کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟
سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیشکیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی و سماجی مسئلہ ہے جس پر دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں، لہٰذا فریقین بھی دو فکری حلقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح طرفداران کا حلقہ پوری جذباتیت سے اقبال کے دفاع میں مصروف تھا اور نقاد حضرات یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ اقبال فلسفی تو کیا کوئی خاص مفکر بھی نہیں۔ ایسے میں راقم کو سید علی عباس جلال پوری کی شدت سے یاد آئی جنہوں نے کئی سال قبل اس درسی بحث کو کسی حد تک ایک حتمی نتیجے پر پہنچا کر کافی کوشش سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اقبال بنیادی طور پر ایک متکلم ہیں نہ کہ سکہ بند فلسفی۔
Read more

















