قلمکار صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں

بعض قلمکار اپنی تحریر سے اتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنی انہیں اپنے بچے سے انسیت ہوتی ہے۔ اپنی تحریر سے لگاؤ رکھنا برا نہیں۔ اسی لگاؤ کا نتیجہ ہے کہ بعض اپنی تحریروں کو نکھارتے اور سنوارتے رہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران اگر کوئی مشورہ دے یا کمیوں اور خامیوں کی طرف توجہ دلائے تو خندہ پیشانی سے اس مشورے کو قبول کرتے ہیں اور وہ کمیاں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو

Read more

ابا پیارے۔ باپ کی سوانح عمری بیٹیوں کی زبانی

عشق کے لاتعداد درجے ہیں۔ بعض لوگوں کے عادات و اطوار، گفتار و کردار، تحریروں سے، ان کی محنت سے، ان کے کام کرنے کے جذبے اور لگن سے عشق ہوجاتا ہے۔ ایسا غائبانہ اور مقدس عشق مجھے ”شمع اختر انصاری“ کی تحریروں سے ہے۔ ان سے تعارف کا سبب فیس بک بنا۔ فیس بک کے ذریعے جس نے ان کی ایک بھی تحریر پڑھ لی وہ اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے ان کی مزید تحریریں تواتر سے

Read more

مفت مشورے

یوں تو اس مہنگائی کے دور میں مفت کچھ نہیں ملتا لیکن ہمارے ہاں مشورے مفت ملتے ہیں۔ آپ لینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں، آپ کو مشورے کی ضرورت ہے یا نہیں اس کی مفت کے مشورے دینے والوں کو چندا فکر نہیں۔ وہ اپنا فرض جان کر آپ تک مفت مشورے ضرور پہنچائیں گے۔ مفت مشورہ دینے میں نہ رکاوٹ ہے نہ پابندی، نہ قابلیت کی ضرورت ہے نہ کوئی خاص صلاحیت درکار ہے سو بزرگ بچے،

Read more

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے

آج اس عظیم شاعر کا یوم پیدائش ہے جس کے خیال میں غیب سے مضامیں آتے تھے اور جس نے دعوی کیا کہ اس کا صریر خامہ نوائے سروش ہے۔ جس کا انداز بیان دنیا کے لاتعداد سخن وروں میں منفرد ہے۔ جو ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہے کہ ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے اور جواب بھی دیتا ہے کہ وہ شاعر تو اچھا ہے پر بدنام بہت ہے۔ جسے نہ ستائش کی تمنا

Read more

لکھنا نہیں آتا تو میری جان پڑھا کر

ادبی دنیا میں ایک وبا تیزی سے پھیل چکی ہے کہ کچھ نیم ادیبائیں اور متشاعرات اپنی اداؤں، بول چال، چھیڑ چھاڑ اور جھوٹی محبت جتانے کر اپنا نام کمانے، شہرت پانے اور اپنا الو سیدھا کرنے میں لگی ہیں۔ وہ اپنے ناز و ادا دیکھا کر ادیبوں کو لبھانے کی کوشش کرتی ہیں، ان سے عشقیہ گفتگو کرتی ہیں، نازیبا حرکات کرنے سے بھی پرہیز نہیں کرتیں۔ اس کے عوض ان کے مضامین اور تحریروں کو اپنے نام سے

Read more

ہم فقط سنتے ہیں

چند سال سے ہمیں سننے کی عادت پڑ چکی ہے کبھی سالے سناتے ہیں، کبھی بیوی کی سننا پڑتی ہے، کبھی بڑے بزرگوں کی نصیحت آمیز باتیں سنتے ہیں اور کبھی کبھار تو حد ہوتی ہے اور کوئی نیا فیس بکی شاعر ہمیں اغوا کر لیتا ہے اور اپنی بے وزن غزلیں سناتا ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی نثر نگار نے ہمیں گھیرا اور اپنی شوریدہ سری بیان کرنے لگا اور ہمہ تن گوش ہم سنتے ہیں۔

Read more

مسئلہ روزگار اور اردو – چند تلخ حقائق

یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ اب اردو کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے لیکن یہ بھی صداقت ہے کہ اس کے باوجود یہ روزگار فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ اس زبان میں لکھنے والے ادباء اور شعراء فقط ”واہ“ پر خوش ہوتے ہیں اور ان میں کثیر تعداد ان حضرات کی ہے جو برسر روزگار ہیں اور اس زبان میں اپنے ذوق کی تسکین کے لیے شوقیہ لکھتے ہیں۔ ایک طبقہ ایسا بھی

Read more

اماں نامہ۔ نشاط کی نشاط انگیزی

کہا جاتا ہے کہ اچھی کتاب بہترین تفریح کا ذریعہ ہے۔ چند روز قبل ایسی ہی کتاب میرے زیر مطالعہ رہی جو واقعی تفریح کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ کتاب کا عنوان بھی منفرد ہے اور عنوان دیکھ کر اس کو پڑھنے کے لیے تجسس کا گھوڑا اتنا تیز بھاگنا شروع کرتا ہے کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔ کتاب کا نام ”اماں نامہ“ ہے۔ اماں نامہ نشاط یاسمین خان کے اکیس مزاحیہ مضامین کا مجموعہ

Read more

انسان پریشان ہے

گہرے دوستوں میں ان بن ہو جائے تو خطرناک دشمنی جنم لیتی ہے۔ انسان اور شانتی میں دوستی تھی لیکن جانے کس بات پر دونوں میں جھگڑا ہوا کہ ستر سال سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا یہی وجہ ہے کہ اس نے اب پریشانی کو اپنا دوست بنا لیا ہے۔ اب اس کے حلقہ احباب میں بے سکونی، وحشت، اداسی، رنج شامل ہیں۔ صحبت کا اثر تو ہوتا ہے۔ اسی

Read more

ایک کہانی سنو

ایک بادشاہ تھا۔ ارے نہیں صاحب آپ نے جیسا سن رکھا ہے یہ ویسا بادشاہ نہیں تھا۔ بیچ میں نہیں ٹوکتے، جب کوئی بات کر رہا ہو بیچ میں نہیں بولنا چاہیے بری عادت ہے۔ اس عادت کو فی الفور ترک کر دیجیے گا۔ ہاں تو میں بادشاہ کی کہانی سنا رہا تھا۔ بادشاہ کے پاس نرالی شان، دبدبہ، مرتبہ، جائیداد، جاگیر کچھ بھی تو نہ تھا۔ ہاں اتنا ہے کہ بادشاہ صاحب اولاد اور خوشحال تھا اور بظاہر سخی،

Read more

اشتہارات اور جھوٹ

یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ موجودہ دور میں زندگی کے ہر شعبے میں مقابلہ اور دوڑ جاری ہے۔ ترقی کی اس دوڑ میں ہر فرد دوسرے سے بازی لے جانا چاہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوسروں سے نفع یاب رہے۔ تجارت بھی اس سے مستثنٰی نہیں ہے۔ آج کل زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز تدبیر کی جاتی ہے تاکہ کاروبار کو وسعت دی جائے۔ کسی شے کی خرید و

Read more

گائے بھی چوری ہوئی

ذکر پچھلی صدی کا نہیں بلکہ پچھلے سال کا ہے کہ چوروں کا دبدبہ زوروں پر تھا۔ ہر وہ شے چرا لی جاتی تھی جو گھر میں یا گھر سے باہر آنگن میں، سڑک پر دکھائی دیتی تھی۔ نومبر کا ذکر ہے کہ ایک چور پارٹی نے راتوں میں گشت کرنے کیا شروع کیے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر گھر سے صبح رونے کی آوازیں زور زور سے آتی تھیں۔ حال احوال پوچھنے پر معلوم ہوتا تھا کہ چوروں نے

Read more

کشمیر میں اردو کو خطرہ ہے

کشمیر میں لاکھوں مسائل اور ہزاروں پریشانیاں ہیں۔ ان میں سے بعض مسئلوں کے ذمے دار ہم خود ہیں۔ اہل علم باخبر ہے کہ یہاں بہت ساری زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ کچھ علاقائی تو کچھ ریاستی، جو زبان پوری ریاست میں بولی اور سمجھی جاتی ہے وہ اردو ہے۔ اردو جموں و کشمیر کے تینوں خطوں لداخ، جموں اور کشمیر میں پڑھی، سمجھی اور بولی جاتی ہے اور تینوں خطوں میں اس کے شیدائی، اس زبان کو پروان

Read more

اختلافات اور جھگڑے۔ ضروری یا غیر ضروری

انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ، دکھ سکھ، خوشی اور غم دن رات کی طرح آتے ہیں۔ شادمانی دیکھنا بھی اسے نصیب ہوتا ہے اور کبھی رنجیدگی سے بھی اس کا دل کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔ کبھی یہ اپنے دوستوں کے ساتھ محفل طرب مناتا ہے، تو کبھی ذرا سی تلخی سے آپس میں ان بن ہوجاتی ہے اور بات ہاتھا پائی اور گالی گلوچ تک آن پہنچتی ہے۔ زندگی کے کسی بھی موڑ پر دوستوں، ہمسائیوں، رشتے داروں سے

Read more

ادھار اور گالی

جتنا قریبی رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے اتنا ہی گہرا رشتہ ادھار اور گالی کا ہے۔ جیسے شوہر بیوی کے بغیر ادھورا سا، نامکمل سا اور ناتمام سا لگتا ہے ویسے ہی ادھار کا ذکر ہو اور گالی نہ دی جائے یہ بھی کچھ ادھورا اور نامانوس سا لگتا ہے۔ ادھار مانگتے وقت لہجہ شیریں اور منہ میٹھا ہوتا ہے۔ قرض لوٹانے کا وقت آئے تو شرینی کڑواہٹ اور مٹھاس گالی میں بدل جاتی ہے۔ ادھار مانگنے سے دھن

Read more

شادی شدہ اور کنوارے

ہمارے ہاں جو عمل بیک وقت مقبول اور بدنام ہے وہ شادی ہے۔ جو اس پل صراط کے پار گیا جنت پائی اور جو ابھی پار کرنے کا سوچ رہا ہے وہ بھی جنت میں ہی ہے۔ شادی شدہ افراد شادی کرنے کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں جتنے کنوارے شادی سے پہلے ہوتے ہیں۔ قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آ رہی ہے کہ شادی شدہ بہتر ہے یا کنوارا۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ کس کو فاتح قرار دیا جائے، کون خسارے میں اور کون فائدے میں ہے۔

Read more

منور رانا۔ غزل میں ماں کی نغمہ سرائی کرنے والا شاعر

اردو شاعری میں جو استجابت اور مرغوبیت صنف غزل نے پائی وہ کسی اور صنف کو نصیب نہ ہوئی۔ غزل میں ہر دور میں شعراء نے مختلف موضوعات کو کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔ میر ہو یا غالب، اقبال ہو یا حسرت، جگر ہو یا فراز ہر شاعر نے عمدہ غزلوں کی تخلیق کے ساتھ ساتھ نئے موضوعات، تجربات، احساسات اور جذبات کو اس میں داخل کیا ہے۔ غزل صرف عورتوں سے باتیں کرنا یا محبوب کا تذکرہ کرنے تک

Read more

سوشل میڈیا۔ صحبت طالع ترا طالع کند

دنیا کی ہر شے کا استعمال صحیح اور غلط طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔ ہر ایجاد کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہوتا ہے کہ اس کا ورتاؤ آسانی، ترقی، خوشحالی اور سہولت کے لیے کیا جائے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شے کو تخریب کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ آس پڑوس میں ہونے والے واقعے کی خبر دو تین دن بعد انسان کے کان تک پہنچتی تھی لیکن سوشل میڈیا کے سبب دنیا کے ایک کونے میں وقوع پذیر ہونے والا واقع چند ساعتوں کے بعد دوسرے کونے تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔

Read more

سوچ کو بدلنے سے معاشرہ بدلے گا

غور و فکر کرنا دانا انسانوں کا خاص وصف ہے۔ دنیا جہاں میں ہزاروں معاملات ہیں جن پر انسان غور کر کے دنیا اور خود کو بدلنے کی کامیاب سعی کر سکتا ہے۔ معمولی واقعے اور بات سے متاثر ہو کر انسان میں مکمل بدلاؤ آ سکتا ہے۔ دنیا کو بدلنے کی کوشش کرنا اتنی ضروری نہیں جتنا خود اور اپنی سوچ کو بدلنا ضروری ہے۔ خود کو بدلنے میں پختہ ارادہ اور مکمل حوصلہ لگتا ہے۔ انسان اور جانور

Read more

سچ اور جھوٹ۔ موجودہ دور میں بلند تر کون؟

اللہ رب العزت نے انسان کو نطق جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ اس کے منہ سے جو الفاظ نکلتے ہیں وہ سچائی کی نمائندگی کرتے ہیں یا جھوٹ کی ترجمانی۔ سچ بولنے والا فرد نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ موجودہ دور میں سچ بولنے والے کے دشمن بہت سارے لوگ ہو جاتے ہیں، البتہ جھوٹ بولنے والے کو آج کل سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ سچ بولنا آج کل انگاروں پر چلنے کے

Read more

زبردستی کا تحفہ

دنیا میں بہت سارے کام ایسے ہیں جن کے کرنے سے مختلف فائدے ہوتے ہیں اور ایسے کاموں کی بھی کمی نہیں جو ذہنی سکون کو غارت کرتے ہیں۔ کسی کے دل کو خوش کرنا نیک عمل ہے۔ بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے تبادلے سے نیکیاں، فائدہ اور قلبی سکون ملتا ہے۔ تحفہ دینا لین دین نہیں ہاں البتہ دیا اور لیا جائے تو انسان کو سکون، راحت اور قرار حاصل ہوتا ہے۔ تحفہ دینا اور لینا ایک عمدہ عمل ہے۔ یہ عمل تعلقات کو بہتر بناتا ہے، رشتوں کو مضبوط کرتا ہے اور یادوں کو دوام بخشتا ہے۔

Read more

شفیق بچولیا

بعض لوگوں کا نام ان کی پہچان کے ساتھ ساتھ ان کے پیشے اور کام کی ترجمانی کرتا ہے۔ کسی کا نام اگر جمال قہوہ ہے تو ظاہر ہے وہ قہوہ بنانے کا ماہر ہوگا یا پینے کا شوقین۔ ہمارے آس پاس ہی نہیں آپ کے گاؤں شہر، علاقے میں بھی ایسے افراد ضرور ہوں گے جن کے نام کے ساتھ ان کا پیشہ لگا ہے جیسے ماسٹر غلام الدین۔ کسی آدم زاد میں انکار کی جرات نہیں کہ وہ

Read more

ڈرامہ ارطغرل سے جڑی یادیں

اللہ رب العزت نے انسان کے رزق کا بندوبست عجیب اور انوکھے ڈھنگ سے کیا ہے۔ اس کو بکھرا اور پھیلا ہوا رکھا ہے اور کسی فرد کو یہ علم نہیں کہ رزق کے دانے جو بکھرے پڑے ہیں کہاں کہاں سے چنے ہیں۔ یہ انسان کو پہاڑوں بیابانوں کی سیر کراتا ہے، اس کی بدولت انسان نئی نئی زمینوں کو اپنی جائے سکونت بناتا ہے، یہ نئے نئے شہروں میں بسنے کی ہمت اور نئے نئے لوگوں سے شناسائی

Read more

موبائل فون۔ رحمت کو زحمت نہ بنائیں

دنیا میں ہر شے تیزی سے بدل رہی ہے۔ سائنس نے اس تغیر و تبدل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اس نے زندگی کے ہر گوشے کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ اس کے اثرات علم، تہذیب و تمدن، مذہب، صنعت، معیشت سب پر پڑ رہے ہیں اور ان میدانوں میں سائنس نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کی ایجادات نہ صرف محیر العقول ہیں بلکہ انسان کے لیے سہولیات اور آسانیوں کا سبب بھی ہیں۔ اصول ہے

Read more

گھریلو مسائل اور تنازعات۔ حل جلدی نکالیں

ہر فرد کو زندگی میں مسائل اور پریشانیاں کا سامنا رہتا ہے۔ ان پریشانیوں اور مسائل کا تدارک بعض دفعہ حکمت عملی ہوتی ہے تو بعض دفعہ صبر کے بستر پر تکیہ لگا کر بیٹھنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔ ہر شخص جنگ لڑ رہا ہوتا ہے کبھی گھریلو حالات سے، کبھی اندرون سے، کبھی بیرون سے، کبھی معاشرے کے رویوں سے، کبھی اپنی منفی سوچ سے اور کبھی ان مسائل اور پریشانیوں سے جو ہمہ وقت اس کو اپنے

Read more

خود کشی مسائل کا حل نہیں

معبود نے انسان کو دنیا میں اکیلے نہیں بھیجا بلکہ اس کے ساتھ مسئلے مسائل، غموں اور پریشانیوں کو بھی حکم دیا کہ انسان کو اکیلا نہیں چھوڑنا اس کے ساتھ ساتھ رہنا۔ غم ساتھ اس لیے رکھے تاکہ انسان مضبوطی سے ان سے نبرد آزما ہو جائے اور ان پر فتح پاکر آہنی ذہن اور مضبوط سوچ رکھنے والا بن جائے۔ جب انسان ان پر فتح پا لیتا ہے تو بڑی مسرت، جوش اور ایک خاص قسم کا انبساط اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ ان غموں اور پریشانیوں سے مقابلے میں جو ہار گیا وہ گویا زندگی سے جنگ ہار گیا اور بعض دفعہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ انسان مسائل کو قابو نہیں کر پاتا اور وہ ایسا سنگین قدم اٹھاتا ہے جس سے زیاں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

Read more

جامع مسجد سرینگر ایک نظر میں

مسجد وہ مقدس جگہ ہے جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔ لفظ مسجد عربی الاصل ہے جس کے معنی ”سجدہ کرنے کی جگہ“ کے ہیں۔ اسلام میں مسجد کی بڑی اہمیت و فضلیت ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اور روئے زمین کی سب سے مقدس، افضل اور برتر جگہ جہاں اللہ رب العزت کا ذکر، اطاعت اور بندگی کی جاتی ہے۔ اس جگہ اللہ کی رحمتیں برستی ہیں۔ یہ وہ بابرکت جگہ ہے جہاں انسان کا دل صاف ہوجاتا

Read more

کسی غریب کو نہ ہو

کرونا وائرس کی موجودہ لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اور آئے روز لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا شکار بنا رہی ہے۔ بیماری کو روکنے کے لیے سرکار کے پاس واحد حل کرفیو، بندیشیں اور لاک ڈاؤن ہے۔ یہ بندیشیں اور پاں ندیاں کسی صورت اس جان لیوا وائرس کا علاج نہیں لیکن اس کے سوا چارہ بھی نہیں ہے۔ عوام کا ایک بڑا حصہ مزدور پیشہ ہے جو دن کو مزدوری پر فقط اس لیے جاتے ہیں

Read more

اختلاف ،انسان اور تضاد

ایک بار انسان نام ور، با اثر اور شہرت یافتہ لوگوں میں شمار ہو جائے پھر اس کے کسی بھی قول سے اختلاف کرنا گناہ عظیم اور جرم سنگین مانا جاتا ہے۔ اگر اختلاف کرنے والا مشہور و معروف نہیں پھر اس کے دلائل کو ہی مسترد نہیں کیا جاتا بلکہ اسے طنز و تمسخر کا نشانہ بنا کر بدنامی کے اس مقام تک لایا جاتا ہے جہاں اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ وہ عزت

Read more

چپ رہنا بھی ظالم کی حمایت ہے

دنیا کی چند ہی جگہیں اپنے ساتھ سیاہ بخت لائی ہیں۔ ان جگہوں پر موت صبح شام رقصاں ہے۔ کشمیر ہو یا فلسطین ہر دن بے گناہوں کا ناحق قتل ہوتا ہے۔ ان جگہوں میں ان گلوں کو لگاتار مسلا جا رہا ہے جو ابھی بہار میں ٹھیک سے کھلے بھی نہیں تھے۔ یہ ازل سے ہوتا آیا ہے کہ مظلوم پر ہمیشہ ظالم نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ وہ اپنی جابرانہ قوت سے مظلوم کے وسائل کو تباہ

Read more

ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری بحیثیت اقبالؔ شناس

اردو ادب کے ہر رفیع الشان نقاد کے ہاں میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ جیسے عظیم المرتبت شعراء کا کلام اور افکار ہمیشہ پسندیدہ مطالعہ رہا ہے۔ ناقدین اور دانشوروں نے نہ صرف ان عظیم شعراء کی فکر اور شاعری پر ارتکاز کر کے بڑی محنت، لگن اور ژرف نگاہی سے نئے نئے گوشے اجاگر کیے بلکہ خود بھی دنیائے ادب میں اپنی الگ اور منفرد پہچان بنائی۔ ان ناقدین نے اپنی فہم و فراست کے مطابق بڑی محنت و مشقت

Read more

شادی کو آسان بنائیں

اللہ رب العزت نے انسان کو زمین پر اشرف المخلوقات اور اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے۔ اس لیے اس کو عقل و دانش، دل و دماغ اور بے پناہ صلاحیتوں اور گوناگوں کمالات سے نوازا ہے۔ زمین پر اس کی بقاء کا انتظام اور بلندی و امتیاز کا دھیان رکھا۔ جہاں اس کی بہت ساری ضرورتوں کا خیال کیا وہیں قانون فطرت کے مطابق اس کے لیے جوڑا یعنی عورت بنائی۔ جو جنسی تسکین اور بہترین زندگی گزارنے کے

Read more

امید اور حوصلے کا شاعر: اشہر اشرف

شاعر دوطرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جہنیں بہت جلد شہرت اور مقبولیت ملتی ہیں۔ ان کی شاعری کے گرویدہ اور پرستار بہت سارے لوگ بہت جلد ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے مداح ان کی شاعری کو نگر نگر پھیلانے اور شہر شہر پہچاننے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ ان میں چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو مشہور تو ہوتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں وہ دم خم اور پائیداری نہیں ہوتی۔

Read more

پریم چند اور منٹو: چند مماثلتیں

اردو ادب میں موازنے کی پختہ روایت رہی ہے۔ میر انیس کا دبیر سے موازنہ ہمارے سامنے کی مثال ہے۔ دو شاعروں کا ان کی شاعرانہ خصوصیات کی بناء پر موازنہ کرنا برا بھی نہیں اگر غیر جانب داری سے کام لیا جائے۔ علامہ شبلی پر یہ الزام آیا کہ انہوں نے انیس کو دبیر پر فوقیت دی۔ موازنہ کرنا اور مماثلتیں ڈھونڈنا بڑا ادق اور پچیدہ کام ہے۔ ذرا سا دھیان بھٹک جائے تو ذہن کسی اور وادی کی

Read more

کتاب کو پھر سے دوست بنائیں

یہ فقرہ زبان زد عام ہے کہ جب سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی ایجاد ہوئی ہے کتاب کون خرید کر پڑھتا ہے۔ اب تو پی ڈی ایف میں آسانی سے کتب دستیاب ہوتی ہیں۔ چھوٹے سے فون میں ہزاروں کتابیں رکھی جا سکتی ہیں اور لیپ ٹاپ میں لاکھوں۔ پی ڈی ایف کتابیں تو مفت میں مل رہی ہیں۔ کون مہنگے داموں کتاب خریدے اور گھر میں کاغذ کا ذخیرہ جمع کرے۔ کتابیں رکھنے کے لیے گھر میں

Read more

ہم جہالت کی ذلت سے کب نکلیں گے؟

بھلے ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور سائنسی ایجادات کی بنیاد پر اس کو ترقی یافتہ دور کہہ سکتے ہیں لیکن ہمارے طرز زندگی، مذہبی عقائد، سوچ، رہن سہن اور اخلاقی گراوٹ کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ دور جہالت سے مشابہہ ہے۔ دور جہالت میں لوگ جن گناہوں میں مبتلا تھے ، ہم بھی ان گناہوں میں ملوث ہیں۔ ہم ویسی ہی زندگی گزار رہے ہیں جیسی زندگی کی عکاسی ظہور اسلام سے قبل راویان نے تواریخ میں کی ہے۔

Read more

مطالعے کے شوقین لوگ اور ہمارا مزاج

انسان نے تفریح کی خاطر مختلف ادوار میں مختلف شوق اختیار کیے ۔ کبھی انسان غم غلط کرنے کے لیے تلوار بازی میں اپنے کرتب دکھایا کرتا تھا تو کبھی شکار کے پیچھے بھاگ دوڑ کرنے میں لطف کشید کرتا تھا۔ گھڑ دوڑ یا گھڑ سواری اور دیگر کھیل بھی شوق کی تسکین کے لیے کھیلے جاتے تھے۔ جب سے انسان کے ماتھے سے جنگلی اور وحشی کی پٹی ہٹا کر اس کی پیشانی پر مہذب ہونے کا لیبل لگایا

Read more

ہر شخص پریشان سا کیوں ہے؟

چاروں اور پریشانی اور افراتفری کا راج ہی نظر آتا ہے۔ فضاؤں میں اداسی ہے جیسے اب یہ دنیا بزم طرب نہ رہی بلکہ غم کدہ بن گئی ہے۔ سکون ہم سے کوسوں دور ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زندگی صرف پریشانیوں، مصیبتوں، آزمائشوں اور غموں سے نبرد آزما ہونے کا نام ہے۔ یہ ایک شخص کا قصہ نہیں کہ جس کا چین و سکون غارت ہوا ہے بلکہ جس شخص کو بھی دیکھیے دیوانہ اور مجنوں بنا

Read more

لفظوں کی رنگا رنگ کائنات

کسی دوست کی زبان سے مذاق مذاق میں نکلے ہوئے الفاظ بعض دفعہ گالی کی بھیانک صورت میں سامنے آتے ہیں اور کوئی حسینہ گل اندام جب تیغ بے نیام بن کر گالی دینے آتی ہیں تو وہ مذاق بن جاتا ہے۔ اول اول محبت کے نشے میں محبوبہ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ تبرک اور شفا بخش اثر رکھتا ہے لیکن جب بعد میں اسی محبوبہ سے شادی ہو جائے تو اس کے الفاظ سانپ بن کر ڈسنے لگتے ہیں۔

Read more

کہانی بے ذائقہ چاولوں کی

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کی اچانک قلت ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وقتی طور پر مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ یہ مشکل اچانک اور ایسے وقت میں پیش آتی ہے کہ انسان یہ سوچنے سے قاصر رہتا ہے کہ اب اس پر قابو پانے کی کیا تدبیر کی جائے۔ اگر شہر میں رات کو کوئی کھانے کی چیز ختم ہو جائے تو کمرے یا گھر سے باہر نکل کر میسر ہو جاتی ہے لیکن

Read more

بالی وُڈ فلموں میں مسلمانوں کی کردار کشی

ہندوستان کی فلم انڈسٹری کا شمار دنیا کی بڑی فلم انڈسٹریز میں ہوتا ہے۔ سالانہ بہت ساری فلمیں ایسی ریلیز ہوتی ہیں جو کروڑوں کا کاروبار کرتی ہیں۔ ان فلموں میں جہاں ایک طرف اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف مسلمانوں کی مسخ شدہ شبیہہ دکھانا عام بات بن گئی ہے۔ سال میں دس پندرہ فلمیں ایسی ضرور ریلیز ہوتی ہیں جن میں داڑھی رکھے، ٹوپی پہنے اور کرتا پاجامہ پہنے والے اشخاص کو دہشت گرد

Read more

فیس بک کی رنگا رنگ کائنات

فیس بک پر یاری دوستی کے علاوہ رشتے بھی بنائے جاتے ہیں۔ ہائے ہیلو سے بات چل نکلتی ہے اور اس کا اختتام ازدواجی بندھن پر ہوتا ہے۔ یہاں شادیاں بھی ہوتی ہیں اور بعض دفعہ دل بھی توڑے جاتے ہیں۔ ٹائم پاس کرنا، وقت ضائع کرنا ہو، مشہور ہونا ہو یا بدنام، ، چھیڑچھاڑ کرنی ہو، تفریح ہو یا اور کوئی مشغلہ اختیار کرنا ہو یہاں سب کچھ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ہر مرض کی دوا موجود ہے۔ یہی فیس بک ہے کہ اگر اس کا چسکا لگ جائے تو راتوں کی نیند حرام کر دیتا ہے اور اسی کی بدولت وقت کٹنے کا پتا نہیں چلتا۔ میاں فیس بک ہی ہے جو اپنے اندر علم کا سمندر رکھتا ہے اور فیس بک ہی ہے جو جہالت اور جھوٹ پھیلاتا ہے۔

Read more

بدلے ہوئے کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ نہیں ہے

جتنا وقت مسیج لکھنے میں لگتا ہے اس سے زیادہ وقت اسے ‘سینڈ’ کرنے میں لگتا ہے۔ اگر کوئی امیج یا وڈیو کسی کو بھیجنا ہو یا کسی کو کوئی ضروری ڈاکیومنٹ سینڈ کرنا ہو پھر تو دن بھر اسی کام میں صرف ہوتا ہے۔ اپلیکیشن اپڈیٹ کرنی ہو تو پورا پورا دن اسی کام کے لیے وقف رکھنا پڑتا ہے۔ فون اپڈیٹ پچھلے سال سے نہیں ہوئے۔ اس تیز رفتار دنیا میں ہم سے بڑا صابر کوئی نہ ہوگا جو صبر کرتے کرتے ایک منٹ کا معمولی کام ایک دن میں کرتے ہیں۔

Read more

بیماری اور خدا کی رحمت

مشاہدہ بتاتا ہے کہ جب کوئی کسی بھی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے صرف وہی افسردہ اور اداس نہیں ہوتا بلکہ اس کے گھر والے اور عزیز و اقارب بھی تشویش ناک صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اگر اللہ رب العزت کو اس کی روح ہی قبض کرنی ہے تو اللہ اسے اتنی اذیت اور پریشانی سے کیوں گزارتا ہے۔ شاید اس بندے سے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے۔ اللہ نہیں چاہتا کہ اس سے وہاں خطرناک اور وحشت ناک سزا دے۔ اس لیے دنیا میں ہی اس کو سزا دے کر وہاں اس کو جنت کا باشندہ بنائے گا۔ یہ بجا طور پر صحیح ہے لیکن نو زائیدہ بچوں نے کون سے گناہ کیے ہوتے ہیں؟ انہیں کیوں خطرناک بیماریاں دے کر دنیا میں آنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلایا لیا جاتا ہے؟ یقیناً اس میں اللہ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہو گی ورنہ سترہ ماؤں کے برابر محبت کرنے والی بابرکت ذات اپنے بندوں کو تکلیف اور ایذا کیونکر دے۔

Read more

اشعار اُن کے تبصرے ہمارے

کمال ہے کوئی شخص مرنے کے بعد کیسے یہ دیکھ اور جان سکتا ہے کہ وہ رسوا ہوا ہے۔ جاں بر شخص رسوا ہو جائے اور وہ اپنے ہوش و حواس میں ہو تو اس کو علم ہوتا ہے کہ وہ رسوا ہو رہا ہے۔ جان بحق شخص کے جسم پر مرنے کے بعد کیا کچھ بیتی ہے ، اس کا علم اسے نہیں ہوتا۔ لوگ تو پناہ مانگتے ہیں ایسے مرنے سے جس میں گھر والوں کو لاش نہیں ملتی۔ جس کو کفنانے کے بعد وہ دفنا نہ سکیں، یہاں غرق دریا ہونے کی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Read more

قوم کے معمار: ذہنی بیمار

ریاست جموں و کشمیر میں پڑھے لکھے بے روزگاروں کی ایک بڑی کھیپ ہائر ایجوکیشن میں عارضی طور تعینات ہو کر قوم کے مستقبل کو روشن کرتے رہے لیکن خود ان کا مستقبل تاریک کیا گیا۔ انہوں نے اپنی جوانی، زندگی کے حسین سال، بڑی محنت و مشقت سے، دھن دولت خرچ کر کے اور کئی طرح کی قربانیاں دے کر اعلی تعلیم پائی تھی اس امید کے ساتھ کہ ان کا مستقبل سنور جائے گا اور یہ اپنے بوڑھے

Read more

انٹرنیٹ امن کا دشمن ہے

ہمارے ہاں جمہوریت کی پاسداری کرتے ہوئے حق رائے دہی کا منظم پروگرام بنایا گیا تھا۔ اس پروگرام کی کامیابی کے لیے ہر ممکن اور غیر ممکن کوشش کی گئی۔ تشہیر، پرچار اور اعلانات تو بہت پہلے سے ہو رہے تھے کہ فلاں کو ووٹ دو وہ نوکری دے گا، بے روزگاری کا خاتمہ اور خوشحالی لائے گا۔ حال تو نہیں بدلا البتہ بے حال اکثر لوگ ہوئے۔ ایسے ہی بے وقوف بنانے کی مہم سات دہائیوں سے جاری ہے

Read more

ڈاکٹر ریاض توحیدی کے افسانوں میں کشمیر

ایک عہد میں چند ادیب ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں جو اپنی قابلیت اور صلاحیت کے بل پر ادب میں مشہور، فائز المرام اور قارئین کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ علم وادب کی دنیا میں اپنی منفرد اور الگ پہچان بنانا اور اپنے قارئین کا حلقہ وسیع تر کرنے میں محنت، مطالعہ، تخیل، فکروسوچ اور منفرد اسلوب چاہیے تب جاکے کامیابی و کامرانی اور تحریرات و تخلیقات ادب عالیہ میں شمار کرنے کے لائق ہوجاتی

Read more

جادو اور سحر کاری

‌دین ہمارا اوڑھنا بچھونا ہونا چاہیے تھا۔ ہماری طرز زندگی مثالی اور باقیوں کے لیے نمونہ ہونی چاہیے تھی لیکن ہم نے اس مقدس کتاب کو طاق پر رکھ دیا جو ہماری رہنمائی کرتی، ہمیں زندگی گزارنے کا صحیح ڈھنگ اور طریقہ سکھاتی۔ ہم مذہب اور مذہبی روایات سے کنارہ کش ہو گئے ہیں۔ جس پیڑ کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں وہ تیز آندھی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہماری جڑیں کمزور ہو گئی ہیں اس لیے ہمیں کوئی بھی بڑی آسانی سے بے وقوف بنا لیتا ہے۔

Read more

فون اور ڈیجیٹل عاشقی

موجودہ دور ڈیجیٹل دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں سائنسی ایجادات کی وجہ سے ایسی ایسی آسائیشیں اور آسانیاں آئی جن کا تصور کرنا بھی آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ جہاں بہت سارے میدانوں میں آسانیاں اور سہولیتیں آئیں وہی فون کی ایجاد سے عشق و عاشقی کے چکر میں پڑنا سہل اور آسان ہو گیا ہے۔ فون ایسے ایسے کارنامے انجام دیتا ہے جو پرانے وقتوں میں سو قاصد بھی مل کر انجام

Read more

آدمی انسان نہ رہا۔

اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا منصب عطا کیا ہے۔ اسے بہت سارے اوصاف اور کمالات سے مزین کیا ہے۔ اس میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیاں بھی موجود ہیں۔ ایک طرف اس میں وہ گن رکھے کہ یہ دوسروں کے کام آتا ہے، نیکی کرتا ہے، خلائق کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے پر فدا اور قربان ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہیں دوسری طرف یہی انسان اولیا الشیطان بن جاتا ہے۔

Read more

ڈریم ایلون اور امیری کے خواب

ہر شخص کو امیر بننے کی چاہ ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہ محنت نہیں کرتا بلکہ قلیل مدت میں اپنے خوابوں کی تعبیر چاہتا ہے۔ کوئی لاٹری میں اپنی قسمت آزماتا ہے، تا کہ اپنے دیکھے ہوئے سپنوں کو، جن میں وہ سیٹھ اور لکھ پتی ہو گیا تھا، حقیقت کا روپ دیں، تو کوئی مختلف پروگراموں میں حصہ لے کر کروڑ پتی بننا چاہتا ہے۔ کروڑ پتی تو ہر ایک نہیں بنتا، ہاں مگر مرد، پتی پرمیشور کے سنگھاسن پر ضرور بیٹھ جاتے ہیں۔ جوا بھی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے کھیلا جاتا ہے۔

زمین، جائیداد اور گھر ہار کر بھی یہ لت اسے نہیں چھوٹتی اور وہ لگاتار اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ کسی نا کسی دن جیت اس کے گلے کا ہار بن جائے گی۔ اس بد فعلی میں پڑ کر بد نامی، رسوائی اور جواری جیسے طعنوں کا سامنا بھی رہتا ہے۔ امیر بننے اور زر کے حصول کے لیے انسان ہر رکاوٹ اور روڑے (پتھر) کو دور کرتا ہے۔ وہ صرف چاہتا ہے کہ پیسے آئے، جس کے لیے وہ طریقوں کی پروا نہیں کرتا۔ جائز یا نا جائز طریقوں سے وہ صرف اپنی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے۔

Read more

گھر میں مہمان

گھر میں مہمان آنے کی نوید کے بعد گھر میں جو افراتفری مچتی ہے، اس کا اندازہ چند اہل ذوق ہی لگا سکتے ہیں۔ بے وقوف اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بے وقوف مہمان کی آمد کو بھی باقی معاملات کی طرح ہنسی میں اڑا کر، مست اور تندرست رہتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی بے وقوف کو پریشانی اور ڈپریشن کا شکار دیکھا، نا ہی کوئی بے وقوف غمگین، اداس اور زندگی سے مایوس ہوتا ہے۔ حتٰی کہ خود کشی کرنے کا خیال بھی عقل مند ہی کو آتا ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی، گھر میں مہمان آنے کی، ہم بھی کہاں بے وقوفوں کی وادی میں سیر کرنے کو نکل آئے۔

گھر میں ابھی مہمان نہیں آتا، صرف مہمان کے آنے کی خبر آتی ہے کہ گھر کی عورتیں صفائی کرم چاری کے جون میں آتی ہیں، بکھری چیزوں کو ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔ چیزوں کا میل نکال کر انہیں صاف ستھرا اور چمکایا جاتا ہے، بچوں کو نہلا دھلا کر بیٹھنے کے لیے الگ کمرا دیا جاتا ہے، کھانے کی چیزوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پھل اور میوہ جات کو نزاکت سے کاٹ کر رکھا جاتا ہے۔ دودھ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جوس کا اسٹاک وافر مقدار میں رکھا جاتا ہے۔ روٹی، شکر، کھٹی اور میٹھی چیزوں کے ذخیرے پہ نظر ڈالی جاتی ہے۔ غرض سارے بست و کشاد کو نظر غائر سے دیکھا جاتا ہے۔

Read more

گھر میں رہنے کے مسائل

جب سے وبا نے باہر گھومنا شروع کیا انسانوں نے کھڑکیاں کواڑ بند کر کے خود کو چار دیواری میں قید کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ گھر میں خود کو محصور کرنے کے فوائد سے قطع نظر نقصانات کو دیکھیے انسان اور زیادہ پریشانی کے نزدیک جاتا ہے۔ گھر بہت سارے افراد پہ مشتمل ہوتا ہے اور ایک دوسرے کی شکل کے ساتھ ساتھ عقل اور نظریے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ گھر کے افراد ہر وقت آس پاس ہی رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جو چیز چوبیس گھنٹے آنکھوں کے سامنے رہتی ہے اس سے نفرت ضرور ہو جاتی ہے۔

Read more

باتیں ہیں باتوں کا کیا

ہمیں اس مغالطے میں رکھا گیا کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ جتنے منہ اتنی ہی باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس سے تین چار سو گنا زیادہ ہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر منہ ایک لاکھ ہیں تو کم سے کم دس پندرہ لاکھ باتیں تو ہوں گی۔ لوگ کہیں گے ’باتیں ہیں باتوں کا کیا‘ لیکن حضور یہ بھی سچ ہے کہ سب کچھ باتوں سے ہی ہوتا ہے۔ بنا ہاتھ ہلائے باتوں سے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا

Read more

بچوں والی عصمت

منٹو سے کسی نے پوچھا تھا کہ عصمت نے آپ سے شادی کیوں نہیں کی۔ منٹو اور عصمت یہ دونوں ہستیاں مل جاتیں تو الگ ہی افسانوی دنیا بس جاتی۔ میں یہی سوال اپنے عزیز دوست شعبان سے کرتا ہوں کہ عصمت نے آپ سے شادی کیوں نہیں کی؟ شعبان اور عصمت شادی کے بندھن میں بندھ جاتے دونوں کی زندگی خوشگوار ہوتی۔ یہ میری سوچ ہے کہ دونوں خوش رہتے وجہ یہ ہے کہ دونوں نے بچپن اکٹھے گزارہ،

Read more

خواتین اور مدیران کی طرفداریاں

صنف نازک میں اللہ تعالی نے کشش رکھی ہے۔ ساٹھ کا ہو یا آٹھ کا، ہر مرد ان کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ مرد کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو صنف نازک کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ہر وہ کام کر گزرتا ہے جس سے اس کی مراد بر آئے۔ مرد منسٹر ہو، استاد ہو، ڈاکٹر ہو، وکیل ہو یا کسی اور شعبے یا محکمے سے وابستہ ہو صنف نازک کو خاص رعایت اور توجہ دیتا ہے۔ مدیر حضرات اس سے مستثنیٰ نہیں۔ وہ صنف نازک کے تئیں زیادہ ہی جذباتی اور ان کے طرف دار نظر آتے ہیں۔

اگر ان کے پاس دو تحریریں آجاتی ہیں، ایک پہ امین خان لکھا ہو اور دوسری پہ امراؤ جان وہ امراؤ جان کو ہی اولیت و فوقیت دے دیتے ہیں۔ اگرچہ امین خان کی تحریر بنسبت امراؤ جان کے زیادہ شاندار اور جاندار ہی کیوں نہ ہو۔ پھر بھی ترجیحی بنیادوں پر امراؤ جان کی تحریر شائع ہو جاتی ہے۔ آپ بدگمان نہ ہوجائیں میرا مدعا و مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کوئی شاعرہ اچھی شاعری نہیں کرتی یا کسی ادیبہ کا قلم زنگ آلود ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اردو ادب میں قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، بانو قدسیہ، واجدہ تبسم، جیلانی بانو، شکیلہ اختر، جمیلہ ہاشمی، رضیہ بٹ، رشید جہاں، ہاجرہ مسرور، پروین شاکر، ادا جعفری اور عنبر حسیب عنبریں کی تحریریں و تخلیقات چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتیں ہیں کہ یہ تحریریں اور تخلیقات نہ صرف بہترین تخلیقات ہیں بلکہ ان کا شمار ادب عالیہ میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں بھی صنف نازک کی اچھی خاصی تعداد ایسی ہیں جن کی تخلیقات کو بہترین، شاندار اور اعلی ترین کا درجہ حاصل ہے۔ ان ادیباؤں کی تحریریں کسی بھی ادیب کی لکھی ہوئی تحریروں سے کم نہیں۔ ہاں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مدیر حضرات مرد لکھاریوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے، البتہ صنف نازک کی کوئی تحریر ان کی نظر سے گزرنے کی دیر ہوتی ہے کہ اس کو رعایتی نمبر دے کر بڑے اہتمام کے ساتھ اولین فرصت میں پہلے شمارے اور اولین صفحے کی زینت بنایا جاتا ہے۔

Read more

کشمیر میں سب کچھ ہے پیارے

کہساروں، آبشاروں، مرغزاروں، پہاڑوں، بیابانوں، کھلے میدانوں، دلفریب نظاروں کے علاوہ یہاں خراب حالات اور افراتفری ہے۔ یہاں سیاست دان زیادہ ہیں یا بہاری، وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سیاست دانوں اور بہاریوں میں ایک مطابقت ہے کہ دونوں استحصال کرتے ہیں، سیاست دان عوام کا اور بہاری یہاں کے مزدور طبقے کا۔ جس طرح کام کے لحاظ سے بہاریوں کی سو قسمیں ہیں اسی طرح یہاں کے سیاست دان بھی کئی اقسام کے ہیں :۔ 1۔

Read more

ایک خط انٹرنیٹ کے نام

انٹرنیٹ میاں سلام۔ آنکھ مچولی کا کھیل کوئی تم سے سیکھے۔ چھپنا، غائب ہونا، روٹھنا، اچانک چلنا اور اچانک ہی بند ہونا تمہارے مشغلے ٹھہرے۔ تم نے یہ یہ کیا کھلبلی مچا رکھی ہے۔ دن چڑھے چلتے ہو دوپہرہ تک آتے آتے بند ہو جاتے ہو۔ بند ہونے سے پہلے یہ تک نہیں بتاکر نہیں جاتے کہ کہاں جا رہے ہو اور واپس کب آؤ گے۔ سیاست دان تو خواہ مخواہ بدنام ہیں ان پہ بھروسا کسی حد تک کیا

Read more

ایک خط: کشمیر میں چلتی گولی کے نام

ننھی گولی سلام آج تیرے دادا دھماکہ خان نے پورے شہر پہ لرزہ طاری کر دیا۔ نقصان اور لاشیں دیکھ کر فوراً تو یاد آئی۔ توروز ہی چلتی تھی مگر اتنا نقصان تو نے کبھی نہ کیا، لیکن تیرا دادا بڑا سفاک نکلا تجھ سے بھی بڑ کر۔ وہ بڑے ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ تو چھوٹی تھی تجھے ایسی حرکتیں شوبھا نہیں دیتی۔ تو بھی اپنے دادا کی طرح نقصان کرتی ہے۔ ہرے بھرے اور ہنستے مسکراتے گھروں

Read more

کرونا، آن لائن کلاس اور انٹرنیٹ

کرونا وائرس نے جو دنیا کی حالت کی ہے اس سے کون واقف نہیں۔ جہاں اس عالمی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہاں یہ مضر جان بیماری کشمیر میں بھی موجود ہے۔ کشمیر میں اس بیماری نے خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ ابھی تک اکتیس افراد کو موت کے حوالے بھی کیا ہے۔ کشمیر کے ہر ضلع میں کوئی نا کوئی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ اس سے ہر فرد گھر کے حصار

Read more