کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیشکیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی و سماجی مسئلہ ہے جس پر دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں، لہٰذا فریقین بھی دو فکری حلقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح طرفداران کا حلقہ پوری جذباتیت سے اقبال کے دفاع میں مصروف تھا اور نقاد حضرات یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ اقبال فلسفی تو کیا کوئی خاص مفکر بھی نہیں۔ ایسے میں راقم کو سید علی عباس جلال پوری کی شدت سے یاد آئی جنہوں نے کئی سال قبل اس درسی بحث کو کسی حد تک ایک حتمی نتیجے پر پہنچا کر کافی کوشش سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اقبال بنیادی طور پر ایک متکلم ہیں نہ کہ سکہ بند فلسفی۔

Read more

اقبال کی مظلومیت

اس ملک میں مظلومیت کا دعویٰ بہت لوگ کرتے ہیں اور کچھ تو اس کے عوض مدت سے رائے دہندگان کے ووٹ بھی حاصل کرتے آئے ہیں۔ ہماری سوچی سمجھی رائے میں مظلومیت کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ مظلوم شخص اپنے بارے میں کہی جانے والی بات کا کوئی جواب نہ دے پائے۔ یہ صفت بلا شبہ سب سے زیادہ گہرائی میں، مرحومین میں پائی جاتی ہے۔ اگر مرحومین عوام و خواص میں مشہور ہوں اور بالخصوص ان کی

Read more

شورش کاشمیری کی ’’اس بازار میں‘‘ اور اقبال کی امیر بائی

یہ اُں دنوں کا قصہ ہے جب ایام جہالت اور نوعمری کے بخار میں مجھے مشہور لوگوں کے آٹو گراف حاصل کرنے کا خبط ہو گیا۔ اور میرا معیار صرف شہرت اور بدنامی تھے۔ میری آٹو گراف بک ایک ایسا اصطبل تھی جس میں مشہور شاعر، ادیب کرکٹ کے کھلاڑی، فلمی اداکار، مفکر، عالم دین، مسخرے اور صحافی سب کے سب ساتھ ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ پرنس علی خان اور ہالی وڈ کی اداکارہ ایوا گارڈنر کے ہمراہ مولانا مودودی

Read more

اقبال اور عطیہ فیضی

ڈاکٹر خالد سہیل کا مضمون، ’علامہ اقبال: ایک محبوبہ، تین بیویاں اور چار شادیاں ‘مصنف کے بیان کے مطابق اقبال کے ’رومانی تضادات ‘ کی نقاب کشی کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں وہ لکھتے ہیں: ’علامہ اقبال کی شخصیت کے ڈھکے چھپے نفسیاتی تضادات اس وقت ابھر کر سامنے آئے جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایشیا سے یورپ تشریف لے گئے۔ علامہ اقبال جب مشرق کی رومانوی گھٹن کی شکار فضا چھوڑ کر مغرب کی آزاد فضا

Read more