انڈیا: پانچ ہزار روپے کے لیے مزدور کو زندہ جلا دینا کیا جبری مزدوری کا معاملہ ہے؟

شورہ نیازی - بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع گونا میں ایک مزدور کو گذشتہ جمعے کو مبینہ طور پر محض پانچ ہزار روپے قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے مٹی کا تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا گیا۔

مقامی این جی اوز کے لوگ اسے بانڈڈ لیبر (جبری مزدوری) کا معاملہ قرار دے رہے ہیں تاہم حکومت کے مطابق یہ قرض لینے کا معاملہ ہے۔

اس واقعے پر مدھیہ پردیش میں سیاست تیز ہو گئی ہے اور وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اس مزدور کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ہر ممکنہ امداد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین برادری جہاں جسم فروشی ایک روایت ہے

انڈیا میں قبائلیوں کا بدلتا طرِزِ زندگی

پہاڑ کاٹ کر اپنے گاؤں میں پانی لانے والی لڑکی ببیتا کی کہانی

جبکہ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

‘مزدوری مانگنے پر مٹی کا تیل ڈالا

یہ واقعہ جمعہ کی رات ضلع گونا کی تحصیل باموری کے چھوٹے سے گاؤں اکھاواد خورد میں پیش آیا۔

بندھوا مکتی مورچہ (یعنی مزدوری کی غلامی سے نجات کے لیے کام کرنے والی تنظیم) گونا کے ضلعی کنوینر نریندر بھدوریا نے کہا ہے کہ 26 سالہ وجے سہاریا گذشتہ 3 سالوں سے رادھے شیام لودھا کے کھیت میں مزدور کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ دونوں ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے۔

نریندر بھدوریا نے کہا: ‘وجے سے مسلسل کام کروایا جاتا تھا۔ اس نے اس رات رادھے شیام سے کہا تھا کہ وہ کہیں اور مزدوری کر کے ان کا قرض ادا کر دے گا۔ اس کے بعد وجے نے شیام سے اپنی مزدوری طلب کی جو کہ اس بات سے سخت ناراض ہوا، اور اس نے مٹی کا تیل ڈال کر وجے کو آگ لگا دی۔’

دوسرے دن سات نومبر کو وجے سہاریا نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس سے اگلے دن پولیس نے رادھے شیام کو گرفتار کر لیا۔

لیکن آگ لگانے کے بعد وجے کا ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے اور کیسے رادھے شیام نے مٹی کا تیل ڈال کر انھیں آگ لگا دی۔

وجے اپنے والدین، چھوٹے بھائی، بیوی رام سکھی اور دو بچوں کے ساتھ گاؤں میں رہتے تھے۔ وجے کے والد کلو رام نے بتایا کہ ان کے بیٹے وجے نے پانچ ہزارروپے قرض لیے تھے۔

کلورام نے کہا: ’تین سال کام کرنے کے بعد بھی نہ تو کوئی قرض کم ہوا اور نہ ہی انھیں کوئی رقم ملی۔ اسی وجہ سے انھوں نے کچھ دن کام پر جانا چھوڑ دیا تھا۔

‘اس دن رادھے شیام نے انھیں بلایا اور پھر اس پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا دی۔’

پولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش کمار سنگھ کے مطابق پولیس سے ‘فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ کو مالی امداد بھی فراہم کی گئی ہے۔’

دوسری جانب گونا کے ضلع کلکٹر کمار پروشوتم کا کہنا ہے کہ ‘مقتول نے ملزم سے قرض لیا تھا اور اسی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے۔’

تاہم انتظامیہ نے اب فیصلہ کیا ہے کہ وہ سہریا برادری سے وابستہ افراد کی معاشی حیثیت کا ڈیٹا تیار کرے گی تاکہ انھیں مدد فراہم کی جا سکے۔

انتہائی پسماندہ قبائل میں سے ایک سہریا قبیلہ

سہریا قبیلہ ریاست کا ایک انتہائی پسماندہ قبیلہ ہے۔ ہمیشہ انتخابات سے قبل حکومت اور سیاسی جماعتیں اس برادری سے طرح طرح کے وعدے کرتی ہیں لیکن ان کی صورتحال میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔

مدھیہ پردیش کا ضلع گونا بانڈڈ لیبر کے لیے جانا جاتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں ایسے بہت سے واقعات پیش آئے جب مزدوروں کو بانڈڈ لیبر سے نکالا گیا ہے۔

نریندر بھدوریا نے الزام لگایا کہ ‘اس علاقے پر طاقتور لوگوں کا راج ہے اور وہ قبائلیوں اور سہریا برادری کے لوگوں کے ساتھ زور زبردستی کرتے ہیں اور سیاسی وجوہات سے ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔’

بندھوا مکتی مورچہ نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آزادی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے تاکہ وجے کے اہل خانہ کو وہ تمام سہولیات اور معاوضہ ملے جو ایک پابند مزدور کو ملتا ہے۔

سنہ 1976 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بانڈڈ لیبر سسٹم کے خاتمے کے لیے ایک قانون بنایا تھا جس کے تحت پابند مزدوری سے آزاد کرائے جانے والے افراد کی رہائش اور بحالی کی بات کی گئی تھی۔

کانگریس نے ملزم کو بچانے کا الزام لگایا

وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ ‘حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ متاثر خاندان اور مرنے والے وجے کی اہلیہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اگر کنبہ وجے کی اہلیہ کو سرکاری ملازمت میں جانے دینا چاہتا ہے تو اسے ملازمت دی جائے گی، ان کا ایک نیا مکان بھی تعمیر کرایا جائے گا۔’

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ابھی قانون کے تحت سوا آٹھ لاکھ روپے کی نصف رقم دی گئی ہے اور باقی نصف بھی دی جائے گی۔

شیوراج سنگھ چوہان نے کہا: ‘سمبل یوجنا کے تحت وجے کی اہلیہ کو چار لاکھ روپے دیے جائیں گے، ساتھ ہی دونوں بچوں کی تعلیم کا بھی بندوبست کیا جائے گا۔’

حکومت نے اس کنبے کے لیے چھ ماہ تک کے اخراجات کا انتظام بھی کیا ہے۔ جبکہ حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ شیوراج حکومت نے دبنگ ملزموں کو بچانا شروع کر دیا ہے۔

کانگریس میڈیا کوآرڈینیٹر نریندر سلوجا نے کہا: ‘بی جے پی حکومت کے پچھلے 15 سالوں کی بات کریں یا موجودہ سات ماہ کی، اس دوران غریبوں، دلتوں، قبائلیوں پر ظلم و ستم کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انھیں کس طرح قرض کے دلدل میں پھنسا کر ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ بھی اس کی براہ راست مثال ہے۔’

نریندر بھدوریا کا الزام ہے کہ ’ضلع گونا میں بڑی تعداد میں پابند مزدور کام کر رہے ہیں، لیکن انتظامیہ یہاں ایک بھی ایسا مزدور نہ ہونے کی بات کر رہی ہے۔ لہذا آزاد ہونے کے بعد بھی، ان لوگوں کو مدد نہیں مل پاتی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16595 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp