کچھ ٹیگور، اقبال اور نوبیل انعام کے بارے میں


ایک انتہائی خوشحال، برہمن گھرانے میں پیدا ہونے والے رابندر ناتھ ٹھاکر کی مغرب میں شہرت ایک بے حد دل چسپ معاملہ ہے۔ ٹیگور نے لندن کے دو سفر کیے۔ ایک سترہ برس کی عمر میں اور دوسرا جب وہ اکیاون برس کے تھے۔ جب وہ نوجوان تھے، بیرسٹری کی تعلیم کے لیے لندن گئے۔ ایک سال بعد واپس آ گئے۔ بیرسٹری پر دو حرف بھیجے اور لندن کے موسم کو ذمے دار ٹھہرایا۔ واپس آ کر لکھنے کو اپنا کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ شاعری لکھی، افسانے لکھے، ناول، ڈرامے لکھے۔ اکیاون برس کی عمر تک وہ بنگالی زبان کے ایک ممتاز شاعر و ادیب کے طور پر شہرت حاصل کر چکے تھے، مگر شہرت کا دائرہ فقط بنگالی زبان تک محدود تھا۔ وہ برہمن تھے، مگر عام بول چال کی بنگالی میں لکھا۔ بنگالیوں میں عزت و احترام حاصل کرنے کے لیے یہ کافی تھا۔ ہندوستا ن کے ذات پات کے بندھنوں میں اسیر سماج میں، ایک ٹھاکر، ایک برہمن، عام آدمی کی بھاشا استعمال کرے، اور اس میں ایسی کیفیات ظاہر کرے، جو ذرے کی طرح حقیر ہستی کو ماوراسے وابستہ کرتی ہوں، اور جس میں مقامی موسیقی سے لے کر مقامی صبح شام، مقامی منظر ہوں تو ایسی شاعری سنتے ہی عام آدمی بچھ بچھ نہ جائے تو کیا کرے__

ٹیگور نے لندن کا دوسرا سفر اپنے بیٹے کے ہمراہ کیا۔ لمبا بحری سفر، کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔ ٹیگور نے بطور شاعر ”کچھ نہ کچھ“ کر دکھانے کا تہیہ کیا۔ اندر کہیں پہلے سفر کی ناکامی کا کوئی داغ ضرور تھا، اپنی ہی نظموں کے انگریزی ترجمے شروع کیے، لندن پہنچے تو نوٹ بک پر کافی تعداد میں نظمیں واجبی سی انگریزی میں منتقل ہو چکی تھیں۔ ایک چھوٹا سا حادثہ ہوا۔ اگر اس حادثے کے بعد واقعات، کچھ دوسری طرح رونما ہوتے تو ٹیگور کو نوبل پر ائز ملتا، نہ مغرب میں غیر معمولی شہرت ملتی۔ سامانِ سفرسمیٹنے کی جلدی میں، اس کا بیٹا وہ بریف کیس اٹھانا بھول گیا، جس میں وہ نوٹ بک بھی تھی۔ اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ٹھاکر رابندرناتھ پر کیا گزری ہوگی! اگر کوئی نیک آدمی ان تک وہ بریف کیس نہ پہنچاتا تو انڈیا ایسوسی ایشن کے روز نتھائن اس شام کا اہتمام نہ کر سکتے، جس میں ٹیگور نے پہلی دفعہ اپنی نظموں کے انگریزی تراجم سنائے۔ یہ اتفاق تھا یا کہ سوچا سمجھا پروگرام کہ روزنتھائن نے اس شام ڈبلیوبی ییٹس اور ایذرا پاﺅنڈ کو بھی مدعو کیا تھا۔ یہ 1912ءکی بہار کے دن تھے۔ ییٹس اور پاؤنڈدونوں ٹیگور کی نظموں سے بے حد متاثر ہوئے۔ ییٹس اورٹامس سٹرج مُور( جو لندن کی رائل سوسائٹی آف لٹریچر کے رکن تھے) نے ٹیگور کی نظموں کی زبان کی اصلاح پر خاصا کام کیا۔ ییٹس اور پاﺅنڈ نے سریت و مقامیت و غنائیت میں ڈوبی نظموں سے جو انوکھی مسرت محسوس کی، اس میں باقی مغربی دنیا کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاﺅنڈ نے امریکا میں اورپیٹس نے یورپ میں ٹیگور کی ’ساحرانہ شاعری‘ کو پھیلانے کے لیے کوشش شروع کیں۔ پاؤنڈنے امریکی رسالے Poetry میں گیتان جلی کی کئی نظمیں شایع کروائیں اور ییٹس نے ان نظموں کا تعارف لکھا، جنھیں روز نتھائن نے جولائی 1912ء میں خود چھاپ دیا۔ یہ سب چند مہینوں میں ہوا۔ لندن میں ٹیگور کو بے حد پذیرائی ملی۔ اگلے برس میکملن نے گیتان جلی شائع کی اور ایک ہی برس میں اس کے بیس ایڈیشن نکلے۔ اور اسی برس ٹیگور کو نوبل انعام مل گیا۔ وہ آیا اوراس نے فتح کر لیا۔ اس کلیشے کا اگر صحیح اطلاق ہو سکتا ہے تو ٹیگور پر۔ ایک برس میں شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچنا، جس کے آگے کوئی اور منزل نہ ہو؛ادب کی تاریخ کایہ ایک معجزہ تھا، اور ایک المیے کی ابتدا بھی۔ ٹیگورکی نظموں کے انگریزی تراجم نے اسے مغرب ہی میں نہیں، ہندوستان جیسے کثیر لسانی ملک میں بھی شہرت دلائی۔ کس طرح ایک کولونیل ایمپائر اپنی زبان کو جادوئی صلاحیت سے ہمکنار کرتی ہے، یہ اب راز نہیں ہے۔ اس میں کچھ کلام نہیں کہ ٹیگور کی شاعری میں کچھ بنگال کا جادو تھا، اور کچھ انگریزی کا جادو، اور کچھ نوبیل انعام کا سحر کہ وہ ہندوستان بھر میں محض ایک آدھ سال میں شہرت کی بلندیوں کو پہنچ گیا۔ نیاز فتح پوری نے1914ء میں گیتان جلی کااردو ترجمہ، انگریزی سے کیا، اور اردو کی رومانوی تحریک (جس کے بعض ابتدائی نمونے سر عبدالقادر کے مخز ن میں نظر آنے لگے) پر گیتان جلی کا اثر پڑا ۔

گیتان جلی کی نظموں کی یورپی دنیا میں مقبولیت کا بڑا باعث یہ تھا کہ ان نظموں میں فطرت سے متعلق اس رویے کا اظہار ہوا تھا، جو جدید صنعتی یورپ کے لیے ایک نئی، خواب آگیں سریت اور جنت گم شدہ کی طرف لوٹنے کی کیفیت پیدا کرتا تھا۔ ’جدید صنعتی یورپ‘ فطرت کو تسخیر کرنے، اسے مسخ کرنے اور اس سے اجنبیت اختیار کرنے کا عادی ہو چلا تھا، مگر گیتان جلی کی نظموں میں ایک روحانی اور رومانی فضا تھی، ایک ماورائی ہستی سے کلام کرنے کی صوفیانہ کیفیت تھی، ایک سادہ اخلاقی دنیا تھی، ایک حسی غنائیت تھی۔ نہ تو گہرا سنجیدہ فلسفہ تھا نہ فطرت پر حاکم ہونے کا خواب تھا؛ فطرت کے ساتھ، فطرت کے اندر، اس کی ماورائی جہت کے ساتھ جینے کا نیم اساطیری رویہ تھا۔ اسی بات کو ایذرا پاؤنڈ نے بہ طور خاص محسوس کیا تھا اور ٹیگور کو مغربی دنیا میں مقبول بنانے کی ایک تحریک شروع کی تھی، یہ الگ بات ہے کہ اگلے پانچ برس میں وہ ٹیگور کا سخت نقاد بن چکا تھا۔ وہ بعد میں کسی حد تک ٹیگور کی شاعری کے اسلوب کا قائل رہا، مگر اس کے تصورات و خیالات پر شدید نکتہ چینی کرنے لگا تھا۔ عجیب بات ہے کہ ایذرا پاؤنڈ کے بعد کے خیالات نے ٹیگور کی اس شہرت کو، کم ازکم اگلی دودہائیوں میں، کوئی نقصان نہیں پہنچایا، جو پاؤنڈ کی ابتدائی کوششوں سے یورپ میں قائم ہو چکی تھی۔ پاؤنڈ نے بعد میں یہ تک لکھا کہ ٹیگور کو نوبیل انعام ملنا ایک سازش تھی۔ سویڈن والے ہنری جیمز یا ایک اور مغربی ادیب میں سے کسی ایک کو دینا چاہتے تھے۔ وہ اس بات پر تقسیم تھے، ٹیگور نے اس میدان میں داخل ہو کر ان کا جھگڑا ہی ختم کر دیا، خود میدان مار لیا۔ (اس برس اٹھائیس کے قریب نامزدگیاں تھیں) پاؤنڈکی اس رائے میں اس کی اپنی ناکامیاں بھی ہو سکتی ہیں کہ اسے وہ شہرت نہ ملی جو وہ چاہتا تھا اور جو اس کے معاصرین کو ملی، اس کے دوست اور اس سے مشورہ سخن کرنے والے ایلیٹ کو ملی، حتیٰ کہ ٹیگور کے حصے آئی۔ لیکن حقیقت حال کچھ اور ہے۔

بہ ہر کیف، فی زمانہ ٹیگور مغرب میں ایک عالمی ادیب کے طور پر نہیں، ایک بنگالی، ہندوستانی، مشرقی شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے، اور وہ بھی زیادہ تر جنوبی ایشیائی یا دولت مشترکہ کے ادبی مطالعات کے شعبوں میں۔

اردو میں ٹیگور کے نوبل پرائز کا ذکر جب بھی آتا ہے تو درمیان میں علامہ اقبال کا ذکر بھی لایا جاتا ہے۔ کئی اسباب سے، مگر ایک اہم سبب یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں ابھی تک نوبیل انعام کا تمغہ ٹیگور ہی کے پاس ہے۔ اقبال اور ٹیگورہم عصر تھے۔ دونوں نے استعماری غلبے کے سیاق میں قوم کی روح کودریافت کیا اور لکھا، یہ الگ بات کہ دونوں کے قوم کے تصورات میں فرق تھا۔ ظلم یہ ہوا کہ عارف بٹالوی جیسے مصنفوں نے اس فرق کا احترام کرنے کے بجائے، اور اسے برصغیری تخیل کی تنوع پسندی و زرخیزی پر محمول کرنے کے بجائے، اسے دونوں میں تقابل و تردید کا ذریعہ بنایا، اور ٹیگور کو جتنا لتاڑ سکتے لتاڑا۔ چناں چہ اردو کے عام قاری کے دل میں یہ کانٹا ابھی تک چبھن پیدا کرتا ہے کہ آخر اقبال کو نوبیل انعام کیوں نہ ملا، جب کہ ٹیگو ر کو مل گیا تھا۔ ڈاکٹر خالد سنجرانی نے اقبال کو نوبیل انعام نہ ملنے کی گتھی سلجھانے کے لیے سویڈش اکیڈمی کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کی، اور اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ اس انعام کے لیے اقبال کی نامزدگی کبھی ہوئی ہی نہیں۔ نہ ٹیگور کے ساتھ، اور نہ اس کے بعد۔ اس سے اقبال ہی کو نہیں، کسی بھی ممتاز ادیب کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔

اقبال اور ٹیگور کا تقابل ایک مستقل موضوع ہے، جس پر باقاعدہ کتب لکھی گئی ہیں۔ اقبال کا عام قاری، نوبیل انعام کے تناظر میں دونوں کا تقابل کرتے ہوئے، یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ان میں سے بڑا کون ہے؟ ادب میں بڑا کون ہے ؟ جتنے تنازعات اور جتنی رنجشیں، اور جتنی ناانصافیاں، اور جتنے تعصبات اس ایک سوال کے ذریعے ’پیدا‘ ہوتے ہیں، کسی اور سوال سے نہیں۔ یہ خیال تو بالکل عام ہے کہ اقبال کو عالمی انعام نہیں ملا تواس میں یقینا سازش تھی، اور ٹیگور یا اس کو انعام دینے، دلوانے والے سازش میں شریک تھے۔ سازش ذرا سخت لفظ ہے، مگر ہمیں اتنی بات تو معلوم ہونی چاہیے کہ جہاں بھی طاقت ہوگی، وہاں Manipulation ضرور ہو گی۔ نوبیل انعام میں ’عالمی وقار‘ کی طاقت ہے، اور اسے کم ازکم امن اور ادب کے انعامات میں تو ’اپنے حق‘ میں نہایت چالاکی کے ساتھ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ بات ٹیگور کے سلسلے میں بھی درست ہو سکتی ہے، اور یہ مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ ٹیگور کا لندن کا سفر ’طے شدہ ‘ تھا۔ کئی ادیبوں کو کئی نامزدگیوں کے بعد کہیں جا کر انعام ملا، مگر ٹیگو ر کو ایک ہی برس، پہلی نامزدگی پر انعام مل گیا، جب کہ اس سال بیس سے زائد نامزدگیاں تھیں۔ علاوہ ازیں برٹرینڈ رسل اور ہنری برگساں کو کن ادبی خدمات پر انعام ملا تھا؟ اس سب کے باجود ٹیگور و اقبال کا اس حوالے سے تقابل کرنے والوں کو اس سوال پر غورکرنا چاہیے کہ کیا اقبال کے سلسلے میں نوبیل انعام کی طاقت کے عدم استعمال سے کوئی فائدہ اٹھایا گیا؟ اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ گزشتہ ایک سو دس برس میں ایک سو سے اوپر (کیوں کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران میں چار سال تک انعام کا اعلان نہیں ہوا تھا؛ جس سال ٹیگورکو انعام ملا، اس سے اگلے سال بھی انعام کا اعلان نہیں ہوا تھا) ادیبوں کو انعام مل چکا ہے۔ کیا ہماری یادداشت اور تخیل میں صرف یہی ادیب آتے ہیں، اور ہم ادب کا مطالعہ، اپنی ہستی کو لاحق جن سوالوں کے جواب کی خاطر کرتے ہیں، ان کا انتخاب کرتے ہوئے کیا ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ انھیں نوبیل انعام ملا تھا کہ نہیں؟ لہٰذا اقبال کی عظمت کامعاملہ، اس سوال سے نہیں جڑا ہوا کہ انھیں نوبیل انعام ملا کہ نہیں۔

ہمیں یہ اعتراف کرنے میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ ہم نوبیل انعام کو طاقت کی حرکیات کے تحت دیکھنے کے عادی ہیں۔ آئیے ذرا اس نظر سے ٹیگور کے نوبیل انعام پر ایک نظر ڈالیں۔

اے ۔ بی۔ شمس الدولہ کی ٹیگور کے نوبیل انعام کے حوالے سے حال ہی میں شایع ہونے والی کتاب سے کئی ہوش ربا قسم کی باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض لوگ ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم مابعد نو آبادیاتی مطالعات میں ہر جگہ استعمار کی سازش دیکھنے کے عادی بن گئے ہیں۔ انھیں شمس الدولہ کی کتاب ضرور دیکھنی چاہیے۔ شمس الدولہ نے سویڈش اکیڈمی کو ٹیگو ر کے انعام کی تفصیل کے حوالے سے ایک سوالنامہ بھیجا۔ اسے جوابا بتایا گیا کہ 24 ستمبر 1913ء کو نوبیل کمیٹی (جو پانچ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے؛یہ اٹھارہ اراکین پر مشتمل سویڈش اکیڈمی ہی سے لیے جاتے ہیں، اور ان کے ذمے یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اکیڈمی کو بتائیں کہ کس کو انعام دیا جانا چاہیے، تاہم ضروری نہیں کہ اکیڈمی، نوبیل کمیٹی کی سفارشات کو مانے) نے تجویز کیا کہ فرانسیسی پروفیسرEmily Faguet  کو انعام دیاجائے، جس کی سفارش فرنچ اکیڈمی کے رکن ام بوترو نے کی تھی۔ سویڈش اکیڈمی کا اجلاس 23 اکتوبر کو ہونا تھا، اور اس سے صرف پانچ دن پہلے سویڈش اکیڈمی کے رکن ہائیڈ سٹام (Verner Von Heidenstam) نے اکیڈمی کے سکرٹری کو خط لکھا اور اس میں دلائل دیے کہ اس سال کا انعام ٹیگور کو دیا جائے۔ (ٹیگور کی نامزدگی اسی ٹامس سٹرج مور نے کی تھی، جن سے ٹیگور کی ملاقات لندن میں ہوئی تھی)۔

واضح رہے کہ یہ صاحب، نوبیل کمیٹی کے رکن نہیں تھے، مگر چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان کی رائے تسلیم کر لی گئی، اور نوبیل کمیٹی کی سفارش کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا، اور اسے اکیڈمی نے کہا کہ وہ ٹیگور کی سفارش کرے۔ یہ وضاحت کہیں نہیں موجود کہ کس بنیاد پر سویڈش اکیڈمی نے اپنی قائم کردہ نوبیل کمیٹی کی رائے ردّ کی، اور اس کے ایک رکن نے کس ضابطے کے تحت، نوبیل کمیٹی کو اپنی تجویز دینے کے بجائے، راست سویڈش اکیڈمی کو رائے دی۔ یہ ایک معما معلوم ہوتا ہے کہ کس طور ایک باضابطہ کمیٹی کی سفارش پر ایک رکن کی رائے نے فیصلہ کن حیثیت اختیارکی؟ گیتان جلی کا انگریزی ترجمہ 1912ء میں شایع ہوا، مگر اکتوبر 1913ء سے پہلے یہ کتاب وہاں موجود نہیں تھی۔ نیز واضح رہے کہ 1912ء تک پورے یورپ میں کوئی شخص ٹیگور کو نہیں جانتا تھا۔ ایک اسرار یہ ہے کہ فرانسیسی پروفیسر کی تو سفارش آئی تھی، مگر ٹیگور کا نام مسٹر ہائیڈسٹام کو کس نے تجویز کیا، اس کا علم نہیں۔ بہ قول شمس الدولہ، ڈبلیو بی ییٹس اور ڈبلیو ایچ آڈن نے بلاشبہ ٹیگور کی تعریف کی مگر اس بات کا کہیں ریکارڈ موجود نہیں کہ انھوں نے نوبیل انعام کی بھی سفارش کی ہو۔

بہرکیف جب ہم اس تقریر کا مطالعہ کرتے ہیں جوسویڈش اکیڈمی کے چیئر مین ہیرالڈ حجرنے (Harald Hjarne)نے ٹیگور کو انعام دیتے وقت کی (یہ انعام ٹیگور نے خود نہیں مسٹرایم ۔ کلائیو، انگلش منسٹر نے وصول کیا)تو سب سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ اس تقریر میں ٹیگو ر کو ’اینگلو انڈین‘ شاعر کہا گیا۔ ٹیگور کی شاعرانہ عظمت کا شاید ہی کہیں ذکر ہو، جہاں اس کی شاعری کی انفرادیت کا ذکر ہو اہے، وہاں اسے عیسوی برطانوی تہذیب کی نمائندگی کرنے کی بنا پر سراہا گیا ہے۔ ٹیگور کو قدیم ہندو تہذیب کا نمائندہ بھی نہیں کہا گیا، بلکہ اس برہمو سماج (جس کے رکن ٹیگور کے والد تھے) کے نمائندے کے طور پر خاص تحسین کا مستحق کہا گیا ہے، جسے انیسویں صدی کے آغاز میں راجہ رام موہن رائے نے شروع کیا، اور جس پر عیسائی مشنریوں خصوصاً ولیم کیری کا اثر تھا۔ ہیرلڈ حجرنے اپنی تقریر میں باربار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عیسائی مشنریوں اور یورپی تعلیم نے بنگال کی ورنیکلر کو ایک نئی زندگی دی، اور اس میں عیسوی روح کو داخل کیا، جو اسے ٹیگور کی شاعری میں نظر آتی ہے، یا کم از کم وہ ٹیگور کی شاعری کو اس روح کا حامل تصور کررہے تھے۔ سویڈش اکیڈمی کا کوئی رکن بنگالی نہیں جانتا تھا۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ سویڈش اکیڈمی نے ٹیگور کو خالص ادبی معیارات پر نہیں، بعض گہری، سیاسی تہذیبی وجوہ کی بنا پر آناً فاناً منتخب کیا، جس کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں نو آبادیاتی تدبیروں سے ملتے ہیں۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اس سے برطانیہ کی انگریز سرکار کو کیا ملا؟ یہ ایک معصومانہ سوال ہے، مگر اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ٹیگور کی شاعری، ورنیکلر بنگالی میں ’جدید، عیسوی، یورپی‘ روح کو پیش کرتی ہے تو نوبیل انعام کے بعد اکثر ہندوستانی زبانوں میں ٹیگور کے جو تراجم ہوئے، وہ بلاوجہ نہیں ہوئے ۔ سوچیے، وہ روح کس سرعت سے ان سب ہندوستانی ورنیکلر میں بھی سرایت کر گئی! جو کام ایک سیاسی حکمت عملی نہیں کرسکتی، وہ اس ادبی متن کے ذریعے بہت جلد اور زیادہ مؤثر انداز میں ہوجاتا ہے، جسے راتوں رات عالمی سطح کے کینن کا درجہ مل جائے۔

یہ سب اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیگورایک زبردست تخلیقی صلاحیت کا مالک تھا۔ وہ شاعر تھا، فکشن رائٹرتھا، کمپوزر تھا اور سترہ برس کی عمر میں اس نے پینٹنگزبھی بنائیں؛ شکل و صورت سے رشی تھا۔ یہ ساری چیزیں جدید صنعتی، سرمایہ دار مغرب کو قبول تھیں۔ اس حقیقت پرمغرب والوں نے زیادہ دھیان نہیں دیا کہ ٹیگوراس نیشنلزم کا نقاد تھا، جسے یورپ عالمی جنگوں کے ایندھن کے طور پر بڑھاچڑھا کر پیش کر رہا تھا۔ بنگال اور برصغیر کی ایک اہم شخصیت کے طور پر ٹیگور کا ایک قدم ضرور سراہا جانا چاہیے جس کا ذکر آج کسی نے نہیں کیا۔ 1917ء میں اسے سر کا خطاب ملا، ٹیگور نے دو سال بعد اس وقت یہ واپس کر دیا، جب جنرل ڈائرنے جلیانوالہ باغ میں نہتے لوگوں پہ گولیاں چلوائیں اور 400 سے زیادہ (اصل تعداد ہزاروں میں ہو گئی) لوگوں کو بھون ڈالا۔ حالاںکہ یہ واقعہ ٹیگور کے بنگال میں نہیں، ہمارے اورہم سب کے علامہ اقبال کے پنجاب میں ہواتھا۔ میں تو اس بات پر آج بھی اسے سلام پیش کرتا ہوں۔

 یہیں مجھے ٹیگور ہی کی ایک بات یاد آرہی ہے۔ ’اپنے لیے لکھنا، سبھوں کے لیے لکھنا ہے‘۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک بڑی سچائی کا بالکل سادہ لفظوں میں اظہار محسوس ہوگا اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ اپنے لیے لکھنے کا مطلب کیا ہے؟ آدمی کی روح جن سوالات، الجھنوں، دکھوں، عذابوں، تاریکیوں اور مصائب سے دوچار ہوتی ہے، انھیں لکھنے کا مطلب، اس آزادی ونجات کی سعی ہے، جو سبھوں کو چاہیے۔

جہاں قلب بے خوف ہے اور سربلند رکھا جاتا ہے

جہاں علم آزاد ہے

جہاں دنیا تنگ خانگی دیواروں (کے جھگڑوں ) میں ٹوٹ کر پرزے پرزے نہیں ہوگئی ہے

جہاں الفاظ عمق صداقت سے نکلتے ہیں

جہاں سعی مستقل اپنے بازو تکمیل (کار) کی پھیلاتی ہے

جہاں عقل کا صاف چشمہ فضول رسوم کے خشک ریتلے جنگل میں اپنا راستہ نہیں بھولا

جہاں، تو نفس کو دائم الوسع تخیل وعمل کی طرف لے جاتا ہے

اے مالک اسی فردوس آزادی میں میرے ملک کو بیدار کر!

                (ترجمہ :نیاز فتح پوری)

Facebook Comments HS

One thought on “کچھ ٹیگور، اقبال اور نوبیل انعام کے بارے میں

  • 11/12/2016 at 9:23 صبح
    Permalink

    محترم،

    آپ نے جو یہ لکھا ہے کہ ’ اس میں کچھ کلام نہیں کہ ٹیگور کی شاعری میں کچھ بنگال کا جادو تھا، اور کچھ انگریزی کا جادو، اور کچھ نوبیل انعام کا سحر کہ وہ ہندوستان بھر میں محض ایک آدھ سال میں شہرت کی بلندیوں کو پہنچ گیا۔ ‘ تو مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ اردو سے اگر ہٹ کے سوچیں تو فوراً سامنے آجائےگا کہ بنگالی ادب کے اثرات ہندی اورمرہٹی میں کہیں پہلے سے اور وقیع طور پرموجود تھے۔ ہندی میں جاسوسی ادب کی ابتدا بنگالی سے تراجم سے ہی ہوتی ہے، انگریزی سے تراجم بعد میں ہوتے ہیں۔ شاعری میں بھی لیکن فکشن میں تو شدت سے۔ کچھ ایسا ہی حال اوڑیہ اور گجراتی میں بتایا جاتاہے۔ در اصل شمالی ہند کے مسلمانوں نے ’جدید ‘ تک رسائی کے لئے صرف انگریزی کا ہی سہارا لیا تھا، جبک ہندوئوں کی خاصی بڑی تعداد نے انگریزی کے ساتھ ساتھ بنگالی کو بھی اپنایا تھا۔
    اردو میں بھی بنگالی ناولوں اور کہانیوں کے ترجمے خوب خوب شائع ہوتے تھے۔ عبدالحلیم شرر نے بنکم چندر چٹرجی کے ناول درگیش نندنی کا ترجمہ کیا تھا۔ لاہور سےتیرتھ رام فیروزپوری نے تین کتابیں بنگالی سے تراجم کی شائع کی تھیں۔ اولین کتاب کا نام تھا ’افسانہٴبنگال ‘۔ اس میں آٹھ میں سے دو کہانیاں ٹیگور کی تھیں۔ یہ کتاب ۱۹۱۳ میں شائع ہوئی تھی لیکن نوبیل انعام سے کافی پہلے۔ اگر آپ بیسویں صدی کی پہلے دو دہائیوں میں شائع ہونے والے رسائل میں تلاش کریں تو بنگالی فکشن کے تراجم کافی مل جائیں گے۔ مختصر یہ کہ ۱۹۱۳ سے پہلے ٹیگور کا نام اردو میں غیر معروف نہ تھا، اور ہندی اور مرھٹی میں تو خاصا معروف تھا۔ اور اردو ناول کے ارتقا میں انگریزی ناولوں کو جتنی اہمیت دی جاتی ہے اتنی ہی اہمیت ہمیں بنگالی ناول نگار بنکم چندر اور شرت چندر کی کتابوں کو دینی چاہئے۔ ۱۸۹۶ میں نول کشور پریس کی فہرست میں ۱۷ ناولوں کے نام درج ہیں۔ پانچ کے مصنف سرشار ہیں۔ باقی تراجم ہیں، ان میں سے ایک بنگالی سے براہ راست ترجمہ ہے۔
    گیتانجلی کا ترجمہ مارچ ۱۹۱۳ میں شائع ہوا، اس میں Yeats کا تعارفی نوٹ بھی تھا۔ نومبر ۱۹۱۳ تک اس کی دس اشاعتیں ہوچکی تھیں ، اور فرانسیسی میں بھی اسکا ترجمہ آندرے ژید کے قلم سے شائع ہو چکا تھا۔ چنانچہ نوبیل انعام سے پہلے ہی گیتانجلی یورپ کے دانشوروں کے ایک وسیع حلقے تک پہنچ چکی تھی۔ ییٹس اور ژید یورپ میں گمنام لوگ نہیں تھے اگرچہ دونوں کو نوبیل انعام بہت بعد میں ملا۔
    آپکا یہ جملہ میری سمجھ میں نہیں آیا: ’یہ اتفاق تھا یا کہ سوچا سمجھا پروگرام کہ روزنتھائن نے اس شام ڈبلیوبی ییٹس اور ایذراپاﺅنڈکو بھی مدعو کیا تھا۔‘ اسی طرح یہ جملہ بھی: ’یہ مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ ٹیگور کا لندن کا سفر ’طے شدہ ‘ تھا۔ ‘ میں سازشوں کے وجود کا انکار نہیں کرتا۔ سازشیں برحق ہوتی ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں اور اردو والوں کے خلاف۔ لیکن اگر سازش کا ’حدود اربعہ ‘ واضح نہ لکھا جائے تو کم از کم مجھے ضرور مشکل ہونے لگتی ہے۔ شمس الدولہ صاحب کی کتاب کا پورا نام بھی درج کردیں تو عنایت ہوگی، اور یہ کہ وہ کس زبان میں ہے۔ ویسے ادب اور امن کا نوبیل انعام اگر ختم کردیا جائے تو میری کم نظری میں ادب اور امن دونوں کی توسیع ہی ہوگی۔

Comments are closed.