کرسی نشین جنریشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”نانا۔ آپ کے انٹرنیٹ کا پاس ورڈ کیا ہے۔“ میرا بارہ سالہ نواسہ ہاتھ میں اپنا آئی پکڑے مجھ سے پوچھ رہا تھا۔
ہمارے یہاں کوئی پاس ورڈ نہیں ہے۔ اوپن ہے۔ میرے جواب سے وہ بہت خوش ہوا اور کوئی کھیل کھیلنے لگا۔

”نانا۔ آپ یہ کھیل کھیلیں۔ سپر ماریو کے طرح کی ہے۔“ میں نے پیڈ پکڑا اور کوشش کی تو میرا سپر ماریو ہر دفعہ سمندر میں جا گرا۔
”نانا آپ کو کھیلنا ہی نہیں آتا۔“ اس نے مایوس ہو کر پیڈ میرے ہاتھ سے لے لیا۔

”بچے تم نے کبھی پٹھو گرم کا نام سنا ہے؟
”نہیں“
اور کوٹلہ چھپاکی
”نہیں“
اور میروڈبہ
”نہیں نہیں نہیں“

اور لکم میٹی اور اسٹاپو اور لنگڑا دیو اور باندر کلا اور گلی ڈنڈا؟
وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا اور ہنسں کے کہنے لگا ”نانا آپ بھی کیا عجیب عجیب سے نام لے رہے ہیں۔“

میں نے اسے بتایا کہ یہ عجیب عجیب نام نہیں ہیں۔ یہ ہمارا بچپن ہے اور یہ وہ کھیل ہیں جو ہم نے دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلی ہیں اور رنگ برنگے بنٹے، اور پکی گولیاں اور کچی گولیاں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کبھی کھلے آسمان تلے رات گزاری ہے۔ ”نہیں نانا۔ ڈر لگتا ہے۔“ اور ہم تاروں کے مدھم روشنی یا چاند کی پوری روشنی میں صحن میں چارپائیوں پر اطمینان سے سوتے تھے اور پورے چاند کی روشنی میں والدین سے چھپ کر رسالے پڑھا کرتے تھے۔ جب برسات کے دنوں میں شبنم زور سے گرتی تھی اور ہمیں بھگوتی تھی تو ہم کھیس میں منہ لپیٹ لیتے تھے۔ اور صبح سورج کی شعاعیں جب تیز ہو جاتیں تو آنکھیں ملتے ہوئے دھوپ کو بیزار نگاہوں سے دیکھتے اٹھ جاتے تھے۔

رات اگر بارش ہو جاتی تو اس کے قطرے ہمیں جگاتے اور پھر بستر لپیٹ۔ چارپائیاں اٹھا برآمدے میں بھاگتے اور دوبارہ سو جاتے۔

”کبھی نہر میں نہائے ہو۔ میں نے اس سے پوچھا نہیں نانا۔ اتنا گندا پانی ہوتا ہے۔“ اور اس مٹی سے بھرے پانی میں ہم تیرا کرتے ڈبکیاں لگاتے اور ایک دوسرے کو غوطے دیتے اور چھینٹے اڑانے کا کھیل کھیلتے۔

جاکوزی کا پریشر جتنا بھی ہو۔ ٹیوب ویل کے نل کے پریشر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نل سے زور سے نکلتے اس پانی کے نیچے سر رکھنے کا اپنا مزہ ہے۔

غرض ہمارا بچپن کھیلتے۔ کودتے۔ لڑتے۔ محبت کرتے اس طرح گزرا کہ آج کل کی کرسی نشین نسل اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ سکول میں کوئی ماہر نفسیات بچوں کی تعلیم و تربیت پر لیکچر نہیں دیتا تھا استاد پڑھاتے بھی تھے اور ڈنڈے بھی مارتے تھے۔ مرغا بننے کی جو صلاحیت ہم میں تھی وہ آج کل مفقود ہے۔ لیکن نہ کبھی والدین نے احتجاج کیا اور نہ بچوں نے جلوس نکالے۔ سردیوں میں ٹھٹھرتے ہاتھوں پر دو، دو ڈنڈے کھا کر اپنے اندر دبی دبی ہنسی کو بمشکل روک کر ہم کچھ دیر کے لیے ہاتھ ملتے ہوئے اچھے بچے بن جاتے تھے اور پھر وہی شرارتیں۔

اقبال نے کہا تھا۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہٴ صحرائی یا مرد کوہستانی

فطرت ایک خوبصورت اور قابل قدر چیز ہے۔ موجودہ ایجادات نے انسان کو اس سے دور تر کر دیا ہے۔ نئی ایجادات سے فائدہ اٹھانا بہت اچھی بات ہے۔ مگر فطرت سے دور چلے جانا کوئی اچھی بات نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •