کھول دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعادت حسن منٹو بھی بڑا عجیب انسان تھا۔ وہ تازہ تازہ جنم لینے والے پاکستان کے معاشرے کی گندگی کو، بنا کسی لگی لپٹی کے، معاشرے کے منہ پر اپنے ہاتھوں سے ملنے لگ پڑا تھا۔ اب بھلا ایک شرابی، رنڈی باز کے منہ سے اور قلم سے گند کے سوا اور کچھ نکل بھی کیسے سکتا تھا؟ جب اس نے اپنے مختصر سے افسانے ”کھول دو“ میں رضاکاروں کے خلاف اپنے گندے قلم سے گند اگلا تھا تو نہ جانے کتنے ایمان والوں اور رضاکاروں کا دل دکھا ہو گا۔

بھلا یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ایک ملک کہ جس کے نام کا ”روحانی“ مطلب ہی ”لا الہ الا اللہ“ اور لفظی مطلب ”پاک لوگوں کی زمین“ ہو، وہاں کے ”مرد مجاہد“ رضاکار بوڑھے ”سراج الدین“ کی جوان سالہ ”سکینہ“ کے ساتھ ”اجتماعی زیادتی“ کرنے کے بعد اسے ریل گاڑی کی پٹری پر مرنے کے لیے پھینک دیں۔ وہ بھی وہ رضاکار کہ جن کی کامیابی کی دعائیں سراج الدین رات دن کر رہا تھا۔ اتنی دعاؤں کے بعد یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ”شیطان مردود“ ان نوجوانوں کو بہکا پھسلا کر سکینہ کا یہ حال کرواتا۔ یقیناً یہ سب منٹو کی ”ذہنی غلاظت“ ہی تھا۔ ورنہ ایسا بھی کبھی ہوتا ہے کہ ڈاکٹر بابو بولیں، ”کھڑکی کھول دو“ اور ادھ مری لاش کے بازو حرکت کریں اور شلوار اتار دیں؟ ”کھول دو“ ، ”ٹھنڈا گوشت“ اور ”کالی شلوار“ جیسے افسانے گندے دماغ کی پیدائش کے سوا کچھ نا تھے۔

پر جو ”کشمور“ میں چار سالہ ننھی سی سکینہ نے شلوار اتار کر قوم کے منہ پر گندگی ملی ہے، اس کا کیا کیا جائے؟ اس کی ماں کی چیخ کو کن الفاظ میں بیان کیا جائے؟ اب تو نہ یہاں کوئی منٹو بچا ہے کہ اپنے گندے ذہن سے اس گندگی کا احوال بیان کر سکے۔ اور نہ ہی کوئی حکمران بچا ہے کہ جس سے پوچھا جائے۔ میرے جیسے کچھ نامراد دو چار دن اس پر شور مچا کر اپنے دل کی تسلی کر لیں گے۔ میڈیا اپنی ریٹنگ چمکا لے گا۔ سیاستدان ایک دوسرے کو اس گندگی کا تانا دیں گے۔ کہیں سے آواز اٹھے گی کہ اس شخص کو پتھر مار مار کے مار ڈالو جس نے یہ کیا۔ کوئی صدا بلند کرے گا بیچ چوراہے میں پھانسی دو۔ ہاں، جو صدا نہیں آئے گی وہ منٹو کی صدا ہے۔

خبر، آہستہ، آہستہ پرانی ہو جائے گی۔ میڈیا کو کوئی اور چٹکلا مل جائے گا۔ قوم کے منہ پر لگی گندگی سے مسلسل آنے والی بدبو دماغ کی سونگھنے کی حس مار دے گی اور سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جائیں گے۔ کوئی نہیں بولے گا کہ ہمارے منہ پر گندگی جمی ہوئی ہے۔ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا۔ اور ہم اگلی سکینہ کی ادھ مری لاش کا انتظار کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •