ایک شدید جذباتی کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ ارض پاک کا ایک سچا واقعہ۔ ذکر ہے جنرل ضیا الحق کے سُنہرے زمانے کا۔ ایک صاحب وزیر ہو گئے۔ موصوف اپنے گھر میں بیٹھے دین دُنیا کے مزے لوٹ رہے تھے۔ اُن کے ملازم نے اطلاع دی کہ آپ کے گاوں سے ملاقاتی آیا ہے۔ صاحب نے اُسے اندر بھیجنے کا حکم دیا۔ مُراد، جہاں وہ بیٹھے تھے، جیل والے اندر نہیں۔ گاؤں میں سب لوگ ہی ایک دوسرے کے واقف بلکہ دوست ہوتے ہیں، جب تک کام نہ پڑے۔ لیکن یہ مُلاقاتی واقعی وزیر صاحب کا بچپن کا دوست تھا۔ صاحب نے پوچھا کہ کوئی کام وام ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ وہ اسلام آباد سے گزر رہا تھا۔ پُرانے دوست سے ملنے کو جی چاہا تو وہ آ گیا۔ (اس سے ایک ضمنی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ پُرانے کا مطلب صرف سرتاج عزیز نہیں ہوتا، کوئی بھی شخص پُرانا دوست ہو سکتا ہے)۔

وزیر صاحب مزید خوش ہوئے اور فرمایا کہ وہ گاوں کا پہلا فرد ہے جو بغیر کسی کام کے اُن سے ملنے آیا ہے۔ آدھا گھنٹہ گپ شپ لگانے کے بعد اُس مردِ عاقل نے جانے کی اجازت مانگی اور چلتے چلتے وزیر کے کان میں سرگوشی سی کی کہ او مُنڈیاں توں ذرا چول وج گئی اے۔ ترے بندے لاھ چھڈے نیں۔ بس تُسی ذرا دھیان کرو تے کم ایڈا اوکھا نہیں۔ (لڑکوں سے تھوڑی سی بیوقوفی ہو گئی ہے۔ ان کے ہاتھوں تین افراد قتل ہو گئے ہیں۔ اگر آپ مہربانی فرمائیں تو اس معاملے کا رفع دفع ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں)۔

وزیر صاحب اس واقعے کو بڑے دلچسپ اندازسے سُنایا کرتے تھے۔ اس کے بعد ان کا تبصرہ ہوتا تھا کہ ساڈے آل تے جیہڑا بغیر کم توں آندا اے، ترے قتل تے اوہدے وی نکل آندن۔ (جو ہم سے بغیر کسی کام کے ملنے آتا ہے، تین افراد کے قتل کی واردات کرنے والوں کی سفارش تو اسے بھی کرنا ہوتی ہے)۔ قتل کی وجہ بھی بڑی منطقی اور دل کو چھو لینے والی ہوتی ہے۔ جذبات میں آ جانا۔

اگر کسی فرد، ادارے یا ریاست نے مندرجہ بالا سچے واقعے کو جنرل باجوہ کے عظیم کارنامے سے ملانے، تھوڑی بہت مماثلت تلاش کرنے یا کوئی بیانیہ تلاش کرنے کی کوشش کی تو ہم اُسے، اِس دنیا اور اُس دنیا، ہر دو میں ہرگز ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ یہ ہم جنرل (ر) عاصم باجوہ کے پاپا جونز والے شاہکار کا ذکر نہیں کر رہے۔ حالانکہ اُس میں بھی محنت، کڑی محنت اور اُس کے میٹھے پھل کے سوا کوئی کہانی نہیں ہے۔ لیکن ہم لوگ، بلکہ سارے کا سارا جنوبی ایشیا ہے ہی حسد اور جلن کا مارا۔ اس بات سے سبق نہیں سیکھتے کہ کیسے ارب پتی بنا جا سکتا ہے۔ بس بیٹھ کر کیڑے نکالتے ہیں اور کوئی کام ہی نہیں۔

بہرحال، ہماری تمام تر تعریف جنرل قمر باجوہ کے بے مثال اور برق رفتار فیصلے کے لیے ہے۔ یوں منٹوں میں (دس، پندرہ دن، ایسے معاملات میں منٹوں ہی کی حیثیت رکھتے ہیں)، کالے اور سفید کو الگ الگ کر کے دکھا دینا اور اس کا اعلان بھی کر دینا۔ ہر جنرل کے بس کی بات نہیں۔ جناب ندیم ملک نے تو سما ٹی وی کے پروگرام میں یہاں تک تصدیق کی ہے کہ  تمام جذباتی نوجوانوں، سوری، جذباتی افسران کو نوکری سے بھی نکال دیا گیا ہے۔ لیکن کچھ ایسے ناشکرے، وطن دشمن، مودی کے یار اور قومی بیانیے کو نہ ماننے اور سمجھنے والے غدار بھی موجود ہیں جو تعریف و تحسین کے ڈونگرے، ٹوکرے اور باغ لٹانے کی بجائے حرفِ انکار زبان پر لاتے ہیں۔

ریجیکٹڈ بھی انہی لوگوں کی ایجاد ہے۔ اپنی اوقات نہیں پہچانتے کہ یہ فقرہ یا لفظ صرف  ایک ماتحت محکمہ اور اس کے حفظِ مراتب سے بلند افسران ہی بول سکتے ہیں۔ اور تو اور یہ لوگ عجیب وغریب سوالات بھی شروع کر دیتے ہیں۔

کبھی کہتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو ووٹ کو عزت دو اور مادرِ ملت زندہ باد سُن کر جذباتی ہو جاتے ہیں؟ اُن کا دیدار تو کرواؤ۔ (اس فقرے کا پنجابی اہلِ زبان خود ترجمہ کر لیں) پھر پوچھتے ہیں کہ کہ اُن کی تربیت اور ٹریننگ کہاں ہوئی ہے کہ وہ جذباتی ہو جاتے ہیں۔ اورجذباتی ہو کر آئی جی اغوا کر لیتے ہیں۔ حالانکہ ایسے لوگوں سے ہرگز ہرگز ابن صفی کا قاری ہونے کی اُمید نہیں ہوتی، نہ ہے۔

اس خبر کو ان جذباتی افسران کو تربیت دینے والوں سے بھی چھپانا چاہیے کہیں وہ جذباتی ہو کر خودکشی نہ کر لیں کہ ہم نے ایسا کب سکھایا پڑھایا تھا کہ آئی جی کو اغوا کیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی جب تک اُن مجرمان کا نام، پتہ، عہدہ اور تجربہ نہیں بتایا جاتا، جنرل قمر باجوہ کے بیان پر خوشی کا اظہار صرف کوئی بلاول بھٹو ہی کر سکتا ہے۔ اصل میں یہ لوگ ہیں ہی ایسے!عسکری فہم و فراست، دانش و حکمت  کو نہ ماننے والے اور نام پوچھنے والے!

لیکن جنرل صاحب، دو باتیں تو آپ کا یہ فدوی بھی پوچھنا چاہتا ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ جن افسران نے اس گندے فعل میں عملی طور پر حصہ لیا ہے۔ اُن کا نام، پتہ بتا کر انہیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔ یہ سوال پھر بھی موجود رہے گا کہ اس واردات کے پیچھے اصل میں کون کون ہے؟ وجہ یہ کہ جن جذبات پر اس انکوائری کا فیصلہ سُنایا گیا ہے، وہ اسلام آباد یا راولپنڈی میں ہی  ہو سکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ کسی بھی شہری یا سرکاری ملازم کو اغوا کرنے کی سزا تعزیراتِ پاکستان میں موجود ہو گی۔ تاہم آئی جی کا اغوا معمول کا واقعہ نہیں۔ ریجیکٹیڈ کے بعد یہ دوسری بڑی واردات ہے۔ اس امر

 کو زور دے کر جتانے کی کہ ہو از دی باس۔ اصل مالک کون ہے! اس رحجان کو فوج، آئی ایس آئی نیز رینجرز میں فوراً دبانے بلکہ اس کی بیخ کنی کی ضرورت ہے۔ ورنہ ایک دفعہ پھر ہمارے ملک میں  مظاہرہ ہو گا؟ وہی لگا رہ کا مظاہرہ جوجعلی فیلڈ مارشل کے زمانے سے ہو رہا ہے؟ ویسے اب ڈر دو باتوں سے لگتا ہے۔ کہیں خود لکھنے والا جذباتی نہ ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ کہیں پڑھنے والا، کوئی افسر جذباتی نہ ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •