ایمبولینس کو رستہ دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں کالج میں سکینڈ ائر کا طالبعلم تھا اور اپنے کالج میں موجود طلبا تنظیموں کو کسی خاطر میں نہ لاتا تھا اور ان کے خلاف ہی تقریریں جھاڑا کرتا تھا، طلبا تنظیموں سے متنفر بہت سے طلبا میرے ہم خیال ہوئے اور میرے گروپ کا حصہ بنتے چلے گئے جس نے مجھے ایک دوام بخشا اور مجھے گروپ لیڈر کا درجہ دے دیا گیا، گروپ میں مجھ سمیت شاہد، امین، عمران، عظمت اور فاروق شامل تھے اب کالج میں کسی بھی قسم کی تقریب ہوتی، میچ ہوتا، بائیکاٹ کرنا یا مقابلہ ہوتا، پہل ہمارے گروپ کے کسی نہ کسی رکن کی جانب سے ہوتی تھی۔

یہ وہ دور تھاجب کالجز میں کو ایجوکیشن کی روایات کو ابھی رائج کرنے کا مرحلہ شروع ہی کیا گیا تھا ہماری کلاس میں بھی چند ایک طالبات موجود تھیں جنہیں ایمپریس کرنے کے چکروں میں ہم سے اوٹ پٹانگ حرکات بھی سرزد ہو جایا کرتی تھیں۔

ایسی ہی ایک حرکت ہم نے یہ کی کہ کالج میں برسوں سے قائم پرانی روایات کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا اور سکول طرز پر اسمبلی کرانے کی روایت قائم کی جس میں پہل کرتے ہوئے قومی ترانہ بھی خود پڑھا، اساتذہ بھی ہمارے ڈسپلن کو دیکھتے ہوئے خوش ہوئے اور اسمبلی کی روایت کو مزید پختہ کرنے کے لیے روزانہ ہی اس کا باقاعدگی سے اہتمام کیا جانے لگا، پہلے ایک قطار تو پھر قطار در قطار نے طلبا کو اسمبلی میں کھینچ لیا۔

پھر اسی اسمبلی میں مشہور ومعروف دعا بھی کہی جانے لگی جس کی ابتدابھی میں نے ہی کی اور ”لب پہ آتی ہے دعا بن کر تمنا میری“ کا آغاز کر دیا، کالج کا نام اس لیے بتانا نہیں چاہتا کہ بہت سے دوستوں کو شاید برا لگے کہ ان کی پرسنل کالج لائف کو ڈسکس کیا گیا لہذا اس سٹوری میں تمام کردار وں کے نام اگر کہیں استعمال ہوئے تو فرضی تصور ہوں گے ۔ ہمارے گروپ کے ارکان زیادہ تر اپنی سائیکل یا موٹرسائیکل پر آتے تھے اور کبھی کبھار انجوائے کرنے کو دل کرتا تو پہلے سے پلان تیارکر کے بس میں سفر کو ترجیح دی جاتی اور اس پر سختی سے عملدرآمد بھی کیاجاتا اس طرح ہم آؤٹنگ کے مزے اڑاتے تھے، کبھی کبھی چند کلومیٹر دور ہی بس سے اترجاتے اور شارٹ کٹ کے ذریعے کالج پہنچتے اور یہی روٹین واپسی کی بھی ہوتی تھی۔

ایسے ہی ایک دن جب کالج سے چھٹی ہوئی تو میں اپنے دوستوں کے ساتھ چارموٹرسائیکلوں پر واپسی کے لیے روانہ ہوا اور ایک دوسرے سے باتیں کرنے کے چکر میں بالکل برابر موٹرسائیکلیں لگالیں جس کی وجہ سے ہمارے پیچھے آنے والے موٹرسائیکل، کاریں، گاڑیاں اور حتیٰ کہ سائیکلیں بھی راستہ نہ ملنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔ کالج دورمیں انسان کسی بھی بات پر غور نہیں کرتا اسے صرف اس بات پر فخر محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ وہ کالج کا سٹوڈنٹ ہے جو ہر قسم کی پابندیوں سے ماورا ہے چاہے وہ والدین کا حکم ہو، اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ ہو، قانون شکنی ہو، راہ چلتے افراد سے شرارتیں، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ، آوازیں کسنا، لڑائی جھگڑے، طلبا تنظیموں میں بڑھ چڑھ کر تقاریر کرنا، کالج میں کسی بھی بات پر بگڑ کر ہنگامہ آرائی اور پھر بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج کو چھٹی کرا دینا، بسوں پر سوار ہوتے وقت ڈرائیور یا کنڈیکٹر، کلینر کو دو چار جڑ دینا، یا کسی کو بھی اذیت بھری پریشانی میں مبتلا کرنا ان سب باتوں سے کالج سٹوڈنٹ کو کوئی غرض نہیں ہوتی اور ایسے ہی خیالات، جذبات واحساسات سے بھرے ہوئے ہم کالج سے واپس گھروں کو روانہ ہوتے تھے۔

اس روز بھی ہم تقریباً تمام دوست ہی ایکد وسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں اس قدر مصروف تھے کہ ہمیں اپنے پیچھے چیختی چنگھاڑتی گاڑیوں اور ایمبولینس سائرن کی آواز ہی سنائی نہ دی اور ہمارے پیچھے آنے والی گاڑیاں اس ایمبولینس کو ہزار ہا کوشش کے باوجود بھی راستہ نہ دے سکیں، ہمارے پیچھے گاڑیوں کا ازدحام تھا جو ہارن پر ہاتھ رکھے ہمیں چیخ چیخ کر راستہ دینے کی استدعا کر رہا تھا اور ہم کبھی آگے کبھی پیچھے ہو کر چند ایک گاڑیوں، موٹرسائیکلوں یا سائیکلوں کو راستہ دے کر ان پر احسان عظیم کرتے جا رہے تھے، اتنے میں ہم آپس میں چھیڑچھاڑ اور ایک دوسرے سے ہنسی مذاق میں توازن برقرار نہ رکھ سکے جس کی وجہ سے ہماری موٹرسائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں جس کی وجہ سے سڑک پر مزید ٹریفک بلاک ہو گیا اور ایمبولینس جس کا سائرن راستہ مانگنے کے لیے مسلسل چیخ رہا تھا ٹریفک میں پھنسی نظرآئی۔

موٹرسائیکلیں ٹکرانے سے ہمیں چھوٹی موٹی معمولی چوٹیں بھی آئیں مگر ہم نے ان چوٹوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی موٹرسائیکلیں سیدھی کیں اور پھر اپنے سفر کی جانب روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دورجاکر سب اپنے اپنے گھروں کی جانب راستے بدل کر روانہ ہوئے تو سڑک پر ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی اور ایمبولینس اسی زور وشور سے چیختی ہوئی ہمارے قریب سے گزرتی چلی گئی جس میں سوار دو خواتین اور ایک مرد کو زار و قطار روتے دیکھا مگر ہمیں اس وقت بھی اس بات کا قطعاً احساس پیدا نہ ہوسکا کہ ٹریفک بلاک کی باعث اس دوران ان پر کیا بیتی ہو گی، قصہ مختصر ہم تمام دوست اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو ایمبولینس کے ساتھ ساتھ دیگر گاڑی والوں نے بھی سکھ کا سانس لیا اور کچھ تو ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے ہمیں برا بھلا کہتے ہوئے جا رہے تھے مگر ہم نے کسی کی بات کا براماننے کی بجائے ہنسی میں بات ٹال دی بلکہ انہیں مزید چھیڑنے لگے اور اس طرح ہم دنیا جہان کے مسائل سے بے خبر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

گھر سے کالج اور کالج سے گھر آنے جانے کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ ایک روز ہمیں اچانک یہ اطلاع ملی کہ ہمارے جگری دوست اور گروپ کے سکینڈ لیڈر امین کو بجلی سے شدید کرنٹ لگا ہے اور وہ بری طرح جھلس کر شدید زخمی ہے جسے ہسپتال منتقل کیاجانے لگا ہے اور پھر کیا تھا ہم نے کالج جانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے امین کے گھر کی جانب دوڑیں لگا دیں وہاں پہنچے تو امین بے ہوشی کی حالت میں پڑا تھا اور ایمبولینس کا انتظار کیا جا رہا تھا، اسی اثنا ایمبولینس وہاں پہنچی تو امین کو اسٹریچر کے ذریعے ایمبولینس میں سوار کیا اور خود بھی ایک دوست اور امین کے بڑے بھائی کے ساتھ ایمبولینس میں سوار ہو گئے، اب ایمبولینس ڈسٹرکٹ ہسپتال کی جانب روانہ تھی ڈرائیور نے جلدی پہنچنے کی خاطر سائرن آن کر رکھا تھا، گلی کوچوں سے نکل کر جوں ہی ہم مین شاہراہ پر کچھ دور ہی پہنچے تھے کہ طلبا تنظیموں کی جانب سے کوئی ہڑتالی ریلی نکالی جا رہی تھی، ریلی میں شریک طلبا کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور وہ مشتعل انداز میں کسی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑک کے بیچوں بیچ چلتے جا رہے تھے، ان کے پیچھے گاڑیوں کی لمبی لائنیں تھیں اسی دوران ایک گاڑی والے نے ہمت کر کے مشتعل طلبا سے راستہ مانگاتو بس پھر کیا تھا گاڑی پر ڈنڈے اور سوٹوں کی برسات ہو گئی اور گاڑی والے کو بھی دوچار ہاتھ جڑ دیے گئے، گاڑی کے شیشے توڑ دیے گئے۔

جسے دیکھتے ہوئے کسی دوسرے نے ہمت ہی نہ کی بلکہ گاڑیاں کھڑی کر کے مظاہرین کو جانے کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ اب کیا تھا ہم ایمبولینس میں سوار مجبور بیٹھے تھے کہ طلبا کا مظاہرہ یا ریلی کہیں سائیڈ پر ہو تو انہیں ہسپتال جانے کا راستہ مل سکے۔ اس دوران مجھے یہ خیال بھی آیا کہ میں خود نیچے اتر کر جاؤں اور طلبا سے درخواست کروں کہ ہمارا ایک بہت ہی پیارادوست زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے جسے ہسپتال وقت پر نہ پہنچایاگیا تو شاید وہ ہم سے جدا ہو جائے، یہی سوچ کر میں نیچے اترا اور مشتعل طلبا کی جانب روانہ ہواہی تھا کہ ایمبولینس سے امین کے بھائی نے آواز دے کر واپس بلایا اور کہا کہ ابھی ایک تو ایمبولینس میں پڑا ہے تمہارے ساتھ بھی کچھ ہو گیا تو کیا جواب دیں گے لہذا یہیں بیٹھ کر انتظار کرو ابھی راستہ کھل جائے گا اور ہم ہسپتال پہنچ جائیں گے مگر آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا راستہ نہ کھل سکا۔

اب ہماری ایمبولینس نہ آگے جا سکتی تھی نہ ہی پیچھے جانے کا راستہ بچا تھا، مجبور اور محصور بے کسی کے عالم میں احتجاج کرنے والے طلبا کو برابھلا کہنا شروع کر دیا، غصہ اس قدر شدید اور برداشت سے باہر تھا کہ کچھ بن نہ پا رہا تھا مگر بے بسی کی تصویر بننے پر مجبور تھے۔ خدا خدا کر کے راستہ ملا تو ایمبولینس پھر چیختی چنگھاڑتی روانہ ہوئی اور ہسپتال پہنچے مگر بہت دیر ہو چکی تھی ڈاکٹروں نے امین کو دیکھا اور اچھی طرح چیک کیا ساتھ ہی کہہ دیا کہ آپ کو تاخیر ہو چکی ہے مریض اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ہے، یہ سننا تھا کہ ہماری چیخیں نکل گئیں اور ہم ڈاکٹر کی بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے، ہم نے اسے چیخ چیخ کر کہا کہ نہیں ڈاکٹر صاحب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اسے اچھی طرح چیک کریں یہ ٹھیک ہو جائے گا مگر ہماری کسی نے نہ سنی اور امین کو جس طرح ایمبولینس میں ہسپتال لائے تھے اسی طرح روتے پیٹتے واپس گھر لے گئے اور پھر اپنے پیارے دوست کی نعش سے لپٹ لپٹ کر روتے رہے، امین کی وفات کی خبر کالج میں بھی پہنچی اور دوسرے دوست بھی رنجیدہ ہو گئے، اسی روز امین کا جنازہ پڑھایاگیا جس میں کالج کے اساتذہ اور طلبا کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔

قبرستان تک ہم بوجھل دل اور بھاری قدموں سے پہنچے اور پھر اسے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا تو ایک بارپھر آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی، امین ہم سب میں سے ذہین اور لائق طالبعلم تھا۔ امین کی وفات اور پھر اسے ہسپتال پہنچانے کے تمام واقعات کئی روز تک ہمارے خیالوں اور خوابوں میں بسے رہے۔ کالج آنے جانے کی روٹین معمول پر آئی تو پھر ہمارے روزمرہ کے کام کاج بھی ویسے ہی ہونے لگے مگر اب ہمارے گروپ میں ایک بہت بڑی تبدیلی نے جنم لیا اور وہ یہ کہ ہم جب بھی کالج سے واپس گھر یا گھر سے کالج آتے توکسی بھی مقام پر ٹریفک بلاک کرنے کا موجب بننے سے گریز کر تے اور جب بھی کسی ہڑتال، احتجاجی ریلی اور مظاہرہ میں ایمبولینس کو پھنسا دیکھتے تو ہمیں امین کی یاد شدت سے آنے لگتی اور پھر سوچتے کہ جب ہم ہنگامہ آرائی کر کے سڑک بلاک کرتے ہیں تو اس دوران بھی کوئی نہ کوئی ایمبولینس کہیں نہ کہیں پھنسی نظرآتی ہے اور پھر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اس میں بھی کسی کا کوئی پیارا ہوگا جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوگا، پھر مجھے وہ وقت بھی یاد آتا ہے جب ہم دوستوں کی وجہ سے ایک ایمبولینس ٹریفک میں پھنسی ہوئی چیخ رہی تھی چنگھاڑ رہی تھی مگر ہم اپنی ان حرکتوں پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرتے تھے اور آج جب ہمیں خیال آتا ہے تو ہم شرمندہ ہو کر سرجھکانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔

اب تو صورتحال یہ ہے کہ جب کسی سڑک پر ایمبولینس کی آواز آئے تو میں خود ہی ایک کنارے ہو کر رک جاتاہوں یا پھر موٹرسائیکل، گاڑی آہستہ کر کے ایک طرف کر دیتا ہوں بلکہ دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتا ہوں کہ ایمبولینس کو راستہ دیں اس میں کوئی ہمارا پیارا بھی ہو سکتا ہے۔ ہماری تھوڑی سی توجہ سے کسی کے پیارے کی قیمتی جان بچ سکتی ہے۔

Latest posts by فیاض محمود (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فیاض محمود کی دیگر تحریریں