یونیورسٹی میں داخلہ وبال جان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انٹر کرنے کے بعد کسی طالب علم پر سب سے مشکل مرحلہ کسی یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہوتا ہے۔ اس دوران تقریباً سب ہی بچے پریشان ہوتے ہیں۔ ان پریشانیوں میں سر فہرست یونیورسٹی کا ایڈمشن سسٹم ہے جو کہ طالب علموں کے حق میں نظر نہیں آتا۔ راقم التحریر جب یونیورسٹی کے ایڈمشن سسٹم سے گزرا تو اسے جن مشکلات کا سامنا ہوا، منجملہ تحریر اسی سے متعلق ہے۔

ہر سرکاری یونیورسٹی کے داخلے کا نظام اپنا اور مختلف ہے جس سے طالب کی مشکل میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

سب سے پہلے تو داخلہ شروع ہونے کی تاریخ میں فرق ہے۔ ایک یونیورسٹی کی کلاسیں بھی شروع ہو چکی ہوتی ہیں اور دوسری یونیورسٹی اپنے داخلے ہی نہیں کھولتی۔ قائد اعظم اور پنجاب یونیورسٹی ہی کی مثال لے لیتے ہیں۔ دونوں اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی پاکستان کی جامعات میں پہلے نمبر پر شمار ہوتی ہے جس کے ایڈمشن جولائی میں شروع ہوتے ہیں اور اسی مہینے میں ختم ہو جاتے ہیں۔ جب کہ پنجاب یونیورسٹی کے داخلے اکتوبر میں کھلتے ہیں۔ جولائی اور اکتوبر کے درمیان اتنے بڑے دورانیے میں بندہ کہاں جائے اور کہاں نہیں، کچھ سمجھ نہیں آتا۔

مذکورہ بالا دو جامعات میں داخلہ لینا تقریباً ہر طالب علم کا خواب ہوتا ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی میں داخلہ نہ ہونے پر بچے اپنی ساری توجہ پنجاب یونیورسٹی کی جانب مبذول کر دیتے ہیں۔ بفرض محال اگر پنجاب یونیورسٹی میں بھی داخلہ نہ ہوتو بعض طلبا کا سال ضائع ہوجاتا، کیوں کہ اس کے بعد کسی بھی یونیورسٹی کے داخلے اگلے سال ہی کھلیں گے۔ سال ضائع نہ ہو اس ڈر سے ہمیں دورسری یونیورسٹیوں میں بھی داخلہ بھیجنا پڑتا ہے۔ جس سے مغزماری کے ساتھ ساتھ چالان فیس کا بھی پہاڑ کھڑا ہو جاتا ہے جس کا مفصل ذکر آگے ہے۔

مشکل یہاں ختم نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پرمیرا کسی یونیورسٹی میں نام آ جاتا ہے اور داخلہ منسوخ نہ ہونے کے ڈر سے میں وہاں فیس بھی جمع کروا دیتا ہوں ؛ تو بعد ازاں جب میرا اپنی من پسند یونیورسٹی میں نام آ جاتا ہے تو مجھے اپنی فیس جو کہ میں جمع کروا چکا ہوں واپس لینا ہوگی۔ اس معاملے میں اکثر یونیورسٹیاں فیس واپس دیتی ہی نہیں اور اگر دے بھی دیں تو دس سے پندرہ ہزار ہڑپ لیتی ہیں۔ اگر سب یونیورسٹیاں ایک ہی مہینے میں داخلہ جاری کریں تو ایک سے زیادہ یونیورسٹیز میں فیس جمع کرانے کا مسئلہ ختم ہو سکتا اور طلباء کا وقت بھی بچ سکتا ہے۔

دوسرے نمبر پر چالان فیس مختلف ہے۔ کچھ جامعات ایک مضمون کی چالان فیس پانچ سو لیتی ہیں جبکہ کچھ دو ہزار۔ مثال کے طور پر یونیورسٹی آف گجرات کی ایک سبجیکٹ، انگلش کی مثال لے لیتے ہیں، کی چالان فیس دو ہزار ہے۔ اگرآپ ایک سے زیادہ سبجیکٹ میں داخلہ لینا چاہتے ہیں تو آپ کو چار ہزار کا ٹیکہ لگے گا۔ اس کے ساتھ جی سی یو لاہور کی چالان فیس پندرہ سو ہے جب کہ پنجاب یونیورسٹی کی پانچ سو۔ اب اگر ایک سے زیادہ یونیورسٹیز میں اپلائی کریں تو پانچ سے سات ہزار محض چالان فیس کی مد میں ہی چلے جاتے ہیں جو واپس نہیں ہوں گے۔ چالان فیس کم یا زیادہ لینے کی منطق ذہن سے بالاتر ہے۔

اس کے بعد نمبر آتا ہے فیسز کا۔ فیسز کے لحاظ سے بھی ہر یونیورسٹی کا اپنا ہی قبلہ ہے۔ اگر ایک سبجیکٹ کی سمیسٹر فیس ایک جامعہ تیس ہزار لے رہا ہے تو دوسرا ستر ہزار تک لے رہا ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر آپ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بی ایس کر رہے ہیں تو آپ کو ہر چھے ماہ کے کم و بیش 35,000 کی فیس دینا پڑے گی۔ جب کہ قائد اعظم یونیورسٹی ایک سمیسٹر کا 76,000 تک چارج کرتی ہے۔ جی سی یو لاہور 52,000 تو اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد 56,00 لیتی ہے (اعداد و شمار میں کمی بیشی ممکن ہے ) ۔ اگر سرکاری سکول و کالج ایک طرح کی فیس رکھ سکتے ہیں تو یونیورسٹیوں میں یہ نظام کیوں کر رائج نہیں ہوتا۔ فیس کی ہی وجہ سے کئی اعلیٰ ذہنیت کے طالب علم معمولی کالج میں بی ایس کر لیتے ہیں جو کہ ان کے معیار کے بالکل بر عکس ہوتا ہے۔

ہماری جامعات میں سمیسٹر سسٹم ہے۔ یعنی ہر چھے ماہ بعد آپ ایک درجہ مزید آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے سال میں داخلے بھی دو بار ہونے چاہیے مگر اکثر سرکاری جامعات صرف ایک بار ہی داخلہ کھولتی ہیں۔ اس سارے نظام کا فائدہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو ہوتا ہے۔ جس لڑکے کا اچھے سرکاری ادارے میں داخلہ نہیں ہوتا، وہ سال ضائع کرنے کی بجائے کسی نجی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر فیسوں کے ملبے تلے دب جاتا ہے۔

آپ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کا تعلیمی نظام دیکھ لیں ؛ طالب علموں کو کافی مراعات حاصل ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں ایک لڑکے کا یونیورسٹی میں داخلہ لینا وبال جان سے کم نہیں۔ نہ جانے کب ہم اس فرسودہ نظام سے نکلیں گے۔ جامعات کو متوازی نظام لانا چاہیے تاکہ ذہین اور فطین بچوں سمیت اوسط ذہنیت کے بچے بھی آسانی سے پڑھ سکیں۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ایسا نظام قصداً رکھا گیا ہے تا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں پھل پھول سکیں۔

میڈکل جامعات کا حال قدرے بہتر ہے۔ بچوں کو میرٹ کے پیچھے بھاگنے کے لیے مختلف جامعات کی خاک نہیں چھاننی پڑتی۔ اگر آپ نے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کا امتحان پاس کر رکھا ہے تو پی ایم ڈی سی (Pakistan Medical and Dental Commission) ہی طالب علم کے نمبروں کو مدنظر رکھ کر یونیورسٹی کا تعین کرتی ہے۔ اس نظام کو ایچ ای سی (Higher Education commission) کو باقی یونیورسٹیوں میں بھی لاگو کرنا چاہیے تاکہ طلباء کو یونیورسٹی کے انتخاب میں مشکل نہ ہو۔ طالب علم کسی بھی خطے کا اثاثہ ہیں۔ انہیں ضائع کرنا کسی بھی ملک کے لیے خود منہ کی کھانے کے مترادف ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حمزہ قیوم کی دیگر تحریریں