سکندر اعظم کی عظمت رفتہ کے دو مجاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ سکندر نے اپنے عہد کی معلوم آدھی دنیا فتح کر لی تھی۔ اس کی حکومت یونان سے موجودہ پاکستان تک قائم ہو گئی تھی۔ وہ ملتان میں ایک جنگ میں اسی مقام پر زخمی ہوا جو ’خونی برج‘ کہلاتا ہے۔ واپسی پر جواں سال سکندر کو گوادر کے مقام پر ملیریا ہوا اور وہ راستے میں ہی اس بیماری کی وجہ سے دار فانی سے کوچ کر گیا۔ اہل یونان ایک عہد کی غالب ترین قوم تھے۔ ان کے پاس ارسطو اور سقراط جیسے عظیم فلسفی اور سکندر جیسے عظیم فاتح تھے مگر پھر یونان کی عظمت، فوجی قوت اور علمی برتری رفتہ رفتہ ختم ہو گئی۔

پھر اہل روم غالب آ گئے وہ بھی اپنے مذہب اور رویوں میں اہل یونان ہی کی طرح تھے مگر فلسفیانہ طور پر کم تر تھے، پھر عیسائیت کے فروغ کے بعد وہ تمام علاقے جو کبھی یونان اور رومہ کا حصہ تھے، عیسائی ہونے لگے اور قیصر روم قسطنطین (Constantine) کے قبول عیسائیت کے بعد یہ تمام علاقے عیسائیت کے زیر اثر آ گئے اور قدیم یونانی و رومی مذہب اور فلسفہ پس پشت چلے گئے۔ اب طاقت کا مرکز استنبول تھا۔ یہ شہر دراصل قیصر روم قسطنتین کے نام سے ہی آج تک موسوم ہے۔

اب یہ لوگ بازنطینی کہلائے۔ پھر سلطنت روم بھی دولخت ہو گئی، مشرقی بازنطینی غلبے میں تھا اور مغربی حصہ موجودہ اطالیہ، جرمنی اور فرانس وغیرہ پر مشتمل تھا۔ مشرقی سلطنت رومہ نے قوت حاصل کرنی شروع کی اور ایشیا کوچک (اناطولیہ) اور شام و مصر وغیرہ پر قابض ہو گیا۔ رومہ کی پنجہ آزمائی اپنے پیش رو سکندر کی ہی طرح اہل فارس سے ہوتی رہتی۔ فوجی طاقت تو اب بھی اس مملکت کو حاصل تھی مگر نہ سکندر جیسی قوت تھی اور نہ ہی ارسطو اور افلاطون جیسے اہل علم۔

اسلام کی آمد کے بعد بازنطینیوں کا زوال شروع ہوا اور ان کے علاقے اسلامی سلطنت کا حصہ بنتے چلے گئے۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں ہی شام اور مصر اور سائپرس تک اسلامی خلافت پہنچ گئی۔ امیر معاویہؓ نے استنبول کی فتح کے لئے لشکر بھیجا مگر اسلامی لشکر اس مشکل شہر کو فتح نہ کر پایا۔ یہ شہر اس کے بہت بعد عثمانی ترکوں نے فتح کیا اس کے بعد یہ شہر اہل اسلام کا دارالحکومت بن گیا۔ مسلمان یہاں تک ہی نہیں رکے بلکہ رفتہ رفتہ مشرقی یورپ کے بہت بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔

سکندر کی جائے پیدائش مقدونیہ پورا یونان، ہنگری، پولینڈ بلکہ ویانا تک مسلمان ترک پہنچ گئے۔ خیر ویانا کا محاصرہ تو سلطان سلیمان قانونی کے لئے فتح کی نوید نہ لا سکا، بہر حال تقریباً 400 سال تک مشرقی یورپ کے بہت سے علاقے مسلم اقتدار میں رہے، خاص طور پر وہ تمام علاقے جو سکندر کے زیرنگیں تھے۔ آج یونان ایک جمہوریہ ہے۔ یہ ملک یورپ کی کمزور ترین معیشت کا درجہ رکھتا ہے۔ فکر و فلسفہ اور علم کے وہ قدیم خزانے بھی اب قصہ پارینہ ہیں۔ اس کمزور معیشت اور سیاسی عدم استحکام سے پر ملک کے پاس جو واحد سرمایہ ہے وہ اس کی تاریخ ہے اور محض اسی سے اس کی آمدن منسلک ہے۔ تاریخ کی مجاوری سے روٹی کمانے والے اس ملک میں نوجوانوں کے لئے سیاحوں کا گائیڈ بن جانا، ہوٹل اور ریستوران چلانا اور اسی نوع کے دیگر پیشے ہی روزگار کے سب سے زیادہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ویسے تو اس وطن میں پیگن، عیسائی، یہودی، اسلامی الغرض اس خطے میں تاریخ رکھنے والے ہر مذہب کے تاریخی اثرات اور یہاں پر حاکم رہنے والی ہر قوم کے ثقافتی اثرات موجود ہیں مگر اہل یونان اپنا شجرہ نہ اپنے ترک سابقہ حاکموں سے جوڑنا چاہتے ہیں نہ ہی اس سے پہلے کے عیسائی حکمرانوں سے۔

حالانکہ اہل یونان کا مذہب آج بھی عیسائیت ہے۔ وہ تو خود کو اہل رومہ سے بھی ممتاز رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے ماضی میں سب سے دلکش وہ قبل از مسیح کا دور ہے جب مقدونیہ کے سکندر نے عالم کو فتح کرنے کے لئے یورش کی تھی اور جو عہد ارسطو اور افلاطون کا تھا۔ وہ خالص یونانی عظمت کا دور تھا اور اب یونان کو محض جذبہ حب الوطنی کے زیر اثر ہی نہیں بلکہ سیاحوں کو اپنے وطن بلانے کے لئے بھی یہ ہی دور ہر پل یاد آتا ہے۔ مگر سکندر کی میراث حق وراثت ظاہر کرنے کے لئے ایک اور ملک بھی ربع صدی سے کوشش میں ہے جس کی وجہ سے ایک بڑی دلچسپ صورت حال نے یورپ میں جنم لیا۔

دراصل بات یہ ہے کہ مقدونیہ جو سکندر اعظم کی جائے پیدائش تھی، یونان کا ایک صوبہ ہے مگر اس سے متصل ایک علاقہ (جو پہلے سابقہ یوگو سلاویہ کا حصہ تھا اور اس کی تحلیل کے بعد سے ایک خودمختار ریاست ہے ) بھی مقدونیہ ہی کہلاتا ہے۔ یہ چھوٹا سا ملک پچیس سال تک یونان سے نام پر الجھا رہا۔ ناموں کی یہ لڑائی بٹ کڑاہی اور حافظ کے سوہن حلوے کے ناموں کی لڑائی سے زیادہ دلچسپ ہے کیونکہ لڑنے والی دو دکانیں یا دو کاروبار نہیں بلکہ دو ملک ہیں۔

اس چھوٹے سے ملک کا نام آج شمالی مقدونیہ ہے مگر یہ 2018 تک خود کو FYROM یعنی Former Yugoslav Republic of Macedonia یعنی سابقہ یوگو سلاو جمہوریہ مقدونیہ کہلانے پر مجبور تھا۔ ویسے یہ نام تو کاغذات میں تھا ورنہ اس وطن کو ہی سب مقدونیہ کہتے تھے۔ ہوتا یہ تھا کہ جب سیاح سوچتے ہیں کہ سکندر کی جنم بھومی گھومی جائے اور اس نظریے سے کتب یا انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہیں تو مقدونیہ کے عنوان سے یہ چھوٹا سا یورپ کا ملک ان کو فوراً مل جاتا ہے اور اس سے متصل یونان کے وسیع صوبے مقدونیہ پر ان کی نظر نہیں پڑتی۔

اس طرح بقول اہل یونان لوگ غلط جگہ گھوم آتے ہیں اور اس طرح یونان کا نقصان ہو جاتا ہے۔ یہ بڑی حد تک وہی صورت حال ہے جو کسی چھوٹے شہر یا قصبے کی کسی کھانے پینے کی دکان کی مشہوری کی صورت میں پیش آتی ہے۔ مشہور دکان کے آس پاس کوئی اور اسی نام کی یا ملتے جلتے نام کی دکان کھول لیتا ہے اور ممکنہ گاہکوں کے ایک حصے کو توڑ لیتا ہے۔ ایک زمانے میں ملتان کے ریلوے اسٹیشن پر حافظ کا سوہن حلوہ بیچنے والے کثرت سے ٹرین میں آیا کرتے۔

ان میں سے اکثر کے پاس کسی دوسرے ہی حافظ کے حلوے ہوتے جس کا نام ڈبے کے کسی کونے میں چھوٹا سا لکھا ہوتا اور حافظ بڑا بڑا لکھا ہوتا۔ یہی معاملہ کراچی کے مشہور دھورا جی کے گولا گنڈے کے ساتھ بھی ہے۔ کاروباری مسابقت کی یہ دوڑ عموماً کورٹ کچہری تک بھی پہنچتی ہے جہاں پر رجسٹرڈ ٹریڈ مارک اور دیگر طریقوں سے یہ معاملے سلجھائے جاتے ہیں۔ اہل یونان نے بھی مقدونیہ کو دق کر کے رکھ دیا تھا۔ یونان مستقل اس چھوٹے سے پڑوسی کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت کرتا رہا۔

جب مقدونیہ نے یہ کوشش کی کہ اپنا مکمل نام ”سابقہ یوگو سلاو جمہوریہ مقدونیہ“ سے بدل کر صرف ”جمہوریہ مقدونیہ“ کر لے تو یونان نے سر توڑ کوشش کر کے یہ ہونے سے رکوا دیا۔ اہل یونان اس ننھے سے ملک کو یا تو FYROM پکارتے ہیں یا پھر اس کے مرکزی شہر کے نام کی مناسبت سے Skopje۔ ان کو یہ ہر گز گوارا نہیں ہوتا کہ غلطی سے بھی اس چھوٹے سے پڑوسی کو مقدنیہ پکارا جائے۔ یہ مسئلہ بڑی مشکل سے 2018 میں سلجھا جب مقدونیہ نے اپنا نام شمالی مقدونیہ رکھا۔ اہل یونان آج بھی اس بات پر نالاں ہیں۔

روزنامہ نیو یارک ٹائمز کے مطابق خود مقدونیہ کی حکومت اس فکر میں ہے کہ جو بھی سیاح آئے، وہ اس وطن میں ہر طرف بڑا شاندار طرز تعمیر دیکھے اور اسے سکندر کی یاد آئے۔ اس مقصد سے ملک میں جگہ جگہ سکندر کے مجسمے لگائے گئے ہیں۔ Skopje شہر کے دریا میں تین بحری قزاقوں کے جہاز کی شکل کے ہوٹل بنائے گئے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی طرح ’لینڈ لاکڈ‘ اس ملک میں کبھی بحری قذاق تو ہوتے نہیں تھے تو یہ جہاز کس ماضی کی یادگار ہیں؟ شہر میں جو واحد قدیمی اصل آثار موجود ہیں وہ ترکوں کا بنایا ہوا بازار ہے جو سکندر کے بجائے مسلمان ترک حکمرانوں کی یادگار ہے۔

خیر تاریخ کے شو پیس بن جانے کے بعد سے اس نوع کے مزاحیہ مظاہرے ہر ملک میں عام ہیں۔ اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں نقلی سکے بیچنے والے سے لے کر کوئٹہ کے سرینا ہوٹل کی اینٹیک کی دکانوں تک ہر طرف ہی جعل سازی اور احمقانہ (اور سطحی قسم کی) ’کلچر کلچر‘ کی رٹ لگی ہے۔ چھٹیاں منانے اور ڈالر اور یورو اڑانے والے سیاح بڑی حد تک دور افتادہ اور غریب خطوں کے باسیوں کو اپنے جدید تہذیب میں ڈوبے خوفناک لمس سے تباہ کر دیتے ہیں۔

پھر ان خطوں کی حقیقی ثقافت ختم ہو کر صرف تجارت ہی تجارت رہ جاتی ہے۔ آج ہمارے ملک کے شمالی علاقہ جات میں جہاں جہاں سیاح کثرت سے جانے لگے ہیں، ان سب جگہوں پر ماحولیاتی آلودگی سے لے کر اخلاقی گراوٹ تک کا وائرس پھیل چکا ہے۔ اب ہر سیاحت زدہ ملک میں سیاحوں کی جیبوں سے نوٹ نکلوانے کے لئے ہزاروں جتن کیے جاتے ہیں۔ سڑک پر سکندر کا Costume پہنا ویٹر آپ کو مسکرا کر اپنے ہوٹل میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔ پھر سکندرکے مجسمے تو چوراہوں پر نصب ہو جاتے ہیں مگر کوئی حقیقی سکندر ان ملکوں میں جنم نہیں لیتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •