ملائیشیا: ملازمت سے برطرف پائلٹ نوڈلز فروخت کرنے لگا، راتوں رات مقبول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملائیشیا کے ایک سابق پائلٹ آذرن محمد زواوی ان دنوں خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت اُن کی وجۂ شہرت وہ اسٹال ہے جہاں وہ پائلٹ کی وردی میں ملبوس نوڈلز فروخت کرتے ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث دنیا کی مختلف ایئرلائنز کی طرح ملائیشیا کی ایئرلائن نے بھی کئی ملازمین کو نوکری سے فارغ کیا تو پائلٹ آذرن بھی اس کی زد میں آنے والوں میں شامل تھے۔

ملازمت سے برطرفی کے بعد انہوں نے نوڈلز فروخت کرنا شروع کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے مشہور ہوتے چلے گئے۔

چوالیس سالہ آزرن پہلے کی طرح اب بھی روز صبح اپنا سفید یونیفارم اور پائلٹ کی ہیٹ پہن کرمنہ پر ماسک لگائے گھر سے نکلتے ہیں۔ لیکن اب اُن کا ٹھکانہ طیارے کا کاک پٹ نہیں بلکہ کھانے کا اسٹال ہوتا ہے۔

آذرن نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو انٹرویو میں بتایا کہ فضائی کمپنی نے اُن کی ملازمت ختم کی تو ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

اُن کے بقول “میرے چار بچے ہیں اور کوئی ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے میں نے کھانے پینے کا بزنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔”

آذرن کہتے ہیں کہ انہوں نے حالات کا چیلنج قبول کیا اور ہار نہیں مانی کیوں کہ کھانے کا اسٹال چلانا بھی طیارہ اڑانے جیسا ہی ہے۔ کیوں کہ ہمیں ہمیشہ آگے دیکھنا اور بڑھنا چاہیے۔

آذرن کے بقول، “امید ہے مجھے دیکھ کر اُن تمام لوگوں کو حوصلہ ملے گا جو کرونا کے باعث اپنا روزگار کھو چکے ہیں۔”

آذرن نے اپنے کام کی ابتدا ملائیشیا کی روایتی ڈشز جیسے کری نوڈلز، لاکسا اور مکسڈ فروٹ سے بنی ڈش روجک کے اسٹال سے کی تھی۔

آذرن کی سرخ ایپرن کے ساتھ پائلٹ کے یونیفارم میں ملبوس تصویر ان کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور اس کا فائدہ اُن کے کاروبار کو بھی ہوا۔

آذرن کا اسٹال اب ‘کیپٹنز کارنر’ کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جو کسٹمرز کی پسندیدہ جگہ بن چکی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف پبلسٹی کے لیے نہیں۔

آذرن کے ایک کسٹمر ازمان یونس کا کہنا ہے کہ کھانے کا اچھا ہونا ضروری ہے۔ میں دو دفعہ یہاں سے کھانا کھا چکا ہوں۔ پہلی دفعہ بیوی کے ساتھ آیا تھا اور دوسری دفعہ دوستوں کے ہمراہ۔

ایک اور کسٹمر سید خادزیل کے مطابق آذرن کا بزنس کرنے کا انداز بالکل مختلف ہے۔ ان کے یونیفارم میں ملبوس ہونا لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 426 posts and counting.See all posts by voa