مڈل کلاس ہمیشہ مڈل کلاس کیوں رہتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مڈل کلاس طبقہ ہمیشہ اپر کلاس اور لوئر کلاس کے درمیان ایک عجیب سی کیفیت میں رہتا ہے۔ نہ تو اپر کلاس والی سہولیات حاصل کر پاتا ہے اور نہ ہی لوئر کلاس کے ساتھ میل کھاتا ہے۔ غریب لوگ اسے اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں اور امیر لوگ اسے اپنے سے کم سمجھتے ہیں۔ اور یہ کلاس سب سے زیادہ ملازموں اور نوکری پر مشتمل ہے۔ مڈل کلاس ہمیشہ پڑھ لکھ نوکری کے حصول کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ ساری زندگی نوکری کر کے کچھ پیسے بنائے جاتے ہیں اور پھر ان پیسوں سے گھر بنا کر بیٹے بیٹیوں کی شادی کردی جاتی ہے اور کہانی پھر صفر سے سٹارٹ ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ مڈل کلاس آخر ہمیشہ مڈل کلاس ہی کیوں رہتا ہے ہمیشہ ایسی ہی گومگو کی حالت میں کیوں رہتا ہے۔ پاکستان کی آبادی 60 فیصد سے زائد مڈل کلاس پر مشتمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مڈل کلاس کے سوچنے کا انداز ہی اس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ مڈل کلاس پیسے کے بارے میں اور معاشی خوشحالی کے بارے میں بہت غلط تصورات رکھتے ہیں۔

میں یہاں پر چند نکات کا ذکر کرتا ہوں جو اس کلاس کے بنیادی مسائل ہیں اور ان کو ختم کر کے کوئی بھی انسان ترقی کر سکتا ہے۔

سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ مڈل کلاس اثاثے اور مالی بوجھ کے درمیان فرق نہیں سمجھتے۔ مثال کے طور پر ایک بندہ ساری زندگی نوکری کر کے جب اپنا پراویڈنٹ فنڈ جسے عرف عام میں حق حقوق کہتے ہیں حاصل کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی سب سے پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مکان بنا لے اور اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادی کرا لے۔ مصیبت یہ ہے کہ مکان کو اثاثہ سمجھا جاتا ہے ہے اور ان کو بڑی خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے پاس پچاس لاکھ کا یا ایک کروڑ کا گھر ہے۔

حقیقت میں چاہے وہ گھر 50 کروڑ کا بھی ہو جب اس سے ایک روپیہ بھی ماہانہ آمدن نہیں ہو رہی بلکہ اس کے اوپر خرچہ ہی ہو رہا ہے تو وہ اثاثہ نہیں بلکہ مالی بوجھ ہے صرف ریت کا ایک ڈھیر ہے۔ اپر کلاس یا بزنس مین طبقہ پیسوں کو پہلے انویسٹ کرتا ہے ان سے مزید پیسہ نکالتا ہے اور ان پیسوں سے اپنے لئے آسائشیں پیدا کرتا ہے۔

مڈل کلاس پیسے اور کاروبار کے بارے میں انتہائی غلط نظریات رکھتے ہیں اگر کوئی بندہ کاروبار کرنا بھی چاہے تو یہ کہا جاتا ہے یار ہم نے کبھی کاروبار نہیں کیا ہمیں تجربہ نہیں وغیرہ وغیرہ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کاروباری طبقہ بھی ماں کے پیٹ سے کاروبار کرنا سیکھ کر نہیں آتا۔ ملک ریاض بھی اسی دنیا میں بنتا ہے ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتا۔

کاروبار کے لیے محنت کرنی پڑتی ہیں اور وہ سب لوگ کرتے ہیں۔ مڈل کلاس کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس مالیاتی تعلیم بالکل نہیں ہوتی۔ اور یہ اپنے بچوں کو بھی اس تعلیم سے محروم رکھتے ہیں۔ بلکہ ہمیشہ اپنے بچوں کو صرف کتابی کیڑا بنانے اور اچھے نمبر لے کر کے کالج یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ڈگری کرنے پر زور دیتے ہیں تاکہ پھر یہ اچھے ملازم بن سکیں۔

اگر بچہ پڑھائی کے ساتھ کوئی کام کرنا چاہے تو بڑی سختی سے اسے منع کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ ایک بزنس مین اپنے بچے کو سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار گھر سے سکھانا شروع کر دیتا ہے اور اسے حقیقی دنیا کا تجربہ کراتا ہے۔

یہاں پر میں بہت آسان مثال دیتا ہوں اسٹاک ایکسچینج ایک بہت بہترین بزنس ہے جو کہ سب سے زیادہ آسان اور کم محنت مانگتا ہے۔ آپ اس کے بارے میں اگر کسی ملڈل کلاس بندے سے بات کریں گے تو وہ یہ کہے گا اسٹاک ایکسچینج ایک جوا ہے اور یہ ہمارے بس کا روگ نہیں۔ جبکہ ایک انویسٹر اپنے 15 سالہ بچے کو بھی سٹاک مارکیٹ میں لے آتا ہے اور پھر اس کا بچہ بھی ایک ٹیکسٹائل مل کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ مثال نہیں حقیقی کہانی ہے اس بندے کا نام جواد حفیظ ہے۔

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مڈل کلاس کا ڈر اور خوف کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور ہلکا سا رسک لیے بغیر کامیابی ملنا قانون فطرت کے ہی خلاف ہے۔ حالانکہ نوکری میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا کتنی فیکٹریاں بند ہو جاتی ہیں اور لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ میں تو خود اس کی زندہ مثال ہوں۔

اس کے علاوہ ایک بہت ہی غلط سوچ مڈل کلاس میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے کہ جتنے بھی امیر لوگ ہیں یہ سب بے ایمانی سے یا قسمت کے چکر سے ہوئے ہیں یا جدی پشتی امیر ہیں۔ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے اول تو بہت سارے ایماندار کاروباری ہیں جنہوں نے بڑی محنت سے اپنا کاروبار چمکایا۔ جن میں لاہور کا فالودہ والا، خوشآب کا ڈھوڈے والا، اور امین کپڑے والا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہر کاروباری شخص نے شدید محنت کی ہوتی ہے۔

میں آپ کو ملک ریاض کی مثال دیتا ہوں آپ لوگ کہیں گے کہ اس کے پاس سیاسی طاقت ہے قبضہ کرتا ہے سفارش کرواتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ یہ سارے معاملات اس وقت ہوئے جب اس کے پاس پیسہ آ گیا ایک وہ وقت بھی تھا جب اس کے پاس پیسہ نہیں تھا تب اس نے صرف اپنی محنت کے بل پر یہ پیسہ کمایا۔ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ ملک ریاض کا باپ جدی پشتی جاگیر نہیں تھا۔

مختصر بات یہ ہے کہ پیسے کے بارے میں غلط سوچنا اور مالیاتی تعلیم سے خود کو ناواقف رکھنا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور پھر قدم بڑھانا انڈے سے باہر سر نکالنا مڈل کلاس کے لئے قریباً ناممکن ہے مگر اس کے بغیر کامیابی بھی ممکن نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •