”امریکی انتخابات کا ایک پریشان کن زاویہ اور پاکستان کی مماثلت“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمال مشرق اور مغربی امریکہ کی جن ریاستوں میں سفید فام آبادی کہیں ستر کہیں اسی اور کہیں نوے فیصد کے قریب ہے وہاں پر وہ اپنے کمفرٹ زون میں ہیں اور انہیں بطور سفید فام کسی چیلنج کا سامنا نہیں تھا وہاں انہوں نے نسبتاً آزاد ذہن کے ساتھ میرٹ پر ڈیموکریٹ کو ووٹ کیا جبکہ وسطی اور جنوبی ریاستوں کے سفید فام امریکی جنہیں رنگداروں کے ڈیموگرافک دباؤ اور روزگار میں مسابقت کا سامنا ہے اور جو اپنے طرز زندگی میں تبدیلی کے خطرات سے خائف ہیں وہ ڈونالڈ ٹرمپ کی شکست پر افسردہ اور غصے میں ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ کی ہار کے باوجود ان کو ڈالے جانے والے غیر معمولی پاپولر ووٹ اس کا کھلا اظہار ہیں لیکن اس کے باوجود ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں گوروں کا حق حکمرانی ابھی تک قائم ہے جہاں جہاں وہ رنگداروں کو شریک اقتدار کر رہے ہیں یہ ان کی مہربانی ہے جو ایک دہائی کے بعد ان کی ضرورت بن جائے گی اور اس سے اگلی دو دہائیوں میں یہ شراکت اقتدار امریکی نظام کی لازمی مجبوری بن جائے گی جس سے معاملہ کرنے کے لئے عین ممکن ہے کہ انہیں کوئی نیا سماجی معاہدہ کرنا پڑے (واضح رہے کہ اس وقت امریکہ میں سفید فام آبادی ساٹھ فیصد جبکہ رنگدار آبادی چالیس فیصد کے لگ بھگ ہے )

پھر وہ یا تو لاطینی باشندوں کو خود میں ضم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے یا پھر ”منارٹی الائنس“ کو موقع دیں گے کہ وہ امریکہ کو شمال اور جنوب کی سمت میں تقسیم کے لئے سوچنا شروع کر دیں اور اگر امریکہ معاشی طور پر کمزور ہوتا ہے تو اس عمل کی طرف پیش رفت زیادہ تیزی سے ہوتی دکھائی دے گی۔

اس متوقع اکھاڑ پچھاڑ کو صرف بڑے شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی روک سکتی ہے کیونکہ وہاں انضمام و ادغام کا عمل تیز تر ہوتا ہے جو سماجی فاصلوں اور تضادات کو قابل قبول اور برداشت کو ضابطوں کا پابند کرتا ہے موجودہ الیکشن میں بھی تقریباً تمام امریکی ریاستوں کے صدر مقام شہروں کے انتخابی نتائج اس امر پر گواہی ہیں جہاں زیادہ تر ووٹ ڈیموکریٹ امیدوار کو پڑے ہیں۔

امریکی داخلی مسائل شاید پاکستان سے بھی زیادہ پیچیدہ ہیں اور ہمہ وقت خانہ جنگی کا بھرپور امکان لئے ہوئے بھی لیکن جہاں ہر معاملے کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں وہیں پاکستان بھی۔ اپنے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سے بہت سے سبق سیکھ سکتا ہے خاص طور پر پہلے سے موجود شہروں کی بہتر پلاننگ کر کے ان کو توسیع دینے وہاں تعلیم و صحت اور انفراسٹرکچر کو منظم بنا کر اور نئے شہروں کی آبادکاری پر توجہ دے کر پاکستان اپنے شہریوں کی زندگی کا معیار بہتر کر سکتا بلکہ آبادی کے ایک بڑے حصے کا انحصار زراعت پر سے ختم کر کے ان کو صنعت و حرفت اور تجارت و خدمات کے پیداواری عمل میں حصہ دار بنا کر اور پھر اس پورے عمل سے ٹیکس کلیکشن کی مد میں حکومتی آمدنی میں غیر معمولی اضافے کے ذریعے ملکی ترقی کی رفتار کو کئی گنا زیادہ اور تیز کر سکتا ہے

امریکہ کی ابھی تک نا صرف ترقی بلکہ بقا بھی اس کی باون ریاستوں کے تریپن بڑے شہروں اور آبادی کے کسی ایک جگہ ارتکاز کے بجائے ملک بھر میں پھیلے ہونے سے ممکن ہوئی ہے تو پھر پاکستان اس نسبتاً آسان طریقہ کار پر عمل کیوں نہیں کر سکتا، ویسے بھی تو ٹیکس صرف بڑے شہروں سے ہی ملتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •