بیٹیوں کو عزت دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشاور سے کراچی تک اقلیتیں اپنی مغوی بیٹیوں کو لے کر سراپا احتجاج ہیں۔ لیکن ریاست کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ہر طرف ایک ہی آواز سنائی دے رہی ہے کہ آرزو کو آزاد کرو۔ ہما کو رہا کرو۔ شیزا کو رہا کرو۔ فرح شاہین کو رہا کرو۔ اور ہزاروں کمسن بچیوں کا یہ سلسلہ پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ثواب کے نام پر چھوٹی اور کمسن بچیوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور پھر ان کا برین واش کیا جاتا ہے اور چند دنوں بعد یہ اعلان کر دیا جاتا ہے کہ بچی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا اور پھر کسی ادھیڑ عمر شخص سے اس کی شادی کروا دی جاتی ہے۔

یہاں بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔ کیا عظمت اسلام ایسے عمل کی تائید کرتی ہے؟ کیا ابتداء میں اسلام کی تبلیغ کے یہ طریقے رائج تھے؟ کیا مذہبی رہنما اور علما جبری تبدیلی مذہب کے اس طریقہ کو تسلیم کرتے ہیں؟ کیا شریعت میں مذہب کی جبری تبدیلی درست ہے؟ اگر ایسا نہیں تو ہمارے مذہبی ادارے اور وطن عزیز کے جید علماء ایسے عمل کو خلاف شریعت کیوں تسلیم نہیں کرتے۔ اور اگر واقعی یہ ظلم و جبر کے زمرے میں آتا ہے۔ تو پھرامیر جماعت اسلامی، جمعیت علما ء اسلام، پاکستان علماء کونسل، اسلامی نظریاتی کونسل کو ایسے عناصر کی سرکوبی کرنی چاہیے کیونکہ دین میں تو جبر نہیں۔

اس کے باوجود اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس پر شرعی اور قانونی ایکشن لینا چاہیے۔ ایک خوبصورت دین کو بدنام کرنے کی سازش کو ناکام بنا دینا چاہیے۔ پاکستان تو پہلے ہی گرے لسٹ میں لٹکا ہوا ہے اب اور کہاں لے جانے کا ارادہ ہے۔ کم از کم پاکستان کی محب وطن اقلیتیں یہ تو نہیں چاہتیں کہ ہمارا پیارا وطن گرے لسٹ میں ہی رہے بلکہ ان کی تو دن رات یہ دعا ہے پاکسان وائٹ لسٹ میں آ جائے تاکہ پوری دنیا میں ہمارے پاسپورٹ کو وہ مقام مل سکے جو دیگر ترقی یافتہ ملکوں کو حاصل ہے (انشا اللہ) ۔

ایسے ظلم و جبر واقعات سے پہلے ہی دنیا بالخصوص بھارت میرے وطن کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ہم تو پہلے ہی دنیا میں تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں آج اگر اس مذہبی و سماجی اور انسانی حقوق کے ایشو کو بر وقت حل نہ کیا تو۔ ہم مزید ذلیل و خوار ہو جائیں گے۔ ایک محتاط سروے کے مطابق صرف دو ہزار چودہ تک۔ ہر سال ایک ہزار کمسن بچیوں کو جبراً اغوا برائے تبدیلی مذہب کیا گیا۔

میری حکومت اور اعلیٰ حکام سے التجا ہے کہ اس معاملے پر مناسب قانون سازی کی جائے۔ اقلیتوں کی بیٹیوں کو بیٹیاں سمجھا جائے۔ اس قدر ظلم سے اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دی جائے۔ اے اہل اقتدار! کیا تمھاری بیٹیاں نہیں۔ یاد رکھیں۔ انسان جو بوتا وہی کاٹتا ہے۔ میرا اور آپ کا خدا انصاف کا خدا ہے۔ اس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ یہ مکافات عمل ہے آج تک اس سے کوئی بچ نہیں سکا۔ اقلیتوں کی بیٹیوں کو عزت دو۔ پاکستان کی بیٹیوں کو عزت دو۔

ہمارے وزراء۔ ہمارے پارلیمنٹیرین۔ ہمارے تھانے۔ ہماری عدالتیں۔ آج اقلیتوں کی بیٹیوں کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں۔ تمہاری بھی بیٹیاں ہے۔ ائے اہل انصاف۔ آپ نے عوام الناس سے نا انصافی کی ہے۔ نادرا جیسے اداروں کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔ آپ ایک عدالت ہیں۔ لیکن آپ کے اوپر بھی ایک عدالت ہے۔ تم سب سے یہ ایک سوال ضرور کیا جائے گا۔ کہ تم تو آزاد تھے لیکن تمھارے لوگ کتنے آزاد تھے؟ جن ریاستوں میں انصاف مرجائے وہاں بھروسے قتل ہو جاتے ہیں۔

آئے اہل قلم۔ اٹھو۔ اور بیٹیوں کو عز ت دو۔ ائے تحریک انصاف والو۔ اقلیتوں کو انصاف دو۔ اہل ووٹ کو عزت دینے والو۔ بیٹیوں کو عزت دو۔ اے دختر مشرق کے سیاسی پیرو کارو۔ پاکستانی دختران کو عزت دو۔ ائے اہل مغرب کو رشتوں کی پامالی کا طعنہ دینے والو۔ اب تمھاری باری ہے۔ پاکستان کی بیٹیوں کو عزت دو۔ ان کا جبراً مذہب تبدیل مت کرو۔ تم اگر سمجھتے ہو تو سچے ہو تو۔ سچ بول دو۔ تم اگر کہتے ہم سے زیاد ہ اقلیتوں کو تحفظ کوئی نہیں دیتا۔ تو آج تحفظ دے ہی دو۔ اے پاکستان، تیری بیٹیاں اغوا ہو رہی ہیں۔ ریپ ہو رہی ہیں۔ خدارا۔ عزت کا تقاضا ہے۔ غیرت کا تقاضا ہے۔ بیٹیوں کو عزت دو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •