صنف نازک میں اللہ تعالی نے کشش رکھی ہے۔ ساٹھ کا ہو یا آٹھ کا، ہر مرد ان کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ مرد کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو صنف نازک کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ہر وہ کام کر گزرتا ہے جس سے اس کی مراد بر آئے۔ مرد منسٹر ہو، استاد ہو، ڈاکٹر ہو، وکیل ہو یا کسی اور شعبے یا محکمے سے وابستہ ہو صنف نازک کو خاص رعایت اور توجہ دیتا ہے۔ مدیر حضرات اس سے مستثنیٰ نہیں۔ وہ صنف نازک کے تئیں زیادہ ہی جذباتی اور ان کے طرف دار نظر آتے ہیں۔
اگر ان کے پاس دو تحریریں آجاتی ہیں، ایک پہ امین خان لکھا ہو اور دوسری پہ امراؤ جان وہ امراؤ جان کو ہی اولیت و فوقیت دے دیتے ہیں۔ اگرچہ امین خان کی تحریر بنسبت امراؤ جان کے زیادہ شاندار اور جاندار ہی کیوں نہ ہو۔ پھر بھی ترجیحی بنیادوں پر امراؤ جان کی تحریر شائع ہو جاتی ہے۔ آپ بدگمان نہ ہوجائیں میرا مدعا و مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کوئی شاعرہ اچھی شاعری نہیں کرتی یا کسی ادیبہ کا قلم زنگ آلود ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اردو ادب میں قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، بانو قدسیہ، واجدہ تبسم، جیلانی بانو، شکیلہ اختر، جمیلہ ہاشمی، رضیہ بٹ، رشید جہاں، ہاجرہ مسرور، پروین شاکر، ادا جعفری اور عنبر حسیب عنبریں کی تحریریں و تخلیقات چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتیں ہیں کہ یہ تحریریں اور تخلیقات نہ صرف بہترین تخلیقات ہیں بلکہ ان کا شمار ادب عالیہ میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں بھی صنف نازک کی اچھی خاصی تعداد ایسی ہیں جن کی تخلیقات کو بہترین، شاندار اور اعلی ترین کا درجہ حاصل ہے۔ ان ادیباؤں کی تحریریں کسی بھی ادیب کی لکھی ہوئی تحریروں سے کم نہیں۔ ہاں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مدیر حضرات مرد لکھاریوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے، البتہ صنف نازک کی کوئی تحریر ان کی نظر سے گزرنے کی دیر ہوتی ہے کہ اس کو رعایتی نمبر دے کر بڑے اہتمام کے ساتھ اولین فرصت میں پہلے شمارے اور اولین صفحے کی زینت بنایا جاتا ہے۔
Read more