک میں گھومنا پھرنا بند کر دیا گیا اور یوں پاکستان بھی پوری دنیا کی طرح کورونا کے کرفیو کی زد میں آ گیا۔

یہ وہ دور تھا جب کورونا اتنا خودسر تھا کہ کسی فرد و بشر کو گھاس ڈالنے کے لئے تیار ہی نہیں تھا اور جہاں جہاں بھی اس کے خاموش احکامات کی خلاف ورزی ہوئی وہاں وہاں اس نے تباہی و بربادی کے ایسے ایسے بازار سجائے کہ کوئی گھر میں، کوئی گھر سے باہر، کوئی دفتر میں تو کوئی کارخانے میں اور اگر کوئی زیادہ ہی مہذب ہوا، وہ ہسپتال میں جاکر خالق حقیقی سے جاکر ملاقات کرتا نظر آیا۔

ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی آفت ہر جانب عام ہو جائے تو لوگ اس کی دہشت اور خوف کے عادی ہو ہی جاتے ہیں۔ کوئی جنگ اپنی تباہ کاریوں کا دائرہ زیادہ ہی بڑھا دے تو موت کا خوف دل سے نکل ہی جاتا ہے۔ اس مہذب دنیا میں بھی دنیا کے بہت سارے ممالک اور قبضہ کیے ہوئے خطے ایسے ہیں جہاں انسانوں پر موت کے بادل نہ صرف چھائے ہوئے ہیں بلکہ دھواں دار برسات کی طرح آگ اور خون بھی برساتے رہتے ہیں لیکن ان علاقوں میں رہنے والے اس بربریت کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ جس دن کوئی بم دھماکا یا گولیوں کی تڑتڑاہٹ نہ سنائی دے اس دن ان کو دن میں چین اور راتوں کو نیند ہی نہیں آتی۔ بالکل اسی طرح کورونا کے مسلسل حملوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا کے انسان کورونا کے خوف و ڈر سے باہر نکل آئے اور آہستہ آہستہ کاروبار زندگی رواں دواں ہوتا چلا گیا۔

ایک جانب ”جناب کورونا“ کی تباہ کاریوں کا خوف انسانوں کے دلوں سے مفقود ہوتے جانا اور دوسری جانب اس کے خلاف دواؤں یا ویکسین کی تیاریوں کا زور پکڑ لینا، تشویش کا سبب تھا تو دوسری جانب انسانوں کے کار و بار حیات کا رواں دواں ہونے کے واضح آثار، لہٰذا اس کی پہلی سی اکڑ کا ختم ہوجانا خود کورونا کے لئے ایک فطری عمل تھا جس کی وجہ سے پوری دنیا کا تو علم نہیں، پاکستان میں ”این سی او سی“ کے سامنے وہ اتنا بے بس ضرور نظر آیا کہ اسے مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑا۔ ایک طرف کورونا تو دوسری جانب ”این سی او سی“ ، دونوں ہی اس بات پر راضی ہونے پر مجبور ہو گئے کہ بہتر ہے اپنے اپنے مفادات کا تحفظ خوش اسلوبی سے طے کر لیا جائے تاکہ دونوں اپنے اپنے دائرے میں اپنے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔

پاکستان میں جو بھی مذاکراتی ٹیم ہوتی ہے وہ جس سے بھی اپنی بات چیت کرتی ہے اس کا اختتام ”کچھ لو کچھ دو“ پر طے ہو ہی جاتا ہے۔ نیب ہو تو پری بارگین پر، عدالت ہو تو باہر بیٹھ کر سمجھوتوں پر اور اگر حکومت ہو تو این آر او پر۔ جب ملک میں کورونا نے دیکھا کہ مسجدیں ہوں، بازار ہوں، تعلیمی ادارے ہوں، پبلک ٹرانسپورٹ ہو یا کاروبار زندگی کا کوئی بھی رنگ، لوگ مرنے مارنے پر اتر آئے ہیں تو کورونا اور این سی او سی نے اپنے اپنے دائرہ عمل کو نہایت خوش اسلوبی سے طے کرتے ہوئے معاہدے کو آخری شکل کچھ اس طرح دی ہے کہ رات 10 بجے تا صبح 8 بجے کافی معاملات میں کورونا مکمل آزاد ہوگا لیکن صبح 8 تا رات 10 بجے وہ عوام کو پریشان نہیں کرے گا۔

شادی ہالوں پر 20 نومبر تک کوئی حملہ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد جو بھی حملہ ہونا ہوگا وہ بند شادی ہالوں پر کیا جا سکتا ہے البتہ کھلے آسمان تلے کوئی کارروائی قابل برداشت نہیں ہوگی۔ کھلے آسمان تلے بھی اگر مہمانوں کی تعداد ایک ہزار سے ایک بھی زیادہ ہوئی تو کورونا کو پہنائی گئیں ساری زنجیریں توڑ دی جائیں گی۔ مارکیٹیں، شاپنگ مال اور ٹھسا ٹھس بھری ٹرانسپورٹ پر بھی کوئی حملہ رات 10 بجے سے پہلے نہیں کیا جائے گا۔ ان کامیاب مذاکرات کے بعد دونوں جانب سے فریقین نے معاہدے پر دستخط کیے اور دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے۔ جب سے کورونا این سی او سی والوں سے گلے ملا ہے اس وقت سے کافی افسردہ افسردہ سا دکھائی دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون پہلے ہتھیار ڈالتا ہے۔

Facebook Comments HS