جامعات: پہرے ہی پہرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر کراچی جاؤں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ جامعہ کراچی کا چکر نہ لگایا جائے۔ لیکن جامعہ کے باہر تو پہرے لگے ہوئے تھے۔ اندر جانے کے لئے کوئی کاغذی جواز ہونا چاہیے یا جامعہ کا کوئی ملازم ساتھ لے جائے جب کہ ہمارے پاس یا ساتھ ایسا کچھ نہیں تھا۔ اسی لئے باہر ہی سے جامعہ کی عمارات، نیم و املی کے درخت اور ان کے آس پاس اڑتی ہوئی دھول کو دور سے سلام کر کے لوٹنا پڑا۔ بہت افسوس کے ساتھ۔ آخر آٹھ سال گزارے ہیں وہاں تعلیم اور تدریس کے سلسلے میں۔ اس دوران جامعہ نے میری ذہنی تربیت اور فکری نشو و نما میں اہم کردار ادا کیا۔ اور یوں میں نے ایک نوجوان مرد سے با شعور انسان ہونے کا سفر طے کیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب طلبا کی یونین کے انتخابات باقاعدگی سے ہر سال منعقد ہوتے تھے، طلبا بے روک و ٹوک ملک اور تعلیمی مسائل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے، بحث و مباحثہ کے پروگرام منعقد کیے جاتے تھے، فی البدیہ تقریروں کے مقابلے سجتے تھے، سیاسی و سماجی رہنماؤں کو بلایا جاتا تھا اور ان سے ملک اور معاشرتی مسائل کے بارے میں سوالات کیے جاتے تھے۔

پھر یہ سب کچھ اچانک غائب ہو گیا اور مذہبی انتہا پسندی اور لسانی نفرتوں کا دور شروع ہو گیا۔ امیرالمومنین کی انتظامیہ نے اس تشدد کی فضا کو کچھ گروہوں کی مدد کر کے ہوا دی اور اس ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلیمی اداروں پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں۔ پہلے تو طلبا یونین کا سلسلہ ختم کیا گیا، نہ ہو بین تو نہ بجے بانسری۔ پھر ایسے اساتذہ اور طلبا زیر عتاب آئے جو ریاست کی پالیسیوں سے متفق نہیں تھے۔ آزادی اظہار رائے کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا گیا پھر مذہبی انتہا پسندی کی ایسی فضا پیدا کی گئی کہ طلبا اپنے کورسز اور غم روز گار کے علاوہ کچھ سوچنے سے بھی ڈریں۔

سوچ پر یہ خود ساختہ پہرے آزادی رائے کے فقدان سے بھی بد تر ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی ایک جامعہ میں ایک طالب علم کو سوالات پوچھنے کی سزا میں اپنی جان کھونی پڑی۔ ایک اور جامعہ میں کچھ عرصہ پہلے ایک استاد کو اس جرم کی سزا میں قتل کر دیا گیا کہ وہ ایک ایسی تقریب منعقد کرنے کا انتظام کر رہے تھے جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں نے اکٹھی شمولیت کرنی تھی۔ کیا پاکستان کی جامعات کو مدرسوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے؟

جنوں کی مخلوق کے بارے میں سیمینار منعقد کیے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگ جنوں کے وجود کو سائنس کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زندگی کے ارتقائی نظریے کو رد کیا جا رہا ہے۔ اس شور شرابے میں نامور سائنس دان پروفیسر پرویز ہود بائی کو ایک قلیل تعداد کے علاوہ کوئی نہیں سنتا کہ سائنس کی بنیاد منطق ہے جبکہ مذہب کی بنیاد وحی ہے۔ دونوں علوم کی فہم اور ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ان کو علیحدہ رکھا جائے۔

اسی طرح کے حالات کی مثال کہیں اور بھی پائی جاتی ہے۔ عرب ممالک میں سب سے زیادہ سیاسی و سماجی شعور و فعالیت activism سوڈان کے طلبا میں تھی۔ جب وہاں ایک فوجی نے مارشل لا نافذ کر کے حکومت سنبھالی تو طلبا کے ایک جہادی گروہ پر لگی ہوئی پابندیاں اٹھا لیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کو اپنی فکر کا پرچار کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طلبا کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا اور ان کی فعالیت ختم کر کے اسی گروہ کی حمایت سے نئے صدر صاحب نے وہاں تیس سال حکومت کی جس کے دوران وہ ملک کے ایک حصے سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک دوسرے حصے میں سیاہ فام باشندوں کے خلاف خانہ جنگی کی گئی اور بے شمار جنگی جرائم کیے گئے۔

اب ہمیں ایک اچھی مثال بھی دیکھ لینی چاہیے۔ یہ مثال بھارت کے ترقی پسند صوبے مغربی بنگال کی ہے۔ وہاں کے قائدین نے جب دیکھا کہ مدرسوں سے سند لئے ہوئے طلبا دنیاوی اور تکنیکی صلاحیتوں سے محروم ہیں اور معاشرے میں ان کی کھپت نہیں ہے تو انہوں نے مدرسوں کو اسکولوں میں بدل دیا اور ان کے نصاب کو بورڈ کے نصاب سے تبدیل کر دیا گیا۔ البتہ اس نصاب کے علاوہ کچھ مذہبی کورسز پڑھانے کی اجازت بھی دے دی گئی۔ یہ اصلاحات صرف کورسز تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان خصوصی اسکولوں میں طلبا کے داخلے مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوتے اور اساتذہ کے تقرر میں بھی مذہب کو پیمانہ نہیں بنایا جاتا ہے۔ اس طرح مسلمان طلبا کو غیر مسلموں سے گھلنے ملنے کا موقعہ ملتا ہے اور ان کے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے بارے میں خدشات دور ہوتے ہیں۔

یہ دلچسپ بات دیکھنے میں آئی ہے ان غیر مسلم طلبا کے والدین کو اس بات پر پریشانی نہیں ہے کہ ان کے بچوں کو اسلامی کورسز بھی لینے پڑتے ہیں۔ اس طرح مغربی بنگال کی انتظامیہ نے مدرسوں کو خصوصی اسکولوں میں بدل کر ان کے فارغ التحصیل طلبا کو اس لائق بنا دیا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو معاشرے میں وہی حصول روزگار اور اعلی تعلیم کے مواقع مہیا ہوں جو سیکولر اسکولوں سے سند یافتہ طلبا کو حاصل ہیں۔

مگر ہماری جامعات پر نافذ کیے ہوئے زمینی پہرے، زبان پر پہرے، سوچ پر پہرے! کیا ہم اپنی جامعات کو مدرسوں میں تبدیل کر رہے ہیں؟ طلبا کے شعور کی نشو و نما کے لئے ایسا ممکن نہیں ہے کہ کیمیا اور ریاضیات کے مضامین میں تو آزادیٔ فکر اور آزادیٔ اظہار کی اجازت دی جائے اور معاشیات، سماجیات اور فنون لطیفہ کی تعلیم کو روایتی سمجھ بوجھ تک ہی محدود کر دیا جائے۔ ایک تعلیمی ادارے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے تمام تدریسی شعبہ جات میں اساتذہ اور طلبا بے خوف و خطر کھلے ذہنوں اور تنقیدی نظروں کے ساتھ سوچ سکیں، بول سکیں، لکھ سکیں اور علم کی جستجو، تدریس، تحقیق و اشاعت کو مذہب و روایت کی عینک کے بجائے دلائل و حقائق کی بنیاد پر کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •