فون اور ڈیجیٹل عاشقی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ دور ڈیجیٹل دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں سائنسی ایجادات کی وجہ سے ایسی ایسی آسائیشیں اور آسانیاں آئی جن کا تصور کرنا بھی آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ جہاں بہت سارے میدانوں میں آسانیاں اور سہولیتیں آئیں وہی فون کی ایجاد سے عشق و عاشقی کے چکر میں پڑنا سہل اور آسان ہو گیا ہے۔ فون ایسے ایسے کارنامے انجام دیتا ہے جو پرانے وقتوں میں سو قاصد بھی مل کر انجام نہیں دے سکتے تھے۔ پہلے عشق و عاشقی کے مشغلے میں پڑنا آسان نہ تھا۔

اگر پہلے وقتوں میں کسی کو کسی سے عشق ہوجاتا تو اس کو ہفتوں تک محبوب کی گلی کے چکر لگانے پڑتے۔ عرصہ دراز کے بعد دونوں میں اشاروں، کنایوں کا سلسلہ چل نکلتا۔ کئی ماہ کی ریاضت کے بعد محبوب کی آواز سننے کو ملتی۔ وصل تو سالہا سال کے بعد خدا خدا کر کے نصیب ہوتا۔ مجنوں نے مدتوں صحرا کی خاک چھانی، سفر کی صحبتیں برداشت کی، تکلیفیں اٹھائی، رنج سہے تب جاکے کہیں اس کے بخت جاگے اور اسے لیلی کی زیارت نصیب ہوئی۔ اب ویسا عشق نہیں ہوتا بلکہ اب تو فون کے ذریعے سے ڈیجیٹل عاشقی کی جاتی ہے۔

ایک چھوٹے سے فون میں دنیا آباد ہے۔ چونکہ محبوب بھی اسی دنیا کا باشندہ ہے اس لیے ڈیجیٹل عاشقی کرنے والا فون کا صرف ایک بٹن دباتا ہے تو محبوب کی آواز سننے کو ملتی ہے۔ اب محبوب کا دیدار کرنا سخت نہ رہا بلکہ انگلی کی ایک جنبش کا محتاج رہا، انگلی کو حرکت دی، محبوب سامنے۔ گویا فون کی ایجاد عاشقوں کے لیے ایک تحفہ خاص اور سوغات ہے۔ جس نے عاشقوں کو نہ صرف ایک دوسرے سے دور رہ کر بھی قریب کر دیا بلکہ ہر وقت ایک دوسرے سے باخبر رکھنے کا انتظام بھی کیا۔ محبوب نزدیک ہو یا سات سمندر پار ہر وقت جیب میں پڑا دل کے قریب ہوتا ہے۔ جب جی چاہیے فون نکال کر بات کی، دیدار کیا اور خیر خبر لینے کے بعد پھر سے جیب میں بند رکھا۔

جہاں ایک طرف فون نے عاشقوں کے لیے سہولیات لائی ہیں وہی دوسری طرف انہیں چار دیواری کا قیدی بنا کے رکھ دیا ہے۔ اب یہ سیر وتفریح کی خاطر باغوں میں نہیں جاتے، گھومتے پھیرتے نہیں، صحت افزا مقامات کی سیر نہیں کرتے بلکہ گھر میں رہ کر ہی فون کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔ انہوں نے خود کو فون کے ساتھ باندھ رکھا ہے اور فون کو محبوب کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ اگر ان کے بس میں ہوتا تو یہ اپنے محبوب کی سانسوں تک کو فون کے ساتھ جوڑے رکھتے۔

محبوب کو اگر کھانسی آجاتی، انہیں نوٹیفکیشن آجاتی کہ محبوب کو زکام یا سردی لگی ہے۔ محبوب خوش ہے یا دکھی، انہیں مسیج سے آگاہی ہوتی۔ محبوب روٹھ گیا ہے، اس کی خبر بھی انہیں نوٹیفکیشن سے ہی ملتی۔ جہاں ایک طرف فون نے عاشق معشوق کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کیا، وہی اس نے رقیبوں کی پیدا وار میں بھی اضافہ کیا ہے۔ پہلے ایک یا دو اشخاص میں رقابت ہوتی تھی مگر آج کل ہر اس شخص پر شک کرنے کی گنجائش ہے جس کے پاس فون ہے۔ وہ شخص شک کے دائرے میں زیادہ ہی آتا ہے جو فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر اور دیگر سوشل سائٹس سے آگاہ ہے اور ان کا استعمال بھی کرتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فون کی ایجاد سے سہولیتیں آئی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عاشقوں کو فون سے ایک شکایت رہی ہے کہ اس سے وہ صرف اپنے محبوب سے باتیں ہی کر سکتے، اس کو چائے نہیں پلا سکتے، کھانا نہیں کھلا سکتے، یہاں تک کہ اسے پانی کا ایک گھونٹ تک نہیں پلا سکتے۔ عاشقوں نے مل کر ایک درخواست موبائل کمپنیں وں کو لکھنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ جس میں موبائل کمپنیوں سے پر زور استدعا کی جائے گی کہ اب فون میں یہ سہولیات بھی رکھ دی جائیں تاکہ چار دیواری سے انہیں باہر نہ نکلنا پڑے اور وہ محبوب کو لنچ، ڈنر، چائے اور کافی وغیرہ فون کے ذریعے سے ہی پلا سکیں۔ اگر یہ فون میں ممکن ہو جائے تو عاشقی کے فن میں جو آسانیاں پہلے سے ہی ہیں ان میں مزید اضافہ اور تساہل آئے گا۔

دوسرا گلہ عاشقوں کو یہ بھی ہے کہ انہیں محبوب سے باتیں کرتے کرتے وقت کا پتا ہی نہیں چلتا کہ کب دن چڑھا اور کب شام ہوئی۔ عاشق باتوں میں اتنے مگن رہتے ہیں کہ انہیں یہ سدھ بدھ نہیں رہتی کہ دن ہے یا رات۔ وہ دن میں تارے گننے لگتے ہیں اور رات کو دھوپ سے بچنے کے لیے چھاؤں ڈھونڈتے ہیں۔ نہ کھانے کی فکر، نہ دوسرے کاموں کی کوئی پرواہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی خیال ہے تو بس وصال کا، اگر فکر ہے تو محبوب کے حال کی، چال کی اور اس کے چال چلن کی۔

چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے بھی مسیج کرنا، کھانا جلدی جلدی اور ہڑ بڑی میں کھا کر اپنے کمرے کا رخ کرنا ڈیجیٹل عاشقوں کی عادت بن گئی ہے۔ رات کو دو بجے تک کال کرنا، باتوں میں مگن رہنے کا لپکا لگنا اور فضول سونے کی کوشش اس وقت کرنا جب نیند کی دیوی ناراض ہو کر جاچکی ہوتی ہے۔ دن کے بارہ بجے تک سوتے رہنا اور منہ ہاتھ دھونے سے پہلے بستر میں ہی محبوب کا حال چال پوچھنا اور خیر خیریت دریافت کرنا ڈیجیٹل عاشقوں کا معمول بن گیا ہے۔ تب تک فون نہیں چھوڑتے جب تک اس اقرار نامے پر دستخط نہیں کرتے کہ چائے کے فوراً بعد بات ہوگی۔ تب جاکے دل کو قرار آتا ہے اور چائے فرصت سے پی لیتے ہیں۔

بہرطور دور کوئی بھی ہو وقت کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ وقت کی ہمشیہ قدر رہتی ہے۔ جو وقت ایسے فضول کاموں میں صرف ہوتا ہے اس کا اگر صیحح استعمال کیا جائے تو انسان ہر وہ شے پا سکتا ہے جس کی وہ چاہ رکھتا ہے۔ دانشوروں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ایک حسین عورت بہتریں مستقبل نہیں دی سکتی۔ ہاں ایک بہترین مستقبل حسین و جمیل ساتھی دے سکتا ہے۔ اپنا وقت مستقبل کو سجانے سنوارنے میں ہی صرف کرنا چاہیے اور فضول کاموں سے دور رہنا چاہیے۔ خواہش کی تکمیل جائز طریقے سے ہو تو خوشی دیتی ہے ورنہ وبال جان بن جاتی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •