ساون کے اندھے اور سندھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں نانی اماں کے منہ سے سنتے تھے کہ ”ساون کے اندھے کو ہرا ہرا سوجھے“ ہم پلٹ کر فوراً پوچھتے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اندھے کو نظر آئے، تب نانی سمجھاتی تھیں کہ جو ساون میں اندھا ہوتا ہے اسے اپنے اندھے پن میں ہر جگہ ہرا ہرا سبزہ دکھائی دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے سب بہتر ہے۔ یہی حال ہمارے ملک پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کا ہے ذرا ملاحظہ فرمائیے یہ خبر ”حکومت سندھ سرکاری سطح پر“ نیو ائر نائٹ ”گورکھ ہل پہ منائے گی“ حکومت سندھ کے ذیلی ادارے گورکھ ہل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے نیو ائر نائٹ منانے کے لیے ایونٹ مینجمنٹ کمپنیوں سے سے پیشکشیں طلب کر لیں ہیں۔ گورکھ ہل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق یکم جنوری 2021 ء کی رات کو شاندار تقریب گورکھ ہلز اسٹیشن پر منانے کے لیے ساونڈ سسٹم، جنریٹر، ڈیکوریشن، اسٹیج کی تعمیر اور ڈیزائننگ، فوڈ کورٹ، اور فائر ورک کے لیے کمپنیوں سے بیس نومبر تک پیشکشیں طلب کر لی ہیں۔

کیا خوب فیصلہ ہے، لگتا ہے سارے مسائل حل ہو چکے ہیں، ہر طرف امن وسکون ہے، نا مہنگائی ہے نا ابتری بس ایک خوشحال گھرانے کی طرح جشن کی تیاری کر رہے ہیں سب مسئلے مسائل پس پشت ڈال کر جب کہ بارش کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ہوئے ابھی تین مہینے بھی پورے نہیں ہوئے، نا سڑکوں کی مرمت کی گئی، نا نالوں کی صفائی جگہ جگہ کچرے کے پہاڑ سر اٹھائے کھڑے ہیں یہ حال ہر جگہ ہے، اندرون سندھ جو تباہ کاری ہوئی سو تو ہے، سندھ کے دارالحکومت کراچی کا تو نقشہ ہی بدل گیا۔ جہاں نکل جاؤ لگتا ہے یہ شہر کھدائی میں دریافت ہوا ہے، کون سی سڑک ہے جو گڑھوں سے بچی ہے، کچروں کے ڈھیر، ابلتے گٹر، مرمت کے نام پر چھوٹی موٹی استر کاری سے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ تو اس شہر کے بہادر شہری ہیں جو ایسے حالات میں بھی کام پر جا رہے ہیں۔

اگلے برسات کے موسم سے پہلے ان کے پاس وقت ہے کہ حکمت عملی سے سب کچھ درست کر لیں، نالوں کا نظام ٹھیک کریں تاکہ بارش میں تباہی نا ہو۔ یہ طوفانی بارشیں تو موسم کی تبدیلی کی وجہ سے ہر سال ہوں گی قطعی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی تفریح اور نئے سال کے جشن کی پڑی ہے۔ سندھ کے ہسپتالوں کا حال کس قدر دگر گوں ہے، اندرون سندھ ایک ہسپتال مکمل سہولیات کے ساتھ موجود نہیں، مریض اللہ واسطے علاج کراتے ہیں اور مولا کے کرم سے ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں۔ اور جو نا ٹھیک ہوں وہ اللہ کی مرضی۔ کورونا کی دوسری لہر شدت سے حملہ آور ہوئی ہے سندھ کے شہر حیدرآباد میں سب زیادہ پرسٹینج ہے اس مرض کی۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں، تعلیمی نظام کی حالت بھی ابتر ہے لیکن ارباب اختیار کو نئے سال کے جشن کی تیاریاں کرنی ہیں یہ بہت ضروری ہے۔

بے شک آپ صوبہ کے ہل اسٹیشن کو ترقی دیں، اچھی بات ہے سندھ کے شہریوں کو مری جیسی تفریح مل جائے گی لیکن اس کے لیے ایک منصوبہ بندی سے کام کیا جانا چاہیے تاکہ سیاحت کے معیار کے مطابق اس ہل اسٹیشن کو بنایا جاسکے۔ سب سے پہلا کام یہاں کے علاقے کی ڈیمارکشن ہے جس کے باعث اتھارٹی اراضی کی الاٹمنٹ یا ڈیولپمنٹ نہیں کر پارہی، اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے دوسرے مسائل جو منہ پھاڑے کھڑے ہیں ان کو حل کریں تب ہی یہ تفریح اور جشن اچھے لگتے ہیں ورنہ تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کسی سڑی ہوئی لاش پر کھڑے ہو کر خوشیاں منائی جائیں۔ ورنہ بقول شاعر

بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھا لیا
پھر اس چمن میں بوم بسے یا ہما بسے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •