عوام کے فیصلے کا وقت آن پہنچا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں ایک پارٹی نے احتساب کا نعرہ لگایا اور اقتدار پایا جبکہ دوسری پارٹیوں نے اپنے ماضی کے کارنامے گنوائے اور عوام سے جوتے کھائے۔ اس بار قیادت نئی ہے مگر ساتھ میں وہی سیاسی بھانڈ، ابن الوقت اور مالشیے، جو کبھی اس تھالی کے بینگن اور کبھی اس تھالی کے۔ آج ادھر سر تسلیم خم اور کل ادھر ویلکم (Welcome) ۔ مگراس بار ایک بات تو طے ہے کہ جس نے بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پاکر رہے گا۔ اب تک موجودہ حکومت نے بیرونی دنیا کی چالوں کو تو کامیابی سے بے نقاب کرتے ہوئے ناکام کیا ہے مگر ذہن میں رہے کہ اصل خطرہ اندرونی سازشوں اور سازشیوں سے ہے۔

سازشی افراد اپنے ذاتی مفادات کے لیے دشمنوں کی زبان بولتے اور ان کے لکھے ہوئے سکرپٹ پر عمدہ اداکاری بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ انفرادی سوچ اور منافقانہ کردار کے حامل ان سیاست دانوں کو ان کے کردہ گناہوں کی سزا دے کر آئندہ کے لیے چور بازاری کا سلسلہ بند کرنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان اندرونی گروہ آف ٹھگز کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ایک بار بلا مشروط معافی مل جائے پھر وہ ذاتی حیثیت میں سیاست کو خیر آباد کہہ دیں گے مگر کپتان کا وعدہ ”میں ان کو رلاؤں گا“ ، ”پائی پائی کا حساب لوں گا“ ، ”این آر او نہیں دوں گا“ ۔

اپنی جگہ پر ابھی تک موجود ہے۔ موروثیت کی بنیادوں پر قائم جمہوریت کا ڈرامہ اپنے عروج پر ہے اور باہر بیٹھے تماشائی یعنی عوام اپنے ایک ایک پیسے کا حساب لینے کو بے قرار ہیں۔ غیور عوام جانتے ہیں کہ ماضی میں ہونے والی کرپشن پر جیت چوروں کی تھی اور عوام کے حصے میں ہار لکھ دی گئی لیکن اس بار ہار چوروں کی ہے اور جیت عوام کی ہوگی۔ ڈالر دی اچی شان، گیس بجلی تے پٹرول دا طوفان، چینی تے آٹے کا فقدان، ہوئیاں نیں گلیاں سنسان، میدان وچ کھلوتا اے کپتان، گل وچ پا کے کرپان۔

یاد رکھیں! اے کم نہی اسان۔ وزیر اعظم کے عزم کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن قیادت میں شامل کرپشن میں لتھڑے، عدالتوں سے سزا یافتہ، کمیشن ایجنٹ، ٹی ٹی مافیا، بے نامی اکاؤنٹس والے بوکھلا گئے ہیں چند ہفتوں سے جاری اپوزیشن کے احتجاج میں ملک دشمن ایجنڈا نمایاں نظر آنے لگا ہے چند پیروکاران میر صادق و میر جعفر کے مکروہ چہرے بھی عوام کے سامنے آ گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ زر خرید غلامان شریف خاندان ہوسکتے ہیں مگر قائد اعظم کی مسلم لیگ کے کارکن نہیں ہو سکتے۔

کیونکہ مسلم لیگی کارکن اپنے قائد کے وطن سے کھلواڑ کرنے والوں کو تحفظ نہیں دیتا اور اپنے ملک و فوج کے خلاف بات کرنے والوں کی زبان کھینچ لیتا ہے۔ یہ ہے غضب جہاں کی عجب کہانی، جہاں چور بھی بولے ”چور چور چور“ ۔ اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ ایسے لیڈر جن کا کاروبار، اولاد اور جینا مرنا باہر کے ممالک میں ہو وہ کس طرح اس ملک کے عوام کی خدمت کا دعوی کر سکتے ہیں۔ یہ تو صریحاً ایک دھوکا ہے جس میں ہماری معصوم عوام پچھلی کئی دہایؤں سے گرفتار تھی اب اس دھوکے کی قیمت اداروں کی تباہی کی صورت میں عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

ایک سابق وزیر اعظم کے دو بیٹے عدالتی مفرور ہیں۔ اس کی بیٹی کا سسر عدالت کی طرف سے اشتہاری ہونے پر ملک سے بھاگا ہوا ہے، ایک بیٹی عدالت سے سزا یافتہ ہے اور موصوف خود بھی عدالت سے مجرم قرار دیے جا چکے ہیں جبکہ ایک صاحب جو خادم اعلیٰ کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں ان کا ایک بیٹا اور داماد اس ملک کی عدالتوں سے بھاگے ہوئے ہیں، بیوی کو بھی عدالتی بلاوہ آ گیا ہے خود نیب کی تحویل میں اور دوسرا بیٹا بھی عدالتوں کے چکروں میں ہے۔

اربوں روپے کی کرپشن، بے نامی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے کیسز، عدالتوں میں چل رہے ہیں اور عنقریب فیصلے ہونے والے ہیں ایسے میں اپوزیشن کو این آر او ہی واحد نجات کا ذریعہ نظر آتا ہے وگرنہ دوسری صورت میں اداروں سے تصادم۔ ”اللہ جانے کون بشر ہے، سامنے میدان حشر ہے“ ۔ حشر نشر جاری ہے فجر تک۔ جب تک نئی صبح طلوع نہیں ہو جاتی، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک بات طے ہے کہ اب ہر محب وطن پاکستانی کا کام شروع ہوجاتا ہے ایسے مشکل وقت میں عوام نے اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم نے اندھیروں سے نکل کر روشنی میں سفر کرنا ہے؟

کیا ہم اپنے فیصلے خود کریں گے یا ایک مخصوص ٹولے کے فیصلوں پر آمین کہیں گے؟ ملک میں لوٹ کھسوٹ کا نظام چلے گا یا مدینہ کی ریاست عمل میں لانی ہے؟ دنیا میں سر بلند کر کے جینا ہے یا سر جھکا کے؟ کیا سبز پاسپورٹ کی عزت بحال کروانی ہے؟ یاد رکھیں! اب ہم میں سے ہر شخص کو اپنے ملک کے استحکام اور سلامتی کے لیے کوشش کرنی پڑے گی تاکہ یہ سلطنت اتنی مضبوط و مستحکم ہو جائے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی بری نیت سے ہماری طرف نہ دیکھے۔

اگر ہم ان مسائل سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے سینوں کو اسی حرارت ایمانی سے معمور کرنا ہو گا جس سے ہمارے اسلاف آشنا تھے اور اپنے قومی وجود کو ویسے ہی با عظمت اور پر جلال ثابت کرنا ہو گا جیسے کبھی ہمارے اسلاف نے قرون اولیٰ میں کیا تھا۔ آج کے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ قوم جس کا آفتاب کبھی عرب کے ریگ زاروں سے ابھرا تھا اور جس نے کائنات کے ذرے ذرے کو درس مساوات دیا تھا ایک بار پھر آگے بڑھے اور اس آڑے وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی رہنمائی بھی کرے تاکہ ساری دنیا اس ابھرتے سورج کی تمازت سے اپنے پراگندہ خیال معاشروں کو پاک کرنے کی کامیاب کوشش کرے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب دنیا میں ہم ایک باوقار قوم کی حیثیت سے جانے جائیں گے اگر ہم صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تو پھر کامیابی لازم ہے۔ یہ وقت نہیں ہے ڈرنے کا، یہ وقت ہے آگے بڑھنے کا، وطن کو بچانے کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •