ہارن کا استعمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہارن کا مقصد دوسروں کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا اور مطلع کرنا ہوتا ہے۔ ہارن کا مقصد ہر گز نہیں ہوتا کہ مد مقابل گاڑی، مسافروں اور گردہ نواح کے نفوس کو شور کی اذیت و خلل بھرے ماحول کے سپرد کر دیا جائے۔ ذرا سی ٹریفک کی بندش یا سست روی میں عموماً ڈرائیور ہارن پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ چونکہ زیادہ تر ڈرائیور ان پڑھ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ نتائج کی سنگینی سے بے نیاز اپنی خاصیت کو کھلے دل سے استعمال کرتے ہیں۔

اچھے طبقے اور ایجوکیٹڈ ڈرائیور حضرات میں ہارن کا استعمال نہایت مختصر دیکھا گیا ہے۔ ہارن کے استعمال کا موثر طریقہ یہی ہے کی حتہ المقدور کوشش کی جائے کہ ہارن کا استعمال نہ کرنا پڑے اگر بقدر ضرورت استعمال کرنا پڑے تو ایک بیپ کافی ہے۔ اسی طرح گلی، محلے میں بھی ہارن کا استعمال کم سے کم کیا جائے تا کہ ارد گرد کے لوگ شوروغل سے متاثر نہ ہوں۔ روڈ کے قریب رہنے والے، دکاندار وغیرہ اس سے کافی پریشان ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کانوں کا بہرہ پن، بلڈپریشر، غصہ، چڑچڑا پن، مختلف نفسیاتی مسائل کم خوابی اور عدم برداشت کا رویہ عام ہونے میں شور کا بھی کردار ہے۔

قوم کے ہر فرد کے لیے لازم ہے کہ اس بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہارن کا استعمال کم سے کم کرے اس حوالے سے اپنی بھر پور کوشش کے ساتھ اس برائی کو معاشرے سے ختم کریں۔ ہارن کا استعمال شوقیہ طور پر نوجوانوں میں پایا جاتا ہے۔ خصوصاً موٹر سائیکل میں پریشر ہارن کے استعمال کا رجحان زیادہ ہے۔ نوجوان چونکہ عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جہاں ان کی تمام حواس بخوبی کام کر رہے ہوتے ہیں اس لیے انہیں ہارن کے غلط استعمال کا احساس نہیں ہوتا۔

یہ ذمہ داری اساتذہ اور والدین کی بنتی ہے کہ اپنی اولاد پر نظر رکھیں اور اس حوالے سے ان کی اصلاح کریں۔ اپنے بچوں کو ہارن کے درست استعمال سے آگاہ کریں اور اس کے غلط استعمال کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ کمزور دل والے مریض ہارن کے غلط استعمال سے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ ہارن کا غلط استعمال کسی کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ جب کسی کو اوور ٹیک کرتے ہوئے پریشر ہارن کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنے حواس کھو سکتا ہے جس سے اس کی گرفت ڈرائیونگ میں کم پڑ نے کے باعث ہلاکتوں کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

اس میں کسی حد تک قصور ہمارا بھی ہوتا ہے۔ ہم ہارن کی بیپ کو خاطر میں نہیں لاتے اور اپنی ہی دھن میں چلے جا رہے ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ڈرائیور کو تیز یا بار بار ہارن بجانا پڑتا ہے۔ بحر حال دونوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اس صورتحال کر کنٹرول کرنے کے لیے مختلف ماہرین کی رائے ہے کہ گاڑیوں میں خوفناک آواز والے ہارن کی بجائے بطخ جیسی آواز والے ہارن نصب کرنے سے اس شور کی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Latest posts by طاہر الحسن، نوشہرو فیروز (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طاہر الحسن، نوشہرو فیروز کی دیگر تحریریں