برداشت کے عالمی دن کے موقع پر۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

16 نومبر کو ہر سال برداشت کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد معاشرے میں برداشت، تحمل اور بردباری کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔ بلا شبہ عدم برداشت کا رویہ صحت مند کسی بھی معاشرے کے خدو خال مسخ کردیتا ہے، معاشر ہ لوگوں سے ملا کر تشکیل پاتا ہے۔ پر امن لوگ ہی پر امن معاشرے کی بنیادیں استوار کرتے ہیں۔ جھگڑالو قسم کے لوگ نہ صرف شخصی نقصان کرتے ہیں بلکہ معاشرتی امن بھی تبا ہ کرتے ہیں، ان کا جرم دوہرا نوعیت کاہے۔

ہمارے ہاں اخبارات کی شہ سرخیاں اس بات کی قلعی کھول دیتی ہے کہ ایک اسلامی ملک کے باشندوں میں کتنی قوت برداشت ہے جی ہاں! میرا اشارہ ان دل خراش خبروں کی طرف ہے جو عدم برداشت کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ ، چھوٹی چھوٹی باتوں پرگھریلو جھگڑے اور پھر یہ جھگڑے کسی بڑے خاندانی او ر معاشرتی المیے کا اباعث بن جاتے ہیں، ویسے تو ہمارے علما کرام تحمل و برداشت کے موضوع پر وقتاً فوقتاً خطبات کے ذریعے اپنے سننے والوں کی اخلاقی تربیت کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کا رویہ جا بجا دکھائی دیتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایسا کیوں ہے شاید اس کی بہت سی وجوہات ہیں اول : ہم وعظ و نصیحت کو ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں، دوم: شدید معاشی دباؤ کی بدولت متوسط طبقہ مسلسل ذہنی دباؤ میں رہتا ہے یہ، ذہنی دبا ؤ آدمی کو بلڈ پریشر اور ڈپریشن کے امراض میں مبتلا کر دیتے ہیں جو کسی بھی جھگڑے اور لڑائی کی اساس ثابت ہوتے ہیں۔ ، سوم :بحیثیت قوم ہماری اخلاقی تربیت اس معیاری سطح پر نہیں ہوئی جو اختلاف رائے کو سننے کا حوصلہ پیدا کرے، چہار :ناقص قانونی و عدالتی نظام ہے جس کے کمزور پہلووں کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی طاقت ور آدمی قانو ن کو ہاتھ میں لے کر ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کر دیتا ہے۔

یقیناً کچھ اور بھی وجوہات بھی ہوں گی جن کا احاطہ میرا قلم نہیں کرپایا ہے۔ بہرحال وجہ کوئی بھی ہو حکومت کو چاہیے کہ وہ برداشت تحمل اور بربادی کی تربیت کے لیے کوئی قومی پالیسی ترتیب دے، اس سلسلے میں قومی تعلیمی نصاب میں برداشت، تحمل اور بردباری کے موضوع پر پر اثر موا دشامل کر کے ہم نونہال وطن کو اختلاف رائے سننے او ر برداشت کرنے کی تربیت دے سکتے ہیں، علما کرام کو خصوصی ٹاسک دیا جائے کہ وہ اپنے خطبات میں قرآن و سنت کی روشنی میں تحمل اور برباری کے ثمرات بیان کریں، نیز ٹی وی شوز اور ٹی وی ڈراموں اور کمرشلز کے ذریعے ناظرین کی اخلاقی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔

معاشرے میں کتاب بینی کے رجحان کو فروغ دیا جائے، لکھاریوں اور دانشوروں کی تحریروں اور تقریروں کو وائرل کیاجائے، تاکہ لوگ جہالت اور کم علمی کے اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آئیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حکومت مذکورہ خطوط پر عمل پیرا ہو تو بہت جلد معاشرے میں مثبت تبدیلی رونما ہو جائے گی، لوگوں کے رویے بدل جائیں گے۔ قومی و بین الاقومی معاہدے کرنا، ہسپتال، سٹرکوں کا افتتاح کرنا ہی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی او رتہذیبی تربیتی کرنا بھی حکومت کی فرائض منصبی میں شامل ہے لوگ میں برداشت کا مادہ پیدا ہوگا تو قتل و غارت لڑائی مار کٹائی کے واقعات میں کمی ہوگی جس سے ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پر کام کا بوجھ میں کمی واقع ہوگی، اداروں کی مجموعی کارکردگی میں خاطرخواہ بہتری آئے گی۔ نیز لوگوں کے جان و مال کا تحفظ بھی ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •