نوجوانوں کے مسائل اور حکومتی وعدے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے جہاں اور بہت سے وعدے کیے تھے وہاں موصوف نے نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں مہیا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ جو دو سال گزرنے کے بعد بھی وفا نہیں ہوسکا اور نہ آئندہ ایسا ہونے کا کوئی چانس دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے نوجوان طبقے نے اس امید کے ساتھ خان صاحب کے تبدیلی مشن کا ساتھ دیا تھا کہ وہ ان کے روشن مستقبل کے لئے کوششیں کریں گے۔ نوجوان سمجھتے تھے کہ عمران خان کی سربراہی میں آنے والا دور ان کے لئے امید کی کرن ثابت ہوگا اور وہ اپنے خوابوں کی تعبیر پانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے جتنے بھی وعدے کیے تھے وہ ان کو ایک ایک کر کے بھول چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومت کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دے دیا ہے تاکہ وہ چھ ملین ڈالر کا قرض حاصل کرسکیں۔ یاد رہے عالمی مالیاتی ادارے نے بعض کڑی شراہط کے ساتھ پاکستان کو قرضہ دینے میں رضامندی ظاہر کی تھی جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں کٹوتی کے ساتھ صارفین کے لئے بجلی اور گیس کو مہنگا کرنا اور دیگر معاملات بھی شامل تھے۔

مختلف ذرایع کے مطابق اس وقت وفاق کے زیراہتمال سرکاری محکموں میں ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں لیکن حکومت ان پر بھرتی کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی اکثریت اپنی گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے اعلئی تعلیم حاصل نہیں کر سکتی اور میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد سرکاری محکموں میں کلرک یا ٹاہپسٹ بھرتی ہونے کو ترجیح دیتی ہے۔ اس طرع وہ اپنی زندگی کی گاڑی چلا کر اپنی فیملی کا پیٹ پالتی ہے۔ لیکن خان صاحب جو آئے دن ملک کے حالات بدلنے کے دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن انہوں نے سرکاری نوکریوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف پنجاب میں عثمان بزدار اور پی ٹی آئی کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے رشتے دار اور ووٹرز کو آؤٹ آف وے دھڑا دھڑ سرکاری محکموں میں ببھرتی کیا جا رہا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب وزیراعظم سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو موصوف نے اسے جائز عمل اور کرپشن سے مبرا قرار دے دیا۔ جبکہ اس طرع کی خلاف ضابطہ بھرتیاں میرٹ کے اصولوں کے سراسر منافی ہوتی ہیں۔

کیونکہ یہ بغیر کسی امتحان اور مروجہ قواعد کے منافی ہوتی ہیں۔ مروجہ قانون کے مطابق جب کسی سرکاری محکمے میں بھرتی کرنا مقصود ہوتی ہے تو قومی اخبارات میں اشتہار کے ذریعے اس کی تشہیر کی جاتی ہے تاکہ مطلوبہ معیار اور تعلیمی قابلیت پر پورے اترنے والے امیدار اپنی درخواستیں جمع کراسکیں۔ اس کے بعد ٹسٹ اور انٹرویو کے ذریعے اہلیت رکھنے والے امیدوار متعلقہ محکمے میں ملازمت کا استحقاق رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ انصاف اور میرٹ کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔

لیکن افسوس اس بات کا ملک کا وزیراعظم جو ایک طرف مدینے کی ریاست بنانے کی گردان کرتا رہتا ہے اور دوسری طرف اپنے آپ کو قوم کا باپ سمجھتا ہے لیکن پنجاب میں انصاف، میرٹ اور ظابطوں کی پامالی کو درست سمجھتا ہے۔ اس طرع کا رویہ روا رکھنا نہ تو باپ کہلانے والے کے شایان شان ہوتاہے اور نہ ہی مدینہ کی ریاست کے اصولوں اور روایات سے مطابقت رکھتا ہے۔ باپ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے پیمانے کے مطابق سب کو ایک نظر سے دیکھے۔

جہاں تک مدینہ کی ریاست بنانے کا تعلق ہے تو یہ بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس کے لئے اپنا مال اور جان انسانیت کی فلاح کے لئے وقف کرنے پڑھتے ہیں۔ صرف ہاتھ میں تسبیح پکڑنے سے مدینے کی ریاست نہیں بن جاتی بلکہ اس کے لئے حاکم وقت کو ریاست کے ایک ایک فرد کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ رات کو بھیس بدل کر بستیوں کا دورہ کر کے لوگوں تک ان کی ضرورت کے مطابق مال و اسباب مہیا کرنا پڑتا ہے۔ جناب وزیراعظم اگر مدینہ کی ریاست بنانے میں سنجیدہ ہیں تو پہلے خلفا راشدین کی حیات طیبہ اور ان کے طرز حکمرانی کا مطالعہ فرمالیں تاکہ ان کو اس سلسلے میں راہنمائی حاصل ہو سکے۔

خان صاحب نے کرکٹ کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں لیکن سیاست کے میدان میں ان کی اب تک کی اننگ کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑ سکی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی معاشی ٹیم میں ملک کے نامی گرامی نام شامل کیے تاکہ معیشت کو جمود سے نکالا جاسکے لیکن ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ معاشی پالیسی اور خارجہ پالیسی کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے کیونکہ اگر کسی ملک کی خارجہ پالیسی کامیاب ہوتی ہے تو معیشت بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجاتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان اس وقت قیادت کے فقدان اور مبہم خارجہ پالیسی کی بدولت خارجی محاذ پر بالکل تنہا کھڑا ہے۔ ہمارا اچھے اور برے وقتوں کا دوست سعودی عرب ہم سے ناراض ہو چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات سردمہری کا شکار ہیں۔ لیکن ہمارے حکمران چین کی بانسری بجانے میں مصروف ہیں۔ جناب وزیراعظم اور ان کے ساتھی ماضی کے حکمرانوں کو چور اور بے ایمان ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں لیکن ان کا دور حکومت موجودہ دور سے بہت بہتر تھا کیونکہ ماضی میں پاکستان معاشی، اقتصادی اور خارجہ امور میں ترقی کی شاہراہ پر رواں دواں تھا۔

حکمران معاشی اشاریوں میں بہتری کی نوید سنانے میں مصروف ہیں مگر گراؤنڈ پر حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ غربت، افلاس اور مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ نوجوان طبقہ بے روزگاری کی وجہ سے فرسٹریشن کا شکار ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت احساس پروگرام اور کامیاب جوان پروگرام کے تحت کسی حد تک لوگوں کو مراعات تو مہیا کررہی ہے لیکن یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے اس کے لئے نوجوان طبقے کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لئے جامع کوششیں کرنی ہوں گی ۔ تاکہ ان کے دکھوں کا مداوا ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بشیر اعوان کی دیگر تحریریں