سمیع چوہدری کا کالم: کراچی جیتے یا لاہور، نمبر ون ہے کوئی اور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس وقت خوشدل شاہ ملتان کی امیدوں کا آخری سہارا بنے کریز پر ڈٹے ہوئے تھے اور ٹیم کے پلے صرف تین وکٹیں رہ گئی تھیں، تب ڈریسنگ روم کے دریچوں سے ایک ملول سا چہرہ جھانکتا دکھائی دیا۔

اس ملول چہرے اور اداس آنکھوں میں کئی ’کاش‘، کئی ’اگر‘ اور کئی ’مگر‘ چھپے ہوئے تھے۔

شان مسعود کے چہرے سے اداسی کیوں ٹپک رہی تھی؟ اس پہ کئی قیافے لگائے جا سکتے ہیں۔

مگر یہ کوئی قیافہ، تخمینہ یا اندازہ نہیں ہے کہ ملتان سلطانز کی فرنچائز اپنے مختصر سے کیریئر میں پہلی بار ٹائٹل کے اتنے قریب پہنچی اور یوں اسے ہاتھوں سے پھسل جانے دیا۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور بمقابلہ ملتان: ’لالہ آئی ایم سوری‘

کیا ڈیرن سیمی کی دل گرفتگی زلمی کو لے ڈوبی؟

لاہور قلندرز: ’رانا صاحب پہنچ تو گئے ہیں، بس واپس نہ جانا پڑے‘

اصطلاحی اعتبار سے ملتان کی ٹیم اس بار ٹورنامنٹ میں ‘انڈر ڈاگ’ کے طور پہ داخل ہوئی تھی۔ یہ ٹیم نہ تو عمومی شائقین کے لیے ہاٹ فیورٹ کا درجہ حاصل کر پائی اور نہ ہی کرکٹ ماہرین کی پیش گوئیوں کا حصہ بنتی۔

لیکن جوں جوں سیزن آگے بڑھا، اپنی تزویراتی حکمتِ عملی اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ منصوبہ بندی کے سبب سبھی توقعات اور خدشات کو روند کر آگے نکلتی گئی۔

پلے آف راؤنڈ کے یہ دو میچز نکال کر دیکھیں تو سلطانز وہ ٹیم ہے کہ جس نے سیزن ملتوی ہونے سے پہلے اپنے تمام مکمل شدہ میچز میں جیت ہی حاصل کی۔ اسے ایک بار بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

جس مومینٹم یا روانی کے ساتھ یہ ٹیم ٹورنامنٹ میں آگے بڑھ رہی تھی، اگر کورونا التوا کا باعث نہ بنتا تو ملتان کے ٹائٹل جیتنے کے حقیقت پسندانہ امکانات نوّے فیصد سے زائد تھے۔ مگر کورونا کو آنا تھا اور سیزن کو ملتوی ہونا تھا، سو ہوا۔

کورونا کے بعد جب سیزن کو ایک محدود سی ونڈو میں ایڈجسٹ کیا گیا تو کہیں نہ کہیں نقصان تو ہر ٹیم کو ہوا۔ بیرون ملکی کھلاڑیوں کی آمد اور میچز کے آغاز میں وقفہ اس قدر نہیں تھا کہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترتے۔

اس سے بھی زیادہ نقصان دہ یہ وقفہ ان ٹیموں کے لیے ثابت ہوا جن کی سابقہ فتوحات میں نمایاں حصہ سینئیر یا عمر رسیدہ کھلاڑیوں کا تھا۔

ملتان کی بات کریں تو محمد عرفان اور شاہد آفریدی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو ملتان کی حالیہ فتوحات میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔

مگر طویل غیر حاضری اور باقاعدہ کرکٹ کی عدم موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایسی مضر ثابت نہیں ہوئی جیسی محمد عرفان اور شاہد آفریدی جیسے سال خوردہ کھلاڑیوں کے لیے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ کھلاڑی وہ ردھم حاصل نہیں کر پائے جو روٹین کے سیزن میں ان کی کارکردگی میں جھلک رہا تھا۔

درحقیقت جب کوالیفائر میں ملتان نے جنید خان کو بینچ پہ بٹھا کر محمد عرفان کو کھلانے کا فیصلہ کیا تو یہ خاصی اچنبھے کی بات تھی۔ کیونکہ آٹھ ماہ کی غیر حاضری کے بعد دونوں میں سے کون زیادہ فٹ ہو گا، یہ جاننے کے لیے کسی انعامی کوئز شو کی ضرورت نہیں۔

کل شب کے میچ میں شان مسعود نے اپنی اسی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی اور اپنا فیصلہ بدل کر جنید خان کو الیون میں لائے۔ مگر جو ٹیم ایک بار مسلسل فتوحات کی پٹری سے اتر کر شکست کے رہ چلی تھی، وہ اتنی جلدی واپس کیسے لوٹتی؟

ملتان سلطانز کے لیے یہ سیزن ہر لحاظ سے خوابناک رہا۔

پہلے وہ کسی شمار قطار میں نہ تھے لیکن سب کو حیران کر کے رینکنگ ٹیبل کے پہلے خانے میں جا بیٹھے۔ پھر جب سبھی نگاہیں ان پہ مرکوز تھیں تو اپنے ہی اندازوں سے مات کھا گئے۔

قسمت بھی ایسی یاوری کسی کسی کی کرتی ہے۔ کوالیفائر ٹائی ہونے کے بعد بھی ملتان کو ایک اور موقع ملا مگر سپر اوور بھی ان کی قسمت بدل نہ پایا۔ کل شب ایک اور موقع شان مسعود کی ٹیم کا منتظر تھا مگر وہ بھی ان کے ہاتھ سے پھسل گیا۔

اس میچ نے بہر حال پی ایس ایل کو وہ تاریخی فائنل میچ دے دیا ہے جو شائقین کی دھڑکنوں کو تیز کر ڈالے گا۔ مگر کل کا فائنل خواہ کراچی جیتے خواہ لاہور، شان مسعود کی ٹیم پھر بھی ٹیبل کے پہلے خانے میں ہی رہے گی۔

یہ بات سلطانز کے لیے قابلِ فخر تو ہے ہی مگر دوسری جانب یہی بات تکلیفدہ کس قدر ہو گی کہ آپ پہلے نمبر پہ ہو کر بھی ٹرافی نہ اٹھا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16602 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp