پی ڈی ایم اجلاس میں مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ کے مابین شدید تلخ کلامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف صحافی اسد اللہ خان وزیر کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات پی ڈی ایم کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمن اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ اجلاس کے دوران جب ریاستی اداروں کی سیاست میں مداخلت، گلگت بلتستان الیکشن، مسئلہ کشمیر اور فاٹا انضمام کے حوالے سے بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان بحث شروع ہو گئی۔

ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں مولانا فضل الرحمن نے فاٹا انضمام مغربی ایجنڈا قرار دیا تو محسن داوڑ نے مداخلت کی اور کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے متنازع ایشوز پر بات نہیں کرنی چاہیے اور فاٹا انضمام قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق ہوا ہے۔ محسن داوڑ نے ٹروتھ کمیشن کو پی ڈی ایم کے مطالبے سے نکالنے پر بھی سوال اٹھایا۔ مولانا نے محسن داوڑ سے کہا کہ جب ملٹری آپریشنز اور فاٹا انضمام ہو رہا تھا تب میں اکیلا ان کے خلاف لڑ رہا تھا، تب آپ انہی اداروں اور فوج کے بیانیہ کے ساتھ کھڑے تھے۔۔

یاد رہے کہ فاٹا انضام کی حمایت ،جے یو آئی اور پی کے میپ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے کی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کیا مولانا صاحب ان تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اس مغربی ایجنڈے میں شریک جرم تصور کرتے ہیں؟ اگر کرتے ہیں تو کیا ان کا ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد خود مولانا کے بیانیے کے خلاف نہیں جاتا؟

ذرائع کے مطابق بحث یہاں نہیں رکی بلکہ مولانا نے پی ٹی ایم کے میران شاہ جلسے پر بھی سوال اٹھایا کہ میرے ایم این ایز کو وہاں جلسہ نہیں کرنے دیا جارہا جبکہ پی ٹی ایم نے وہاں جلسہ بھی کیا اور ریاستی اداروں سے کسی مزاحمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ جس کے جواب میں محسن داوڑ نے کہا کہ انہوں نے یہ جلسہ اپنے زور بازو سے کیا ہے۔ ایف آئی آرز کٹی ہیں، سیکیورٹی کے بغیر خود جلسہ کیا ہے، مشران کو جگہ جگہ روکا گیا ہے۔ جس پر مولانا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے بازووں کا زور معلوم ہے۔ جب میں اکیلا ملٹری آپریشنز کے خلاف لڑ رہا تھا تب اب ان کے ہی بیانیے کے ساتھ کھڑے تھے۔

مولانا نے محسن دواڑ کی پی ڈی ایم جلسوں اور اجلاسوں میں شرکت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ کو اب تک کون اور کس حیثیت میں پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں بلا رہے ہیں۔ نیز یہ کہ آج کے سربراہی اجلاس میں آپ کی پارٹی کے سربراہ کو آنا چاہیے تھا، آپ کیوں آئے ہیں۔ جس پر محسن دواڑ نے جواب دیا کہ میں آزاد حیثیت سے شرکت کر رہا ہوں اور آزاد حیثیت سے آیا ہوں۔ میں اپنے جنگ زدہ پشتونوں کی نمائندگی کرنے آیا ہوں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا نے محسن دواڑ سے کہا کہ آپ آئندہ آنے کی تکلیف اور زحمت نہ کریں۔

یاد رہے کہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے واضح کیا تھا کہ پی ٹی ایم کو نہ دعوت دی گئی ہے اور نہ وہ پی ڈی ایم کا حصہ ہے اور محسن داوڑ آزاد حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔ منظور پشتین کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی سیاسی جماعتیں پی ٹی ایم کو تسلیم نہیں کرتی تو ہم کس طرح شرکت کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •